داستان ایک ڈاکے کی


زندگی کا سفر طویل ہے۔ اس سفر میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ مقام آتے ہیں۔ تغیرات آتے ہیں۔ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن وقت ظالم ہے۔ یہ دل کے قریب رہنے والے لوگ چھین لیتا ہے، وہ چہرے بھی چھین لیتا ہے جن کے بغیر ہم زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ان کی جگہ نئے چہرے آ جاتے ہیں۔ یہ گھر، محلہ، شہر اور کبھی ملک بھی چھین لیتا ہے۔ جس مٹی کی خوشبو سے ہمارے اندر قوس قزح کے رنگوں کی لہریں اور نہریں بہتی ہیں وہ بھی چھوڑنی پڑتی ہے۔ وقت کی یہی خوبی یا خامی ہے کہ جو لمحہ گزر گیا وہ واپس نہیں آتا۔

ہمارا لڑکپن کا یا نئی نئی ”جوانی“ کا دور بھی عجیب تھا۔ سمارٹ فون نہیں تھے۔ بڑی سے بڑی تفریح ٹیلیویژن ہوتی تھی۔ وہ بھی سرکاری۔ کبھی کبھار بڑی فلم دیکھنا بہت بڑی عیاشی تھی۔

اس زمانے میں رات 10۔ 9 بجے آدھی رات ہو جاتی تھی۔

وہ زندگی موجودہ زندگی سے مختلف تھی۔ لاہور کے ہر علاقے کے ساتھ کھیت ہوتے تھے یا باغ ہوتے تھے۔ ہمارے بھی علاقے کے ارد گرد کھیت تھے اور لوکاٹ کا ایک بڑا باغ تھا۔ ہم دوست اکثر اپنی شامیں باغ میں گپ شپ کر کے گزارتے تھے۔ یہی سب سے بڑی تفریح تھی۔

محلے میں ہم دوستوں کے ”گینگ“ کے اوپر دو ”گینگ“ اور تھے۔ یعنی دوستی کے تعلقات تین سطحوں پر پھیلے ہوئے تھے۔ ہم سب دوستوں کے ابے نمازی تھے اور آپس میں گہرے دوست تھے۔ میرے والد گرامی بھی بابوں کی ٹیم کا حصہ تھے۔ دوسرا گینگ یا دوسری سطح بڑے بھائیوں کی تھی۔ ہم دوستوں کے بڑے بھائی آپس میں دوست تھے اور سب سے فعال گینگ ہمارا تھا۔ ہم سات آٹھ لڑکوں کا گینگ تھا۔ ادھر ادھر گلیوں میں مٹر گشت کرتے نظر آتے تھے۔ علاقے میں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ہم لڑکوں میں جہاں دوستی اور چاہت تھی وہیں اپنی طاقت دکھانے کا زعم بھی تھا۔ اور ایک طرح سے رقابت بھی تھی۔ آپس میں ہم ’کشتیاں‘ کر کے ایک دوسرے کی طاقت آزماتے رہتے تھے۔ ہم میں سے ایک دوست کا نام سلیم (اصل نام نہیں) تھا۔ ہم سب غریب گھروں کے لوگ تھے اور پیسہ کمانا چاہتے تھے۔ اچھی زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ لیکن غربت ہماری ہڈیوں تک سرایت کیے ہوئے تھی۔ دوسرے دوست کا نام شہباز تھا۔ گٹھے ہوئے بدن والا۔ موٹا۔ بے پناہ طاقت کا مالک۔ اس کو میں ڈھگے کے نام سے چھیڑتا تھا۔ تیسرا دوست لمبا تھا اسے ہم الیاس کہہ سکتے ہیں پھرتیلا تھا۔ اور چوتھا دوست بھی مضبوط جسم کا مالک تھا لیکن قد میں تھوڑا سا چھوٹا تھا۔ اسے ہم ملاں کہتے تھے۔ باقی اور دوست بھی تھے لیکن اس کہانی سے ان کا تعلق نہیں۔

سلیم بڑا پرجوش ’منصوبہ ساز‘ تھا۔ کہتا تھا ہر حال میں غربت ختم کرنی ہے بھلے ڈاکے ہی کیوں نہ مارنے پڑیں۔ وہ ہر روز ڈاکا مارنے کا نیا منصوبہ لے کر آتا۔ ڈاکے کے دوران جو ڈائیلاگ بولنے ہوتے اس کی بھی پریکٹس کرنے پر زور دیتا۔ میرے دوستوں میں شاید ہی کوئی سکول گیا ہو گا سوائے میرے۔ دوران بحث سلیم کا موقف ہوتا تھا کہ ڈاکے کے دوران پکڑے جانے کے خطرے کی صورت میں بندے کو مار دینا چاہیے۔ یہیں سے اس کے اور میرے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے یہاں تک کہ ہم اکثر ہاتھا پائی کرنے لگ جاتے۔ ایک بار ہاتھا پائی میں اس کی ایک انگلی میں مستقل درد رہنے لگا تھا۔ جس کا اسے بہت رنج تھا۔ میرا موقف تھا کہ پیسوں کی خاطر کسی کی جان نہیں لی جا سکتی۔

ایک دن بال کٹوانے گیا تو حجام کی دکان پر لوگ ایک ڈاکے کے بارے میں دلچسپ انداز میں گفتگو کر رہے تھے کہ محلے کے فلاں گھر میں گزشتہ رات ڈاکو آ گئے تھے۔ ان دنوں 9 بجے آدھی رات ہو جاتی تھی۔ 1965 کی جنگ میں ایمرجنسی لگائی گئی تھی جو بیس سال سے زیادہ عرصہ رہی۔ رات 8۔ 9 بجے تک دکانیں بند ہو جاتی تھیں۔ جب یہ واقعہ ہوا وہ شدید سردیوں کے دن تھے۔ کسی نے رات 10 بجے باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بندہ کمرے سے نکل کر صحن میں آیا تو ڈاکوؤں نے، جو کہ منصوبے کے تحت پہلے ہی صحن میں موجود تھے۔ اسے دبوچنے کی کوشش کی۔ ایک ڈاکو کے پاس ایک زنگ آلود پرانا خنجر تھا۔ وہ گھبراہٹ میں اپنا ڈائیلاگ بھول گیا۔ اس نے بندے کو خنجر دکھاتے ہوئے کہا ”خبردار! آواز نکالی تو ’گولی‘ مار دوں گا“ ۔ صاحب خانہ نے اچانک افتاد دیکھی تو اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ ساتھ والے گھر سے لوگ دیوار کے اوپر سے جھانکنا شروع ہو گئے اور ڈاکوؤں کو دیکھ شور مچا دیا۔ ڈاکو گھبرا کر بھاگ نکلے۔ اب کچھ تو چھلانگیں لگا کر دیواریں پھلانگ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک سے دیوار نہ پھلانگی گئی۔ تو اس نے اس زور سے دھکے لگائے کہ دیوار ہی گرا دی۔ حجام کی دکان میں یہ بھی ڈسکس ہوا کہ ڈاکو کوئی ”اناڑی“ اور ”تھوڑ پونجیے“ تھے۔ اپنی قینچی چپلیں بھی چھوڑ گئے تھے۔

اگلے روز دوست ملے تو چہروں پر ہوائیاں اڑ رہیں تھیں۔ کچھ عجیب سے اشاروں کنایوں میں باتیں کر رہے تھے۔ آخر کار جرم کہاں چھپتا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کا ذکر نہ کرنے کی قسمیں کھائی ہوئیں تھیں پھر بھی مجھ سے پورا واقعہ بیان کر دیا کہ محلے کے فلاں گھر میں گھسنے والے ڈاکو وہی تھے۔ جس ڈاکو نے دیوار گرائی تھی وہ ڈھگا تھا (اللہ اس کی مغفرت کرے)۔ دیوار تو اس سے پھلانگی نہ گئی، اس نے دیوار ہی گرا دی۔

سلیم تو اس واقعے کے تقریباً چھ مہینے بعد فوت ہو گیا تھا۔ دوسرے دو دوست بھی فوت ہو چکے ہیں۔ ایک دوست انہی دنوں یورپ چلا گیا تھا اور اس کی کوئی خبر نہیں۔

اس وقت اگر وہ لڑکے پکڑے جاتے تو میرا نام بھی ضرور شامل ہو جاتا۔ سب کے والد نیک اور پرہیز گار تھے۔ بڑے بھائی بھی شریف لوگ تھے اور ہم میں سے ایک نے سب کو بگاڑنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ سلیم کی موت بھی ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئی تھی جس کے بارے میں کبھی لکھوں گا۔

Facebook Comments HS