بورے والا کا نیم دیہاتی ماحول

اُن دنوں بورے والا ایک سمٹا سمٹایا چھوٹا سا شہر ہوا کرتا تھا۔ گول چوک سے لے کر عارف بازار پرانا ڈاک خانہ چوک پر ختم ہو جاتا تھا۔ اسی طرح وہاڑی بازار قصائیوں والے چوک پر اختتام پذیر ہوجاتا اور ریل بازار کپڑا مارکیٹ تک ہی محدود تھا۔ کپڑا مارکیٹ کی جگہ ایک کھلا گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ ہی ایک سرائے موجود تھی۔ دیہات سے زمین دار اور کسان اپنی فصل اپنی بیل گاڑی پر لاد کر منڈی لایا کرتے تھے۔
انگریز بادشاہ نے شہر کا کمال نقشہ بنایا تھا۔ ریلوے سٹیشن کے ساتھ غلہ منڈی تھی تاکہ نقل و حمل کے لیے زرعی اجناس کو ریلوے سٹیشن تک پہنچانے اور وہاں سے لانے میں آسانی رہے۔ ان اجناس کی نقل و حمل زیادہ تر مال گاڑیوں کے ذریعے ہی ہوا کرتی تھی۔ آڑھت کی ہر دکان کے اوپر ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ جس میں آڑھتی کی رہائش ہوا کرتی تھی۔ منڈی میں زرعی اجناس لے کر آنے والے بیوپاریوں اور کسانوں کی رہائش کے لئے اس کے بالکل ساتھ ہی ایک کاروان سرائے تعمیر کی گئی تھی۔ جہاں انہیں معمولی سے کرائے پر رہنے کے لئے کمرہ مل جایا کرتا تھا اور اس سرائے میں مقیم مسافروں کی تفریح طبع کے لیے ساتھ ہی ایک کھلا گراؤنڈ موجود تھا۔ گرمیوں کی شاموں میں یہ گراؤنڈ خوب آباد ہوتا۔ مالشیئے تیل مالش کی آواز کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تیل کی بوتلوں والے ڈبے کو اس انداز میں چھنکایا کرتے تھے کہ مالش کروانے کے لیے ہر ایک کا دل مچل جاتا۔ اس گراؤنڈ میں اکثر لوگ شام کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ تیل مالش کروانے کا لطف بھی اٹھاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ یہ مالشیئے اپنے فن میں اس قدر طاق ہوا کرتے تھے کہ اکثر لوگ مالش کرواتے کرواتے ہی سو جایا کرتے تھے اور بعض اوقات توان کے ساتھ ہی ان کا مالشیا بھی سویا ہوا نظر آتا تھا۔
جہاں پر آج کل گرلز کالج، ٹی۔ ایچ۔ کیو ہسپتال ماڈل ٹاؤن اور سٹیڈیم موجود ہے
اس وسیع و عریض علاقے میں پھل دار درختوں کے سرکاری باغات ہوا کرتے تھے۔ ان باغات کے درمیان شہریوں کے سیر کرنے کے لئے باقاعدہ روشیں بنائی گئی تھیں۔ یہ باغات نہایت سستے داموں عام لوگوں کو اس شرط کے ساتھ ٹھیکے پر دیے جاتے کہ وہ شہریوں کو یہاں پر سیر کرنے کے حق سے محروم نہیں کریں گے۔
سٹیڈیم روڈ اور وہاڑی روڈ کے سنگم پر استاد داری کا اکھاڑہ ہوا کرتا تھا۔ جہاں پر شام کو پہلوان کشتی کی تربیت حاصل کیا کرتے تھے۔ رمضان پہلوان، عاشق پہلوان، ساقی پہلوان اور ماموں پہلوان اس اکھاڑے کی معروف شخصیات ہوا کرتی تھیں۔ اسی طرح کالج گراؤنڈ میں بھی استاد خلیفہ کا ایک اکھاڑہ ہوا کرتا تھا۔ جہان خلیفہ جی کے پٹھے فن ِ پہلوانی کی مختلف منازل عبور کرتے ہوئے نظر آتے۔
ہر جمعہ کی شام کو جوئیہ روڈ اور ریلوے سٹیشن کے درمیان پڑے ہوئے خالی میدان میں ان دونوں اکھاڑوں کے پہلوانوں کے مقابلے کروائے جاتے تھے۔ دونوں استاد گلابی رنگت کی طرہوں والی پگڑیاں باندھ کر اپنے اپنے پٹھوں کے ساتھ یہاں پر بنائے گئے اکھاڑے کے گرد ایک دوسرے کے آمنے سامنے براجمان ہوتے۔ اکھاڑے سے بیس پچیس فٹ جگہ چھوڑ کر تماشائی اس کے اردگرد دائرے کی صورت میں جمع ہوا کرتے تھے۔ ایک غیر جانبدار ریفری کی موجودگی میں طرفین میں سے ایک ایک پہلوان کو کشتی کے لیے نکالا جاتا۔ ریفری ان دونوں پہلوانوں کا تعارف کرواتا۔ دونوں پہلوان اپنے اپنے استاد کے پاؤں چھو کر اکھاڑے میں اُترتے۔ ایک دوسرے کے اجسام کو اچھی طرح مٹی کے ساتھ لت پت کرتے اور ہتھ جوڑی کر کے کشتی کا باقاعدہ آغاز کر دیتے۔ اس مقابلے کے اختتام پر ریفری باقاعدہ طور پر جیتنے والے کے نام کا اعلان کرتا اور کامیاب ہونے والا پہلوان فخریہ انداز میں اکھاڑے کے گرد چکر لگایا کرتا اور تماشائیوں میں سے کچھ لوگ اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اُسے ایک ایک روپے کا نوٹ انعام کے طور پر دیا کرتے تھے۔ اسی گراؤنڈ میں سائیکل چلانے والے کئی دنوں تک لگاتار سائیکل چلا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور معمولی سی مالی مدد کی صورت میں شائقین سے داد وصول کر لیا کرتے تھے۔
ان کشتیوں کا ایک لازمی جزو فرید خان اور جیلو پہلوان کی فری اسٹائل کشتی ہوا کرتی تھی۔ اس کشتی میں تھوڑی بہت مارکٹائی اور فلائنگ کک کا استعمال بھی آزادانہ کیا جاتا تھا۔ عموماً اس کشتی کا اختتام فرید خان کی جیت پر ہوا کرتا تھا۔
مدتوں بعد میں نے کلب جانا شروع کیا تو وہاں پر فرید خان صاحب سے ملاقات ہوئی جو اب میجر فرید خان تھے۔ میں نے اُن سے سرسری انداز میں پوچھ لیا کہ میجر صاحب وہ فری سٹائل کشتیاں جن میں آپ اکثر جیت جایا کرتے تھے۔ نورا کشتی ہوا کرتی تھی۔ تھوڑی دیر خاموشی سے میری طرف دیکھنے کے بعد انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میرے لیے یہ بڑے تعجب کی بات تھی۔
بورے والا کی واحد ایڈورٹائزنگ ایجنسی بابا کدھو اور اس کی ٹلی پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ بابا کدھو اپنے نام کی مناسبت سے چھوٹے سے قد کے ساتھ ایک بڑی توند کا حامل موٹا شخص تھا۔ وہ مشہوری کرنے کی غرض سے اپنی ٹلی کے ساتھ بازار میں آتا ٹلی بجاتے ہوئے اپنے کام کا آغاز اس فقرے کے ساتھ کرتا کہ بل بل بل لوکاں دیاں ٹلیاں تے بابے کدھو دا ٹل، اور جب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے تو اس کے بعد وہ متعلقہ ایڈورٹائزمنٹ بڑے مزاحیہ انداز میں کیا کرتا تھا۔ مثلاً منادی ملاحظہ فرمائیں، یہ ڈاکٹر شیر علی کی دکان ہے یہاں پر بیمار دانت اور داڑھوں کا علاج کیا جاتا ہے اور حسبِ ضرورت انہیں بغیر درد کے اکھاڑا جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار صحت مند دانت اور داڑھیں بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس لیے دانت نکلواتے وقت خود ہی ہوشیار باش رہیں۔
اس وقت کے شہر کی آبادی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پورے شہر کی گوشت کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک گائے روزانہ ذبح کی جاتی تھی اور لوگوں کی اکثریت یہاں سے پاؤ ڈیڑھ پاؤ یا آدھا کلو گوشت خریدا کرتی تھی۔ ایک کلو گوشت کے خریداروں کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی۔ اُن دنوں گائے کا گوشت دو روپے کلو، بکرے کا گوشت چار روپے کلو، اور دیسی گھی بھی چار روپے کلو فروخت ہوا کرتا تھا۔ بناسپتی گھی کا کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ ذبح کی جانے والی گائے کی ایک روز پہلے اس کی کمر پر رنگین کپڑا ڈال کر شہر بھر میں نمائش کی جاتی اور بابا کدھو اس کے پیچھے پیچھے اپنی ٹلی کھڑکاتے ہوئے اگلے دن اس کے ذبح ہونے کا اعلان کر رہا ہوتا۔
بورے والا شہر میں صرف ایک سیاہ رنگ کی کار ہوا کرتی تھی۔ جو کبھی کبھار ہی بازار میں نظر آیا کرتی تھی۔ سبھی لوگ سائیکلوں پر، تانگوں پر، یا پیدل ہی چلا کرتے تھے۔ موٹر سائیکلوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہمارے سکول کا چپڑاسی نواب اور شہر کا امیر ترین سیٹھ دونوں ہی ایک جیسے سائیکلوں کو اپنی سواری کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ نہ صرف تمام شہریوں کا طرزِ زندگی نہایت سادہ اور تقریباً یکساں نوعیت کا ہوا کرتا تھا بلکہ شہر بھر میں بنے ہوئے مکانات کا ناک نقشہ بھی ایک دوسرے سے ملتا جلتا بلکہ ایک ہی طرح کا ہوتا تھا۔
شہر کے سبھی باسیوں کی ایک دوسرے کے خاندانی پس منظر سمیت آپس میں واقفیت اور شناسائی ہوا کرتی تھی۔ شہر کے مرکز گول چوک میں ایک چھوٹا سا پارک ہوا کرتا تھا۔ جس کے اندر لگائے گئے پیپل اور برگد کے دیو قامت درخت گرمیوں کے موسم میں دیہات سے آنے والوں کے لئے اپنی ٹھنڈی چھاؤں کا نذرانہ بڑی فراخ دلی سے پیش کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ باہر سے آنے والوں کے لیے بہترین پناہ گاہ بلکہ آرام گاہ ہوا کرتی تھی۔ اس پارک کے اردگرد جگہ جگہ سستا کھانا مہیا کرنے کے لیے ریڑھیاں اور ٹھیلے موجود ہوتے تھے۔ کٹا کٹ اور اوجھڑی یہاں کی مشہور خوراک تھی۔ گاؤں سے شہر آنے والے لوگ اس پارک میں درختوں کی چھاؤں میں پڑے ہوئے پتھر کے بنچوں پر بیٹھ کر تھوڑے سے پیسوں میں ہی اپنی پیٹ پوجا کر لیا کرتے تھے۔
لوگوں کی عزت و تکریم عصر حاضر کے برعکس اُن کے پاس موجود مال و دولت کی بجائے اُن کے کردار کی نسبت سے کی جایا کرتی تھی۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذرائع آمدنی کے بارے میں اکثر علم ہوا کرتا تھا۔ ناجائز طریقے سے دولت کما کر امیر بننے والے لوگوں کا رویہ عموماً معذرت خواہانہ سا ہوا کرتا تھا۔
بابا گھسی دوانی اور ماما کھوتی شہر کی معروف ہستیاں تھیں۔ یہ لوگ شہر میں جس طرف بھی نکل جاتے۔ لڑکے بالے ان لوگوں کو الٹے ناموں سے پکارتے۔ یہ لوگ اُن کو گالیاں نکالتے۔ ان کے پیچھے بھاگتے اور انہیں پتھر وغیرہ مارتے۔ اگر کسی دن ان لوگوں کو چھیڑنے والا کوئی نہ ملتا تو یہ خود انہیں ڈھونڈتے پھرتے۔
گرمیوں کی شاموں کو اکثر لوگ باہر گلی میں چارپائیاں نکال کر محفل جمایا کرتے اور رات کو یہیں پر ہی سو جایا کرتے تھے۔ بلکہ کہیں کہیں بازاروں میں بھی ایسی ہی محفلیں نظر آیا کرتی تھیں۔ شہر بھر میں دو بہروپیے ہوا کرتے تھے۔ اُن میں سے ایک تو اپنی ٹانگوں کے ساتھ لمبے بانس باندھ کر اپنے آپ کو زمین سے اس قدر بلندی پر لے جایا کرتا تھا کہ وہ بازار میں چلتے ہوئے چوباروں کے سامنے بنی ہوئی گیلریوں میں بآسانی جھانکتا ہوا چلتا جاتا اور ایک دوسرا بہروپ بدلنے والا اپنے چہرے پر سرخ رنگ اس طرح لگاتا کہ اس کا چہرہ خون میں لت پت دکھائی دیا کرتا تھا اور اس نے ایک اینٹ ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہوتی۔ وہ عموماً دیہاتیوں کو تاک کر اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اینٹ اُن کی طرف اس طرح الارتا کہ انہیں لگتا کہ وہ انہیں اینٹ دے مارے گا۔ وہ لوگ جنہیں اس کے بہروپ کا علم ہوتا وہ تو اس کو نظر انداز کر دیتے لیکن ناواقف دیہاتی خوف زدہ ہو کر اس کے آگے دوڑ پڑتے۔ ایسے لوگوں کا تعاقب کر کے یہ انہیں خوب ڈراتا۔ اپنے اپنے کرتب دکھانے کے بعد یہ دونوں بہروپیے نہا دھوکر دوبارہ بازار میں واپس آ جاتے اور باری باری ہر ایک دکان پر جاکر اُن سے دونی، چونی، اٹھنی بلکہ بعض دکانداروں سے تو روپیہ بھی وصول کرتے جاتے اور اپنے ہفتے عشرے کے نان نفقہ کا بندوبست کر لیتے۔
مغرب کے بعد ایک ٹانگ سے معذور ایک چھوٹے سے قد کا شخص بازاروں میں سے گزرتے ہوئے اللہ کی آواز اس قدر مترنم اور خوبصورت انداز میں لگایا کرتا کہ یوں لگتا جیسے کہ نہایت سریلی آواز میں حمد گائی جا رہی ہو۔ اس کی یہ گائیکی ایک سماں باندھ دیا کرتی تھی۔ بعض لوگ اس کی مٹھی میں سکے دے کر اس کی مالی مدد بھی کر دیا کرتے تھے۔ فقیروں کی تعداد عصرِ حاصر کے برعکس نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی۔
کوکاکولا اور پیپسی کی جگہ گولی والی سوڈا واٹر کی میٹھی اور کھاری بوتلیں ہوا کرتی تھیں۔ برانڈڈ اشیا کے متعارف نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں خریداری کے سلسلے میں مقابلہ بازی کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ بورے والا کا ماحول نیم دیہاتی سا ہوا کرتا تھا۔ جہاں زندگی نہایت سادہ سہل اور سست روی کا شکار تھی۔

