نغمہ کوہسار
چلو کہ نغمہ دل سوز چھیڑ کر ہم بھی
چمن پہ اپنا اثر ہم نواؤ! ڈالتے ہیں
من لالہ آزادم خود رویم و خود بویم کے مصداق وادی کوہستان کی سرزمین پر کھلنے والے اس لالہ آزاد نے اپنے قلم کے سحر سے سارے عالم کو یک دم مسحور کر دیا۔ اس کے دل کی آواز ہر شخص کو حیران کر گئی کہ اس قدر پسماندہ اور دور افتادہ علاقے سے ایسا بھی گوہر پیدا ہو سکتا ہے جو انسان کو ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی ولی صادقؔ کوہستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بیٹھا ہوا شعر و شاعری کے پیڑ کی آبیاری کر رہا ہے۔ محمد ولی تخلص صادقؔ ضلع کوہستان لوئر کے دور دراز گاؤں دو بیر سناگئی میں 25 اپریل 1992 ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں موجود سرکاری سکول سے حاصل کی اور آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں تھے کہ اچانک ان کے ساتھ ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے یک دم قاصر ہو گئے۔ یہ حادثہ ان کی زندگی میں کئی اہم تبدیلیاں لانے کا سبب بنا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا، نا امیدی اور یاسیت کے بادل امنڈنے لگے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اِس حادثے نے اُن کی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے اور غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد کے مصداق وہ اپنے دل کی آواز کو صفحہ قرطاس پر اتارنے کی مشق کرنے لگے۔ الفاظ کا طوفان ِبیکراں موقع کی تلاش میں کھڑا تھا کہ کب صادق ؔقلم اٹھائے اور اوراق کی زینت بنائے۔ پاؤں چلنے سے رُک گئے تو قلم نے الفاظ کو چلنے کا راستہ سکھا دیا۔ حرف مل کر لفظ بننا شروع ہو گئے اور لفظ اشعار کی صورت میں ڈھلنے لگے۔ اُن کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز 2014 ءسے ہوا۔ خاندان میں دور دور تک کوئی بھی شخص اُردو ادب سے وابستہ نہیں تھا اور اس علاقے میں شعر و شاعری کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔
2018 ءمیں پہلا شعری مجموعہ ”فریادِ صادق“ کے نام سے شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ ”دستک“ کے نام سے 2021 ءمیں چھپ کر منظرِ عام پر آیا۔ دونوں مجموعوں نے ارباب علم و فن اور حلقہ سخن سے خوب دادِ سمیٹی۔ انسان ہمت سے کام لے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر ہمت اور اولوالعزمی کی زندہ مثال دیکھنی ہو تو ولی صادقؔ جیسے خداداد شاعر کی زندگی پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ وہ غزل کے میدان کے شہسوار ہیں لیکن انھوں نے نظم کی سنگین وادیوں میں بھی اپنے سفر کو جاری رکھا۔ شعبہ اُردو، جامعہ بلوچستان، کوئٹہ کے طالب علم محمد علی نے ”ولی صادقؔ کی شاعری کا فنی و فکری مطالعہ“ (شعری مجموعہ ”دستک“ کے تناظر ) کے عنوان سے ایم اے کی سند کے حصول کے لیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ صادق کو ”حادثاتی شاعر“ کا لقب دیا جاتا ہے لیکن ان کی شاعری پڑھنے کے بعد اس رائے کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں رہتی۔
اُن کی شاعری سہل ممتنع کے اعلیٰ درجے پر فائز ہے۔ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال اُن کے ہاں کم نظر آتا ہے۔ وہ اسی معاشرے کا ایک فرد ہے اسی لیے ان کے ہاں حسن و شباب کے موضوعات کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی مسائل کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ وہ خواب کو حقیقت کی شکل دینا چاہتے ہیں اسی لیے صرف تخیلاتی دنیا میں سفر نہیں کرتے بلکہ حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور یہی پیغام دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ جینے کی تمنا، شکست کا سامنا، کچھ کرنے کا ارادہ اور احساس، ماضی کی بازگشت ایسے مضامین ہیں جن کے بارے میں اُن کی خیالات شعر کی صورت میں ڈھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُردو غزل کی کلاسیکی روایت کو زندہ رکھے ہوئے جام، مے، ساقی، بلبل، چمن، شبنم، رقیب، برکھا رُت، بہار، خزاں، خلد، سکوت، ہجر، اداسی، قفس، اجل، پیڑ، دشت، خار، شیخ، دستار، گداگر، مج اور وغیرہ جیسی خوبصورت اور دلکش تراکیب کا استعمال ان کے ہاں عام ہے۔ تکرار لفظی، صنعت تضاد، تشبیہات، تلمیحات اور مرکب الفاظ کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔
وہ بلند و بالا کوہ و کوہسار کی سکون بخش فضا میں بیٹھ کر محبوب کی یاد کی خوشبو اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ بار بار زندگی کے دروازے پر دستک دے کر اسے جگانے کی کوشش کرتا ہے اور زندگی کی رعنائیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زندگی ایک خوبصورت شے ہے جو بار بار نہیں ملتی۔ اس کی شاعری میں داخلی اور خارجی عناصر کے ساتھ کشمکش ایسے کھل کر سامنے آتی ہے جیسے وہ ہر دم لڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ احساس جنوں میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ شب مہتاب میں بھی کسی کو اپنے پاس آنے نہیں دیتا۔ وہ ہجر و فراق کے لمحات کو ضائع نہیں کرتا بلکہ اُن کا اظہار غزل کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ صحرائے تھر کے بے بس و بے حال بچوں کی تصویر جب اُن کے سامنے آتی ہے تو اُن کا قلم بہ یک جنبش حرکت میں آ جاتا ہے اور بھوک، افلاس اور سماجی نا انصافیوں پر ان کے دلی جذبات نظم کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ الغرض کوہستان کی سرزمین پر پیدا ہونے اس شاعر نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو متاثر کیا ہے اور امید ہے کہ وہ اسی طرح اپنی دلکش اور خوبصورت شاعری سے آنے والے لوگوں کو مسحور کرتا رہے گا۔


