آج بخشو بہت خوش ہے


آج بخشو بہت خوش ہے خوشی کے مارے اس کے پاؤں زمین پر نہی ٹک رہے برسوں سے بڑے صاب کی خدمت میں سب کچھ قربان کر رکھا ہے اپنی عزت تک کی کبھی پرواہ نہی کی اب اس سے بڑی قربانی کیا دیتا بیچارہ بخشو کے اس کی بیٹی کو صاحب کے کارندے اٹھا کر لے گئے لیکن سترہ سال گزرنے کے باوجود صاب اسے چھوڑنے کی بات بھی سننے پر تیار نہی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے بڑے صاب اس سے محبت بھی تو کرتے ہیں اور عید بکرا عید پر عیدی ہی بھیجتے رہتے ہیں اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہے لیکن اس بار تو کمال ہو گیا یعنی بڑے صاب نے اپنوں کے مجمع میں بخشو کی تعریف کردی کہ اس کی مدد سے ایک خطرناک قاتل کو پکڑ لیا اصل میں قاتل سے اور اس کے بڑوں سے بخشو کی اور اس کے صاب کی پرانی جان پہچان تھی وہی عید شب رات پر عیدی کا سلسلہ پھر بڑے صاب کا موڈ بدلا تو بخشو تو ان کا بے دام غلام ٹھہرا اس کا بھی موڈ بدل گیا لیکن پرانی جان پہچان تو تھی نہ اسی بنا پر وہ بندہ بخشو نے پکڑ لیا لیکن یہ وہ شکار ہے کسے وہ چکھ نہی سکتا اور بڑے صاب نے سیٹی مار دی ہے تو اسی طرح ان کے قدموں میں ڈال کر آئے گا شاید بڑے صاب پیار سے اس پر ہاتھ ہی پھیر دیں

ویسے بھی بخشو بڑا پریشان تھا جب سے وہ پنڈ کے پچھلے نمبردار کو اپنے پہلوانوں کی مدد سے دھوبی پٹکہ دے کر پچھاڑ کے خود نمبردار بن بیٹھا تب سے بڑے صاب کے مصاحب پرانے نمبردار کے ساتھ مقابلے میں ہوئی دھاندلی پر اسے مسلسل چڑا رہے تھے اور بخشو کسی موقع کی تلاش میں تھا کہ اسے بھی کوئی موقع مل جائے تو وہ بھی ثابت کر دے کہ وہ بھی کسی سے کم نہی اور بڑے صاب کی نظروں میں آ جائے وہ کسی طرح اور اس عید پر اگر تھوڑی سی عیدی بھی مل جائے تو وارے نیارے ہو جائیں

بخشو بھی کیا کرے اس سے پہلے جو بھی نمبردار آئے وہ یہی تو کرتے رہے ایک نے اپنے گھر سے کانسی کا پتلا اٹھا کر انہیں دے دیا کوئی پہاڑوں پر چھڑی جنگ سے پیچھے ہٹ گیا کسی نے صاب کو ہی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ اپنے کتوں سے ان کی زمین پر شکار کر لے جسے چاہے اٹھا لے جسے چاہے گاڑ دے بڑے عرصے تک وہ اسی پنڈ میں شکار کھیلتے رہے پھر پنڈ کے لوگوں کے شور مچانے پر یہ سلسلہ بند ہوا بڑے صاب کی راجدھانی میں کوئی تباہی آئی پتہ نہی کیسے آئی اور کون لایا یہ تباہی لیکن بڑے صاب کو بخشو کے پنڈ کے ساتھ والے پنڈ کے ایک بندے پر شک ہوا اور بڑے صاب نے وہاں بڑی تباہی مچائی حالانکہ وہ بھی بڑے صاب کے پرانے نمک خوارِ تھے ان کو پال پوس کر بڑا کرنے انہیں بم بندوق چلانا سکھانے کا سارا۔

کام بخشو نے ہی بڑے صاب کے کہنے پر کیا تھا اس میں بخشو کی بھی تو پھٹی لگ رہی تھی اور صاب کا بھی کام نکل رہا تھا لیکن کیا کریں کہ وہ نمک خوار بخشو کی طرح تابعدار نہی تھا وہ اکڑ گیا تو اخر کار صاب کو ہی اپنا مال اسباب چھوڑ کر وہاں سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا لیکن جاتے جاتے بھی ایک شریف نے صاب کے کافی بندوں کو ٹپکا دیا اب صاب خود تو کچھ کر نہی سکتا تھا اور اس طرح بخشو کو موقع مل گیا کہ وہ بھی اپنے نمبر ٹانک لے تو یہ موقع وہ کیسے ہاتھ سے جانے دیتا ویسے بھی بڑے صاب کے آس پاس پرانے نمبردار کے حامی بڑھ رہے تھے ویسے کی بھی بخشو نے زیادتی تھی وہ تو سرپنچ ہی اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے تو بخشو نمبردار بن گیا ورنہ پنڈ کے لوگ تو اس کے پچھلوں سے بھی تنگ تھے لیکن اب وہ نمبردار ہے اور اسے ماننا پڑے گا نہ بھی مانو تو کوئی فرق نہی پڑتا اسے پتہ ہے کہ اسے کوئی نہی مانتا لیکن اگر یہ بات بیچ چوراہے میں کردی تو چور کی سزا بھی کیا ہوگی جو اس کو سزا ملتی ہے اس وجہ سے اب بخشو کو زعم ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ گئی ہے پنڈ کے لوگوں پر جبکہ یہ سرپنچوں کا خوف ہے جو لوگوں کو دبائے ہوئے ہے ورنہ کیا بات کر نہی آتی

لیکن بخشو کو خوشی میں یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے اگلے سرپنچوں نے اس سے بھی بڑھ کر قربانیاں دی تھیں اور صاب تعریف بھی کرتے رہے لیکن پھر بھی نیا نمبردار آ جاتا اور ہر نمبردار اس زعم میں برباد ہو گیا کہ وہ صاب کا سب سے بڑا وفادار ہے اور صاب اسے کبھی اکیلا نہی چھوڑیں گے بس یہی زعم ہر بخشو کو لے ڈوبا لیکن آج بخشو بہت خوش ہے تو اسے خوش رہنے سے کون روک سکتا ہے

Facebook Comments HS