”کھانا گھر“ کی ڈائریکٹر پروین سعید کی باتیں آخر باسی کیوں نہیں ہوتیں؟


چاہے سچ کی آواز کو لاکھ خاموش کروایا جائے اس کی تلاش کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ آج میں صبح سحر کی سپیدی سے قبل رات کی ظلمت کو چاک کرتی، پروین سعید کی آواز سن رہی تھی، جو فون پہ کہہ رہی تھیں ”بھوک کو مٹاؤ، غربت کو مٹاؤ یا پھر غریبوں کو مٹا دو۔“

پہچان تو گئے ہوں گے؟ وہی ”کھانا گھر“ چیریٹی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھنے والی پروین سعید جو گزشتہ پینتیس سالوں سے کراچی کی غریب آبادی ”خدا کی بستی“ اور دوسری نواحی بستیوں میں قطار در قطار کھانے کے منتظر عوام کو روز کی بنیاد پہ محض تین روپے میں پیٹ بھر کھانا دیتی ہیں۔

پروین نے کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کیا۔ کھانا گھر کے آغاز کا سبب وہ ایک روح فرسا واقعہ بنا کہ جب ان کے محلے میں ایک ماں نے غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکے خود اپنے دو بچوں کی جان لے لی۔

خاموشی سے مسلسل اس خدمت خلق انجام دینے کے اعتراف میں پروین کو بیس سال قبل ”پرائیڈ آف پرفارمنس“ اور آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) نے ”فخر پاکستان“ کے تمغوں سے نوازا۔ مگر وہ کہتی ہیں ”میں ان ایوارڈوں کا کیا کروں۔ نہ میں انہیں سجاتی ہوں نہ ان کو کھاتی ہوں۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ آؤ، اور تکلیف دہ صورتحال دیکھو۔ یہ آئی ایم ایف کی جو امداد آ رہی ہے، آخر کس کے لیے ہے؟ کس کو نوکری مل گئی؟ کوئی فیکٹری لگی؟ کوئی تعلیمی ادارہ کوئی یونیورسٹی دیکھی؟ صنعتیں لگاؤ۔ عوام کو روزگار اور ہنر دو۔ لوگوں کو روزگار ملے گا تو وہ اپنی مزدوری کی کمائی سے آٹا خریدیں گے۔ ورنہ ان کے بھوکے بچوں میں جو کدورتیں اور نفرتیں پل رہی ہیں اس کا نتیجہ سوائے خون خرابہ کے کچھ نہیں۔ لوگوں کے پاس زہر میں ڈوبے مسائل ہیں۔ لوگوں کے چہرے پڑھیے ان کے آنسو پونچھیے۔“

جب ہم نے کچھ چیریٹی اداروں کی جانب سے شتر مرغ اور موبائل فون بانٹنے کی جانب ان کی توجہ مبذول کرائی تو پروین کا کہنا ہے کہ ”ہمیں شتر مرغ کے گوشت اور موبائلوں کی نہیں فیکٹریوں اور کاروبار شروع کروانے کی ضرورت ہے۔ غریبوں کے بچے غربت کے سبب اسکول نہیں جا رہے۔ ان کے گھروں کی دیواریں ٹوٹی اور چھتیں غائب ہیں۔ اس سرمایہ سے ان کے گھروں کی مرمت ہو سکتی ہے۔ یہ کام کریں تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ حکومتیں آ اور جا رہی ہیں، کس کو نہیں پتہ کہ کون سا وزیر کتنا کرپٹ ہے۔ اس معاشرہ کو تبدیل کرنا ہو گا تو بہت ٹھوس پروگرام کی ضرورت ہے۔ بیت المال کا روپیہ عوام کے روزگار اور تعلیم کو عام کرنے کے لیے کیوں نہیں استعمال ہو رہا؟ پاکستان ایک اکائی ہے۔ معاشرے کو سنوارنے میں تمام اکابرین کو ساتھ دینا ہو گا۔ اصل معاشرہ تو ناتواں اور بے روزگاروں پہ مشتمل ہے ہمیں تو ان کو طاقت دینی ہے۔“

دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق سوال پہ ان کا کہنا ہے۔ ”جی ہاں ایک طرف دو وقت کی روٹی کے لیے ذلت اور خواری ہے۔ کروڑوں لوگ بھوکے سو رہے ہیں، دوسری جانب لکی ون، فوڈ کورٹس، کبابس جی، زینب مارکیٹ اور دوسرے مالز چلے جائیں تو لگتا ہی نہیں کہ کوئی غریب ہے۔ مجھ سے پوچھیے کتنی کہانیاں ہیں۔ میں تو روز جیتی اور روز مرتی ہوں۔ افسوس کہ مجھے بہت دور تک کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔ ہم صفر پہ آ گئے ہیں۔ بھتہ، رشوت کی روایات پڑ چکی ہے۔ وہی جس کے لیے پروین رحمٰن جیسی بڑی انسان کو مار دیا گیا۔ پتہ نہیں اور کتنی پروینیں مریں گی؟ کوئی قاتل کوئی ریپسٹ کب کیفر کردار تک پہنچے گا؟ جانے ہم کس پاکستان میں رہنا چاہ رہے ہیں؟ معاشرہ سدھارنے کا کوئی پروگرام نظر نہیں آتا۔“

معاشرے کی بدلتی اقدار کے متعلق ان کا کہنا ہے۔ ”ہم ذلت و خواری میں گھرے لوگ ہیں۔ رشتوں کی قدر کھو چکی ہے۔ میں ایک اولڈ ہوم“ انمول ”گئی جہاں والدین کو ان کے بچوں نے چھوڑ دیا۔ ایک بزرگ جو بالکل خاموش تھے وہ اپنے وقت کے کامیاب ڈاکٹر تھے۔ جن بچوں کے خاطر ہم دوڑ میں لگے رہے وہ انہیں چھوڑ چکے تھے۔ ہمارے پاس ان کی تربیت کا وقت نہیں۔ پہلے پڑوس والوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے۔ اپنا ہی نہیں دوسرے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ اب جن کے پاس پیسہ آ گیا ہے وہ اپنے بچوں کو تیس چالیس ہزار ماہانہ کے اسکولوں میں پڑھا رہے اور ان کی ہر جائز و ناجائز فرمائش پوری کر رہے ہیں۔ ہمارے گھروں میں نشہ در آیا ہے۔ ارمغان کا ہی واقعہ دیکھ لیجیے۔ معاشرے میں جرائم، فرسٹریشن اور خودکشی بڑھ گئی ہے۔ دو وقت کی روٹی کے لیے میں نے ان آنکھوں سے شریف گھروں کی لڑکیوں کو بدکرداری کرتے دیکھا ہے۔“

انہوں نے اعلیٰ حکام سے کہا ”خدارا میرے کام کی تعریف مت کیجیے۔ مہنگائی میں کمی کیجیے۔ آٹا، دالیں، چاول، صاف پانی، تعلیم اور علاج کی سہولیات پہ توجہ دیجیے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ اور ان رشوت خور اداروں کے رشوت اور بھتہ خوروں کو دیکھیے جنہوں نے میرے کھانا گھر کے کاموں میں ہزار رخنے ڈالے ہیں۔ اور رشوتیں مانگی ہیں۔ پروین نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے کام میں معاونت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ وہ لوگ جو ان کے کام سے واقف نہیں ادارے میں آئیں، ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلیں۔ اور بھوک اور غربت کے خاتمہ میں ان کا ساتھ دیں۔

کھانا گھر کا پتہ نوٹ فرمائیں۔ L۔ 770، Sector 5 B Surjani Town، Karachi۔ PHONE NO۔ + 923009212136۔

Facebook Comments HS