کوبرے کی پھنکار اور کمپنی سرکار
مشہور ہے کہ ہندوستان پر حکومت کے دوران انگریزوں اور ان کے خاندانوں کے لئے ایک بڑی جان لیوا مصیبت آن پڑی اور یہ مصیبت تھی انڈین کوبرا سانپ۔ سانپوں سے نامانوس گوروں کے لئے ہندوستان میں پائے جانے والے اس خطرناک اور زہریلے ترین سانپ کو کنگ کوبرا کہا جاتا تھا۔ اس کے کاٹنے سے فوری موت ہو جایا کرتی تھی اور اس بھیانک موت کی تعداد دہلی میں خطرناک حد تک زیادہ تھی۔ کمپنی سرکار نے خود کو اور عوام کو کوبرا سانپ کی ہلاکت خیزی سے بچانے کے لئے ایک منفرد اور انوکھا قدم اٹھایا۔ یہ قدم تھا کوبرا کو مار کر پیش کرنے والوں کے لئے نقد انعام۔ جیسے ہی اعلان ہوا لوگ انعام کے لالچ میں کوبرے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنے اور انعامی رقم حاصل کرنے لگے۔ اس عمل کے نتیجے میں کچھ ہی عرصے میں کوبروں کی تعداد تو بہت حد تک کم ہو گئی مگر ایک اور ان دیکھی مصیبت سامنے کھڑی پھنکار رہی تھی۔
وہ لوگ جنہوں نے کو برے مارنے کو رزق کا وسیلہ بنا لیا تھا وہ ان کی کم ہوتی تعداد سے بے حد پریشان ہوئے۔ جب ان کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے تو دیکھتے ہی دیکھتے دہلی میں ایک نئی اور خطرناک صنعت نے جنم لیا۔ یہ صنعت تھی کوبرا سانپ کو پالنے کی صنعت۔ انعام حاصل کرنے کے لالچ میں لوگوں نے گھروں میں کوبرا سانپوں کی افزائشِ نسل شروع کر دی۔ وہ کوبرے کو پالتے اور ان کو بعد ازاں مار کر انگریز سرکار کے حضور پیش کر کے انعام وصول کرتے۔ یہ صنعت اتنی تیزی سے بڑھی کہ کچھ ہی عرصہ میں گھر گھر میں سانپوں کو پالنے کی صنعت قائم ہو چکی تھی۔
جب تک سرکار کو معاملے کی سمجھ آتی کافی دیر ہو چکی تھی۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے کمپنی سرکار نے فوری طور پر کوبرا سانپ مارنے پر انعامی رقم ختم کر دی۔ جیسے ہی انعام کی رقم ختم ہوئی تو ایک اور خطرناک کام شروع ہو گیا۔ گھر گھر پالے گئے زہریلے کو برے لوگوں کے کسی کام کے نہیں رہے تھے۔ ویسے بھی بے فیض اور زہریلے سانپوں سے گھر بھر کے رکھنا کون سی دانشمندی تھی۔ سو لوگوں نے یہ کوبرے سانپ گلیوں میں کھلے چھوڑ دیے۔ یوں کوبرا ختم کرنے کا کمپنی سرکار کا یہ قدم ایک بھیانک خواب کی صورت اختیار کر گیا۔ خاتمہ کرنے کی کوشش میں پہلے سے کئی گنا زیادہ کوبرے گلیوں میں پھنکارتے پھر رہے تھے۔ تاریخ میں ایسے کسی بھی الٹ نتائج پیدا کرنے والے عمل کو اسی بنا پر ”کوبرا ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔
ہماری کمپنی سرکار بھی اپنی عقل و خرد، دانش مندی اور طاقت سے خطے، ریاست، سیاست، مذہب اور ان سے منسلک ایکٹرز پر اپنا تسلط اور کنٹرول قائم رکھنے کے لئے شروع سے ہی جتنے بھی اقدام اٹھاتی آئی ہے وہ اب کوبرا ایفیکٹ کے مصداق اس کے اپنے ہی منہ کو آ رہے ہیں۔ اب اپنے تسلط میں لائے گئے اسٹوڈنٹس، ففتھ جنریشن واریئرز، ججز، سیاستدان اور جہادیوں سمیت تمام ایکٹرز ایسے ہی خطرناک کوبروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن کی پھنکاریں چار سو صاف سنائی دے رہی ہیں۔
فیس بک، ٹویٹر سمیت سماجی رابطوں کی سائٹوں اور مین سٹریم میڈیا سے لے کر ”بیٹل گراؤنڈز“ تک گونجتی یہ پھنکاریں اب مزید نئے آپریشنز کو دعوت دے رہی ہیں۔ کون جانتا ہے کہ ان نئے آپریشنز کی کوکھ سے اس بار ایک نئی روشن صبح جنم لے گی یا پہلے کی طرح پھنکارتے کوبروں کی ایک اور نسل ہماری منتظر ہو گی۔ یہ فیصلہ تو خیر وقت کرے گا مگر سرِدست ہمارے پاس خوش فہمی کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ ہمیں یقین رکھنا ہے کہ اب کے مولا ضرور اپنا کرم کرے گا۔


