عاصم رضا۔ پاکستان شوبز انڈسٹری کا معتبر نام


 

عاصم رضا پاکستان کی فلمی دنیا کا ایک معتبر نام ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اور فنی شعور سے نہ صرف سنیما کو نیا رنگ دیا بلکہ ہر منصوبے میں انسانی احساسات اور سماجی حقیقتوں کی کہانی بُنی۔ ان کی شخصیت میں فن کی گہرائی، فکر کی وسعت اور تخلیق کا جنون یوں سمٹ آیا ہے جیسے کوئی مصور اپنے کینوس پر رنگوں کو روح عطا کر رہا ہے۔

عاصم کا تخلیقی سفر آرکیٹیکچر کی سنگین دیواروں سے شروع ہوا۔ انہوں نے شروع میں تعمیرات کے فن کو سیکھتے ہوئے زندگی کے بنیادی اصولوں کو سمجھا۔ مگر ان کا دل ہمیشہ ان مناظر کی طرف مائل رہا جو صرف آنکھوں سے نہیں دل سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اینٹ اور گارے کی عمارتیں بنانے کے بعد انہوں نے انسانی جذبات اور خوابوں کے جہان کو اپنے فن کا مرکز بنایا۔ فلم میکنگ ان کے لیے ایک ایسی دنیا تھی جہاں ہر منظر ایک کہانی سناتا ہے اور ہر کردار زندگی کا عکس بن جاتا ہے۔

1994 کے بعد عاصم نے کمرشلز اور میوزک ویڈیوز کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنا شروع کیا۔ ان کا ہر کمرشل محض اشتہار نہیں بلکہ ایک مختصر کہانی بھی ہوتی ہے جس میں روشنی، رنگ اور جذبات اپنی زبان میں بات کرتے ہیں۔ کوکا کولا، لکس، سن سلک، موبی لنک اور دیگر معروف برانڈز کے اشتہارات میں عاصم کا منفرد انداز جھلکتا رہا۔ وہ انعامات کے پیچھے نہیں دوڑتے بلکہ اپنے کام کی روحانی تسکین کے متلاشی ہوتے ہیں۔

موسیقی کی دنیا میں بھی عاصم کی تخلیقی مہارت کا عکس نمایاں ہے۔ جنون کا گیت ”سیو نی“ ہو یا جنید جمشید، نجم شیراز، ابرار الحق اور حدیقہ کیانی کے نغمے، عاصم نے ہر ویڈیو کو جذبات کا ایسا منظرنامہ دیا جو سننے والے کے دل میں گھر کر جائے۔ ان کا ہر فریم کہانی کہتا ہے اور ہر سین سامعین کو ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے۔

1997 میں جب عاصم نے اپنی پروڈکشن کمپنی ”The Vision Factory“ کی بنیاد رکھی تو یہ صرف ایک ادارہ نہیں تھا بلکہ خواب دیکھنے والوں کا ایک مسکن تھا۔ یہاں انہوں نے نئے فنکاروں کو موقع دیا۔ ان کے خیالات کو پروان چڑھایا اور سنیما کو تازگی بخشی۔ ان کا وژن محض تفریح فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ دلوں میں احساس جگانا تھا۔

عاصم کی فلمیں معاشرتی پیچیدگیوں اور انسانی رشتوں کی عکاس ہوتی ہیں۔ وہ ان کہانیوں کو چنتے ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے لیے فلم صرف روشنیوں کا کھیل نہیں بلکہ روح کو چھونے والی ایک صدا ہے۔ ان کے کردار حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔ ان کے جذبات کچے دھاگے کی مانند دلوں میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

عاصم رضا کو میں نے شندور پراجیکٹ کی شوٹنگ کے دوران قریب سے دیکھا۔ وہ جب کام کر رہے ہوتے ہیں تو جیسے خود کو بھول جاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہوتی ہے جو صرف اپنے کام سے عشق رکھنے والے فنکاروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ وقت کی قید سے آزاد ہو کر اپنے کام میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ ہر شاٹ میں ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ ان کی تخلیقی محویت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا فن ان کے وجود کا حصہ بن چکا ہے۔

عاصم کی عظمت صرف ان کی تخلیقات میں نہیں بلکہ ان کی شخصیت میں بھی جھلکتی ہے۔ وہ پروٹوکول اور عہدوں کے سہارے نہیں اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھے ہیں۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے داماد ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اس تعلق کو اپنی شناخت کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ فنکار کی اصل پہچان اس کا کام ہوتا ہے نہ کہ رشتے یا عہدے۔

عاصم میرے لیے صرف ایک فلم میکر نہیں بلکہ ایک استاد ہیں۔ ان سے میں نے سیکھا کہ تخلیق کا عمل کس قدر مقدس ہوتا ہے۔ ان کی رہنمائی نے میری سوچ کو وسعت دی اور مجھے سکھایا کہ اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جو دلوں میں جگہ بنائے۔ عاصم کا فن، ان کا عزم اور ان کی سادگی سبھی مل کر انہیں ایک مکمل انسان بناتے ہیں۔ ان کا کام دیکھنے والے کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا بلکہ دلوں میں سوال جگاتا ہے اور آنکھوں میں نئے خواب روشن کرتا ہے۔

عاصم رضا کی فلمیں ”ہومن جہاں“ اور ”پرے ہٹ لو“ روٹھے ہوئے پاکستانی ناظرین کو دوبارہ سینما اسکرین کی طرف لے آنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان فلموں نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ ناظرین کو سوچنے پر بھی مجبور کیا۔

عاصم نے ہم ٹی وی کے لیے ایک ٹیلی فلم ”بے حد“ بھی بنائی جو غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ یہ ٹیلی فلم پاکستان کی بہترین ٹیلی فلموں کی فہرست میں ہمیشہ سرِفہرست رہی ہے۔ اس کی کہانی، ہدایت کاری اور عاصم کا وژن سبھی نے مل کر اسے ایک یادگار شاہکار بنا دیا۔

عاصم رضا کا فن ان کا جنون اور ان کی بصیرت پاکستانی سنیما کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ ان کی فلمیں ایک زندہ ثبوت ہیں کہ جب کوئی فنکار دل سے تخلیق کرتا ہے تو اس کا اثر صدیوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS