” بارہ ماسوں“ کی جمالیات اور شکیل الرحمٰن
شکیل الرحمٰن اُردو میں جمالیاتی تنقید کے نمائندہ ناقد ہیں۔ اس کام کے لئے وہ جمالیات کی نئی نئی شقیں دریافت کرتے رہتے ہیں اور موضوعات کے انتخاب میں اپنی جدت طرازی اور عمل مطالعہ کا لوہا بھی منواتے رہتے ہیں۔ اب کے انھوں نے ”بارہ ماسے“ کی جمالیات پر گفتگو کی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ چھوٹی سی کتاب ”اُردو میں بارہ ماسے کی روایات : مطالعہ و متن“ ان کی تخلیقی تنقید کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ دراصل شکیل الرحمٰن کی تحریریں تخلیقیت کے عناصر سے مملو نظر آتی ہیں۔ یہ تنقیدی طریقہ کار ان کے تخلیقی ذہن کا مرہون ہے۔ متن کے بنیادی تخلیقی رجحانات کی بازیافت میں ان کا ذہن حد درجہ متحرک و فعال نظر آتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کی نثر کی تخلیقیت سنجیدہ اور ذہین قاری کے فکر و شعور کو برانگیختہ کرتی رہتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کی معنویت ان کے مطالعے کے Selective approach اور فکر انگیز تخلیقی نثر کی مرہون ہے۔ جمیل جالبی ”تاریخ ادبِ اردو“ جلد اوّل میں بارہ ماسے کی فنی روایات اور اس کے آغاز و ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”بارہ ماسہ خالص ہندوی چیز ہے۔ سنسکرت میں اس کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ یہ خیال کہ“ بارہ ماسہ ”،“ رُت درشن ”کی ایک رو بہ زوال ہیئت ہے اس لئے صحیح نہیں ہے کہ“ رت درشن ”میں چار رتوں کا بیان ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف بارہ ماسہ میں ہر مہینے کا۔ پنجابی، ہریانوی، برج، اودھی اور اردو میں اس کی روایت ملتی ہے۔ گرو گرنتھ صاحب میں بھی بارہ ماسہ ملتے ہیں۔ بارہ ماسہ کی ایک قدیم طرز خواجہ مسعود سعد سلمان کے دیوان فارسی میں ملتی ہے جو مروجۂ حال بارہ ماسہ کی اصل مانی جا سکتی ہے اور جسے وہ“ غزلیات شہوریہ ”کے نام سے یاد کرتے ہیں۔“
یہ اقتباس صرف اس مقصد سے پیش کیا گیا ہے کہ اردو اور ہندوستان کی دیگر زبانوں میں موجود محفوظ اس قدیم اور Obsolete صنف سخن کی روایت اور اس کی ادبی قدر و قیمت آپ کے پیش نظر رہے۔ برصغیر کا قدیم کلاسیکی اور کسی حد تک زندہ ادبی روایت کا حامل تخلیقی ادب کا سرمایہ اگر آج بھی قابل توجہ اور دامن کششِ دل ہے تو صرف اس لئے کہ اس میں فرد زندگی اور سماج کے حوالے سے فنکاروں کی تخلیقی وابستگی اور اپروچ کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ورنہ گل و بلبل کی داستان سرائی سے تو ہزاروں صفحات بھرے پڑے ہیں جو محض تفنن طبع کے آئینہ دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم و ادب کے ان بزرگان سلف کے تخلیقی کارنامے آنے والی نسلوں کے لئے نشان راہ ثابت ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ شکیل الرحمٰن کے پیش نظر بھی زیر تبصرہ کتاب کا تصنیفی مطمح نظر یہی رہا ہو گا۔ ورنہ آج کی اس ادبی صارفیت کے زمانے میں بارہ ماسے کے متن سے گزرنے کی فرصت اور دلچسپی کس کو ہے؟ شکیل الرحمٰن بحیثیت مصنف ایک جوابدہ قلم کار ہیں جو قدیم ادب کے مطالعے اور اس کی اہمیت و افادیت کو اُجاگر کر کے اردو کی موجودہ ادبی نسل کو زبان و ادب کی کلاسیکیت سے باخبر کرتے رہتے ہیں۔
اردو میں بارہ ماسے کے تخلیقی سرمائے میں افضل کی ”بکٹ کہانی“ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بکٹ کہانی میں فراق و ہجر کی جو داستان سرائی کی گئی ہے شکیل الرحمٰن نے اس کو نشان زد کرتے ہوئے اس کے جمالیاتی کیف و کم کی نشاندہی بھی بڑی چابکدستی کے ساتھ کی ہے۔ بارہ ماسے میں شعر گوئی کی فنکارانہ مصوری ہر مہینے کے مہا کالی منظر نامے کے پیش نظر کی جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں فراق و ہجر کی داستان سرائی میں اندرونی دلدوزی کی فنکارانہ مصوری بھی اس طرح کی جاتی ہے کہ پیامن کی تڑپ ایک رومانی تڑپ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ خیال رہے کہ اس قسم کی فنی صورت گری میں سماجی وابستگیوں کے حوالے سے اخلاقی قدروں کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ ہر مہینے کے جو فطری اور محاکاتی تقاضے ہوتے ہیں ان کے پیش نظر بارہ ماسے کی زیریں لہروں میں موجزن جمالیاتی قدروں کی نشان دہی کرتے ہوئے شکیل الرحمٰن نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس پرسکون زمانے کے رومان پرور ماحول میں بھی عاشق و معشوق کے جذبہ و احساس میں کتنی پاکیزگی اور پاکدامنی تھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنس و نفس کے تخلیقی اظہار میں فنکاروں نے صحت مند اور صالح سماجی اور تہذیبی قدروں کو ہی پیش نظر رکھا۔ ظاہر ہے کہ جیسی تہذیب اور سماجی زندگی ہو گی ویسی ہی اس کی عکاسی ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ شکیل الرحمٰن کے نزدیک بارہ ماسے کے مطالعے کی اہمیت و افادیت کے لئے یہ بنیادی نکتہ پیش نظر رہا ہو گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ دوران مطالعہ فکر و فن کی تعبیر و تفہیم کے لئے انھوں نے جمالیات کو بنیاد بنایا۔ کیونکہ فنونِ لطیفہ کا نظام، بہر صورت جمالیاتی قدروں سے ہی مملو ہے۔ ذیل کے اس شعر کو ملاحظہ فرمائیے اور غور فرمائیے کہ ”بارہ ماسہ مقصود“ کے عنوان کے تحت شکیل الرحمٰن کی نگاہ نقد و نظر نے اپنے اختیار کردہ موقف کی ترسیل فکر و معنی کے لئے کتنے حسین و دلکش شعر کا انتخاب کیا:۔
بِرہ کی آگ سے بیتاب ہے دل
برنگِ قطرۂ سیماب ہے دل
اس شعر کی اشاراتی اور کنایاتی تخلیقی گفتگو کے پیشِ نظر پیا ملن تڑپ کو محسوس کیجئے اور محبوب کی اندرونی دلدوزی (Pathos) کو بھی محسوس کیجیے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وہ اندرونی دلدوزی ہے جو شعر میں برنگِ المیہ جمالیات کی تخلیقی فضا بندی کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بھی غور فرمائیے کہ سولہویں اور سترہویں صدی کے درمیان کہا گیا یہ شعر اپنے تمام تر فطری خد و خال اور حسن کے ساتھ ایک ادبی زبان کی صورت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ اردو میں لسانی اور تخلیقی نقطہ نظر سے فارسی آمیز تراکیب پر مشتمل شعر کہنا زبان کی شیرینی اور خواش آوازی کا ضامن ہوتا۔ مزید یہ کہ ”بارہ ماسہ“ جیسی صنف کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
افضل کے بارہ ماسہ کے علاوہ شکیل الرحمٰن نے عبد الغفور صنوبر بھوپالی کے بارہ ماسہ پر بھی گفتگو کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ ہجر و فراق اور وصل دونوں صورتوں میں پیتھوس اور المیہ ہی بارہ ماسہ کا بنیادی تخلیقی آہنگ ہے۔ گرونانک جی کے ”گروگرنتھ“ میں درج بارہ ماسہ خاصادلچسپ ہے۔ شکیل الرحمٰن نے ان بارہ ماسوں میں تصوف کی تخلیقی فضا بندی کی نشاندہی کی ہے جو فکر و مطالعہ کی جہت سے خاصا دلچسپ پہلو ہے۔ لکھتے ہیں کہ اکثر بارہ ماسہ میں خالقِ کائنات میں جذب ہو جانے کے لمحوں کا ذکر ہے۔ آگے چل کر گروگرنتھ صاحب کے بارہ ماسہ میں تصوف کی جمالیات کی نشاندہی کرتے ہوئے نہایت خوبصورت تجزیے کیے۔ چنانچہ گزشتہ سطور میں بارہ ماسہ کے تخلیقی تار و پود میں پاکیزگی اور پاکدامنی کی جو بات کہی گئی ہے اس کا اطلاق فکر و نظر کی اسی نہج پر ہوتا نظر آتا ہے۔
”عورت کہتی ہے اے مالک! میں اس مایا جال میں بری طرح پھنسی ہوئی ہوں، جو ہر جانب پھیلا ہوا ہے۔ میری حالت کا اندازہ تو کرو، میری زندگی تمھارے بغیر بھلا کیا اہمیت رکھتی ہے۔ میری یادوں میں تمھارے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ تمھارے بغیر بڑی اذیت میں گرفتار ہوں۔ بھلا یہ کون سی زندگی ہے میں ہر دم مایا جال میں پھنسی ہوں۔ آقا میری التجا سن لے۔“
شکیل الرحمٰن نے مایا جال کو پیا ملن کی مادّی توجیہہ پسندی سے تعبیر کیا ہے۔ ہر موسم میں بِرہ کی آگ میں جلتے اور تپتے ایک گھڑی ایسی آ جاتی ہے جب عورت روح کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں اس کا محبوب خالق کائنات کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟ عورت کے وجود میں ایک گہری ماورائیت کی فضا بنتی محسوس ہوتی ہے۔ اس فکر و فلسفہ کے پیش نظر شکیل الرحمٰن کا یہ اخذ کردہ نتیجہ بڑا فکر رسا ہے۔ ”ذکر چیت یا بیساکھ کا ہو یا جیٹھ یا اساڑھ کا یا ساون بھادوں کا یا بھاگن کا۔ پوری نظم میں جمالیاتی اظہار کی آزادی اور ماورائیت کے کے گہرے احساس کی پہچان ہوتی رہتی ہے۔“ اندازہ ہوتا ہے کہ گرونانک کے بارہ ماسہ میں تصوف کی جمالیات اور اس کے اقدار و فلسفہ کی جمالیاتی بازیافت اردو ادب میں شکیل الرحمٰن کا ایک منفرد فکری اور علمی کارنامہ ہے۔ فکر و نظر کی سطح پر ایک انوکھا تجربہ ہے۔
زیر ِ تبصرہ کتاب کے حوالے سے شکیل الرحمٰن کی فکر انگیز تخلیقی نثر کے چند نمونے حاضرِ خدمت ہیں۔
1ہندوستانی آرٹ میں بیانیہ کا سانچہ اہمیت رکھتا ہے۔ ”بارہ ماسہ“ بھی ایک بیانیہ ہے۔ یہ بیانیہ ایک کرداری ڈراما بھی ہے جس میں مصوری اور موسیقی کی ادائیں بھی موجود ہیں۔
2 یہ کہنا درست ہو گا کہ بارہ ماسوں کے تجربوں پر ڈرامائی شعائیں لطف دے جاتی ہیں۔
3 بارہ ماسوں میں زلیخائی شیریں دیوانگی ہے۔ مسئلہ جدائی کا ہے، فراق کا ہے۔ پوری فضا کی میلوڈی ایسی ہے کہ لگتا ہے کہ پیتھوس ہی نے اس چبھنے والی لیکن بہت شیریں میلوڈی کو خلق کیا ہے۔
اُردو کے معاصر تنقیدی سرمائے میں شکیل الرحمٰن کی کتاب ”اردو میں بارہ ماسے کی روایات : مطالعہ و متن“ بلاشبہ ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔


