حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ نہم
چوتھی صدی قبل مسیح میں لکھی گئی اقلیدس کی کتاب ’عناصر‘ کو اٹھارہویں صدی عیسوی تک علم ہندسہ کی سب سے اہم اور بنیادی کتاب سمجھا جاتا تھا۔ اقلیدسی علم ہندسہ یا یوکلیڈین جیومیٹری، جسے بعض اوقات پیرابولک جیومیٹری بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی جیومیٹری ہے جو مفروضوں کے ایک سیٹ پر مشتمل ہے جو پھر اقلیدس کے پانچ مسلمات پر مبنی ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں یعنی پلین جیومیٹری، جو کہ دو جہتی اقلیدسی جیومیٹری ہے، اور سالڈ جیومیٹری، جو کہ تین جہتی اقلیدسی جیومیٹری ہے۔ جیومیٹری کی سب سے بنیادی اصطلاحات نقطہ، لکیر اور پلین ہیں۔ ایک نقطہ کی کوئی جہت (لمبائی یا چوڑائی) نہیں ہوتی لیکن اس کا مقام ہوتا ہے۔ ایک لکیر سیدھی ہوتی ہے اور مخالف سمتوں میں لامحدود پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ پلین ایک چپٹی سطح ہے جو تمام سمتوں میں لامحدود پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔
اقلیدسی کنٹینیوم سے مراد یہ ہے کہ کسی سطح کے تمام نقاط سے مسلسل گزرنا ممکن ہو اور کسی دو نقاط کے درمیان ”چھلانگ“ نہ لگانی پڑے۔ فرض کریں ایک میز کی سطح کو ماپنے کے لئے چھوٹے چھوٹے پیمائشی فیتے لئے جائیں جو تمام ایک لمبائی کے ہوں اور اس قدر سخت ہوں کہ ان کی لمبائی بدل نہ سکے۔ اگر کسی طرح میز کی ساری سطح، ان فیتوں سے مسلسل بھر جائے اور ان میں کوئی وقفہ نہ ہو تو کہا جائے گا کہ میز کی سطح ان فیتوں کے لحاظ سے ایک اقلیدسی کنٹینیوم بناتی ہے۔ ڈیکارٹ (متوفی 1650 ) نے پہلی مرتبہ اقلیدسی ہندسہ کی خصوصیات کو اعداد کی خصوصیات یعنی الجبرے میں تحلیل کیا۔ اس کے مطابق، اگر ان فیتوں کو ایک دوسرے کے عموداً طے لگائی جائے تو میز کی ساری سطح کی پیمائش کے لئے صرف دو اعداد کافی ہیں جنہیں کارتیسی محددات (کاٹیزین کوآرڈینیٹس) کہتے ہیں۔ ایک محدد افقی اور دوسرا عمودی کہلاتا ہے۔ ایک دو جہتی سطح پر کسی نقطے کا مقام بتانے کے لئے دو محدد کافی ہیں جسے کارتیسی مستوی میں مترتب جوڑے سے ظاہر کرتے ہیں۔ تین جہتوں میں نقطے کے لئے تین محددات لازم ہوتے ہیں۔ ہر عدد یا محدد، مکاں کے کسی بعد یا جہت کو ظاہر کرتا ہے۔
اب ایک ایسی صورتحال فرض کریں جس میں پیمائشی فیتے کے بجائے لوہے سے بنی ٹکڑیاں استعمال کی جائیں۔ میز کی ساری سطح لوہے کی ٹکڑیوں سے بھر دیں اور پھر میز کو درمیان سے گرم کرنا شروع کریں تو درمیان والی ٹکڑیوں کی لمبائی بدل جائے گی (لوہا گرم ہونے پر پھیلتا ہے ) ۔ ظاہر ہے اب میز کی ساری سطح ان ٹکڑیوں کی مدد سے مسلسل نہیں بھری جا سکے گی اور کچھ وقفے رہ جائیں گے چاہے آپ ان کو کیسے بھی ترتیب دے لیں۔ اب اسی تجربے کو زیادہ عمومی کر لیں۔ اگر یہ فرض کر لیں کہ تمام ٹکڑیاں خواہ کسی بھی مادے کی ہوں، اگر وہ کسی فیلڈ (حرارت بھی ایک فیلڈ ہے ) کی موجودگی میں پھیلتی یا سکڑتی ہوں تو یہ کارتیسی مستوی نہیں بنائیں گی کیونکہ کچھ ٹکڑیاں ایک دوسرے کے عمودی نہیں رہ پائیں گی۔ میز کی سطح کو بھرنے یا ماپنے کے لئے کارتیسی محددات ناکافی ہوں گے (حتیٰ کہ ہم پیمائش کا کوئی نیا طریقہ ایجاد کر لیں ) ۔
بعینہ، گریویٹیشنل فیلڈ کی موجودگی میں روشنی کی رفتار، محددات کے نظام پر منحصر ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک محددات کے نظام (ساکن مشاہد) کے لئے روشنی سیدھی لکیر میں مستقل رفتار سے چلتی معلوم ہوگی جبکہ دوسرے محددات کے نظام (ایکسلریشن) میں روشنی ایک ٹیڑھی لکیر پر چلتی معلوم ہوگی اور اس کی رفتار متغیر ہوگی۔ حرکت کی عمومی نسبیت کا اصول ہے کہ روشنی کی رفتار مختلف محددات کے نظاموں میں مستقل ہو اور قوانین فطرت کی شکل تمام مشاہدین کے لئے یکساں ہو۔ لہذا، گریویٹیشنل فیلڈ کی موجودگی میں کارتیسی محددات یا اقلیدسی علم ہندسہ کی مدد سے مکاں کی پیمائش درست نہیں ہوتی۔ آئن سٹائن نے بتایا کہ مادے یا توانائی کے گرد و پیش زمان و مکاں کی حالتوں میں کچھ تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے عمومی نسبیت میں زمان و مکاں غیر اقلیدسی ہوتا ہے۔ غیر اقلیدسی مکاں کا ریاضی آئن سٹائن سے کچھ عرصہ قبل انیسویں صدی عیسوی کی آغاز کی دہائیوں میں ہی سامنے آ چکا تھا۔
گاؤز (متوفی 1855 ) نے 1827 میں ایک تھیورم شائع کیا جس میں اس نے دکھایا کہ کسی خلا میں سرایت کیے embedded جسم کی سطح کی پیمائش، اس سطح کے اپنے گردوپیش سے معلوم ہو سکتی ہے۔ یعنی اگر کسی تین جہتی کرے کی سطح کی پیمائش کرنا ہو تو اس کے لئے سطح کے نقاط سے الگ کسی مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے میز جیسی دو جہتی سطح کی پیمائش کرنے کے لئے نئے محددات متعارف کروائے، جنہیں اب گاؤز کے محددات کہتے ہیں۔ گاؤز کے محددات کی مدد سے، کسی بھی دو جہتی سطح کے دو مختلف نقاط کے درمیان فاصلے کی ایک عمومی تعریف، میٹرک ٹینسر کی مدد سے کی جاتی ہے۔ عمومی طور پر میٹرک ٹینسر، کسی بھی سپیس کنٹینیوم کے مختلف مقامات پر مختلف قدر رکھتا ہے یعنی وہ سپیس کا فنکشن ہے جو مکان کے غیر اقلیدسی ہونے کی علامت ہے۔ اقلیدسی مکان میں یہی میٹرک ٹینسر ایک مستقل مقدار بن جاتا ہے۔
گاؤز کے محددات، کارتیسی محددات ہی کی ایک منطقی تعمیم ہے اس طرح کہ یہ غیر اقلیدسی کنٹینیوم پر تبھی لاگو ہوتے ہیں جب اس کنٹینیوم کا چھوٹا سا حصہ، اقلیدسی کنٹینیوم بن جائے۔ کچھ خاص حالات میں، جیسے ایک بڑے کرے کی سطح پرایک چھوٹے سے رقبے میں (زمین پر واقع چند مربع میل وغیرہ پر ) میٹرک ٹینسر مکان کے ہر نقطہ پر مستقل رہتا ہے۔ ایسا مکان جس میں میٹرک ٹینسر مستقل رہے، اقلیدسی کنٹینیوم بناتا ہے۔ یہ کیسی شاندار بات ہے جسے اکثر لوگ سمجھ نہیں پاتے کہ سائنس اپنے سے پہلے علم کی نفی نہیں کرتی بلکہ یہ اس میں بہتری لاتی ہے اور مناسب حدود میں یہ لازم ہے کہ نیا نظریہ، گزشتہ کی تصدیق کرے۔
گاؤز کا زیادہ کام دو جہتی سطح کی پیمائش پر تھا۔ گاؤز کے ہی ایک طالبعلم، ریمان (متوفی 1866 ) نے گاؤز کے کام کو وسعت دیتے ہوئے دو سے زیادہ جہات پر اس کا اطلاق کیا۔ کوئی سطح جتنی جہات پر مشتمل ہوگی اس کے لئے اتنے ہی گاؤزین محددات استعمال ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسی چار جہتی سطح کے لئے چار گاؤزین محددات استعمال کیے جائیں گے اور میٹرک ٹینسر کا فنکشن بھی اتنی ہی جہت کا بنے گا۔ اس کو ریمان کا علم ہندسہ یا ریمانین جیومیٹری کہا جاتا ہے۔
علم ہندسہ میں، اگر کسی مکان میں دو نقاط کے مابین فاصلے کا فارمولا پتا چل جائے تو اس کی مدد سے اس مکان کی تمام خاصیتوں کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ اقلیدسی علم ہندسہ میں مکان کے کسی دو نقاط کا فاصلہ، فیثاغورث کے مشہور تھیورم سے معلوم ہوتا ہے جس کے لئے کارتیسی محددات استعمال ہوتے ہیں۔ ریمان کے علم ہندسہ میں فیثاغورث کا تھیورم درست نہیں رہتا۔ اس لئے فاصلے کی تعریف، گاؤزین محددات کی مدد سے ہوتی ہے۔ ان دونوں یعنی اقلیدس اور ریمان کے علم ہندسہ کے لئے دو نقاط کے درمیان فاصلے کا فارمولا مختلف ہے جس سے پتا چل جاتا ہے کہ کوئی مکان اقلیدسی ہے یا ریمانین ہے۔ ایک چپٹی (فلیٹ) سطح اور ایک مڑی ہوئی (کروڈ) سطح کا فرق بھی اس فارمولے کی مدد سے پتا چل جاتا ہے۔ چپٹی سطح کے لئے فیثاغورث کا تھیورم درست ہوتا ہے لیکن مڑی ہوئی سطح، جیسے کسی کرے کی سطح کے لئے یہ درست نہیں ہوتا۔ یونہی، چپٹی سطح پرایک مثلث کے تین اندرونی زاویوں کا مجموعہ 180 ہوتا ہے لیکن کرے کی سطح پر یہ مجموعہ 180 سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ کرے کی سطح مڑی ہوئی ہوتی ہے۔
خصوصی نسبیت میں زمان اور مکاں گھل مل کر ایک اکائی بناتے ہیں اسے ہم منکاؤسکی مکاں کہہ لیتے ہیں۔ ایسے مکاں میں شے (جسے واقعہ کہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ زماں بھی مکاں کا ایک جزو ہے ) کے مقام کے تعین کے لئے چار کارتیسی محددات استعمال ہوتے ہیں۔ اگر ان محددات کی مدد سے دو نقاط کے مابین وقفہ (سپیس ٹائم انٹرول) لکھا جائے تو وقفے کی یہ تعریف، اقلیدسی نہیں ہے کیونکہ اقلیدسی مکاں میں زماں، مطلق اور مکاں سے آزاد ہوتا ہے۔ لیکن محددات میں مناسب تبدیلی کے بعد ، اس وقفے کو اقلیدسی شکل دی جا سکتی ہے۔
گویا، خصوصی نسبیت میں زمان و مکاں کی پیمائش، اقلیدسی علم ہندسہ سے ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس میں فیثاغورث کا تھیورم درست رہتا ہے اور کہتے ہیں کہ منکاؤسکی کا مکاں، چپٹا ہے۔ یاد رہے چپٹے سے مراد دو جہتی نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں یہ چار جہتی مکاں ہے۔ ایک چار جہتی چپٹے مکاں سے مراد ہے کہ اس میں دو نقطوں کا فاصلہ فیثاغورث کے مسئلے سے نکلتا ہے۔ اس لحاظ سے عمومی نسبیت میں زمان و مکاں چپٹا (فلیٹ) نہیں ہے۔ اس میں فاصلے کے لئے ریمان یا گاؤز کا فارمولا استعمال ہوتا ہے، جو میٹرک ٹینسر پر مشتمل ہے، اور ایک خمیدہ مکاں کی نشاندہی کرتا ہے۔ محدادت کی تبدیلی سے اسے اقلیدسی نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ ایک چار جہتی خمیدہ مکاں ہے۔ مکاں کی خمیدگی سے مراد بس یہ سمجھ لیں کہ اس میں دو نقاط کا فاصلہ، فیثاغورث کے مسئلے سے نہیں نکلتا۔
بہرحال، عمومی نسبیت کے لئے غیر اقلیدسی ہندسہ درکار ہے اور گریویٹیشنل فیلڈ کی موجودگی میں اجسام کی حرکت کی مساواتیں غیر خطی (نان لینیر) ہونی چاہئیں، یاد رہے نیوٹن کی مساواتیں لینیر ہیں۔ مزید، ایسے ضابطوں (فارمولاز) میں حرکت کو بیان کیا جائے جن میں اسراع کی موجودگی میں بھی تمام مشاہدین کے لئے قوانین فطرت کی شکل تبدیل نہ ہو۔ چونکہ ریمان کے علم ہندسہ میں موجود ڈفرینشل مساواتیں بھی غیر خطی ہیں اور عمومی نسبیت کے دیگر تقاضے بھی پورے کرتی ہیں اس لئے عمومی نسبیت کے بیان کے لئے ریمان کا علم ہندسہ استعمال کیا جاتا ہے۔ وقفے (سپیس ٹائم انٹرول) کے فارمولے کو گاؤزین محددات کی شکل میں لکھا جاتا ہے جنہیں ٹینسرز بھی کہتے ہیں۔ ٹینسرز کا ریاضی کافی پیچیدہ ہے اور اس کے لئے اچھی خاصی محنت درکار ہے، اسی لئے عمومی نسبیت کا مضمون جامعات کے عام نصاب میں شامل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے خصوصی کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ خصوصی نسبیت کی طرح، عمومی نسبیت کا اصول ہے کہ قوانین فطرت کو ٹینسرز کی شکل میں لکھا جائے تا کہ مختلف مشاہدین کے لئے ان کی شکل یکساں ہو، اسے ہم تغیر (کوویرینس) کا اصول بھی کہتے ہیں۔ قوانین فطرت کے بیان کے لئے گاؤزین محددات کے تمام نظام یکساں ہیں۔
یہ دلچسپ تاریخ ہے کہ سوائے متوازی خطوط والے اقلیدسی پانچویں مسلمہ کے، سینکڑوں سال تک مشرق و مغرب میں اقلیدس کے مسلمات کو چلینج نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ایک طرح سے وجدانی سچائی کی حیثیت میں تسلیم کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ قرون و سطیٰ میں کلیسا نے اقلیدس کے مسلمات کو اپنے علم کلام کا حصہ بنایا۔ مسلم دنیا میں بھی خواجہ نصیر طوسی (متوفی 1274 ) کی پانچویں مفروضے (متوازی خطوط) پر معمولی تنقید کے علاوہ کوئی زیادہ نیا کام نہیں ہوا یا یوں کہہ لیں کہ ٹھوس ریاضیاتی دلائل کی بنیاد پراس کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ مولانا احمد رضا بریلوی (متوفی 1921 ) نے اپنی مشہور کتاب ”فوز المبین“ میں زمین کے ساکن ہونے کے حق میں دیے دلائل میں اقلیدسی جیومیٹری کا بھرپور استعمال کیا ہے، وہ الگ بات کہ انہوں نے نیوٹن کی کیلکولس کا کوئی رد پیش نہیں کیا جو نیوٹن کا اصل کارنامہ تھا اور جس کی بنیاد پر قانون تجاذب سامنے آیا۔ مولانا کے نزدیک ریاضی و علم ہندسہ وغیرہ، جائز عقلیات یا طریق استدلال نہیں تھے۔ وہ شاید ڈیکارٹ (متوفی 1650 ) کی طرف سے اقلیدسی ہندسہ کی الجبرا میں تحویل اور جدید فزکس کے تصورات سے بالکل ناواقف تھے۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی (متوفی 1993 ) کی کتاب ”اضافیت“ جو 1940 میں شائع ہوئی اور بقول مصنف علامہ اقبال کے کہنے پر لکھی گئی، اردو زبان میں اس موضوع پر لکھی جانے والی شاید بہترین کتاب ہے اور اس میں نہایت عام فہم انداز سے نظریہ نسبیت کو لکھا گیا ہے اور عام مغالطوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
غیر اقلیدسی علم ہندسہ کا ایک اہم مسئلہ حقیقی دنیا میں اس کے اطلاق کا تھا۔ اقلیدس کے مفروضے، روزمرہ کے مشاہدات میں بہت معاون ہیں اور زمین پر پیمائش کے لئے قریباً درست نتائج پیدا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی سطح کے قریب گریویٹیشنل فیلڈ تقریباً مستقل رہتا ہے۔ اس صورت میں یہ ایک قسم کا عقیدہ بن چکا تھا کہ اقلیدس کے علاوہ کوئی اور جیومیٹری ممکن نہیں ہے اور یہی عقلیات ہے۔ یعنی اقلیدسی جیومیٹری تو ہماری روزمرہ کی طبیعیات کی وضاحت کرتی تھی لیکن ریمان کا علم ہندسہ، جس مکاں میں لاگو ہوتا ہے وہ کیا طبیعی مکاں تھا یا محض ایک مجرد خیال؟ ایک لمبے عرصے تک یہی کہا گیا کہ یہ خالص ریاضی کا سوال نہیں بلکہ تجربی سائنس کا سوال ہے یعنی تجربے کی مدد سے غیر اقلیدسی جیومیٹری کے طبیعی ہونے کا پتا لگایا جائے۔
ڈیوڈ ہلبرٹ (متوفی 1946 ) کے کام اور سیٹ تھیوری میں استعمال ہونے والے اثبات بذریعہ مسلمات کی بدولت ریمان کی سپیس کو خالص ریاضی کے شعبہ میں معتبر حیثیت ملی۔ تاہم، فریگے (متوفی 1925 ) نے غیر اقلیدسی جیومیٹری کا انکار کیا کیونکہ وہ ریاضی میں بے انتہا مسلماتی طریقہ کار کے استعمال کو مناسب استدلال نہیں سمجھتا تھا اور اقلیدسی جیومیٹری کو ’وجدانی‘ چیز سمجھتا تھا جس کے معیار پر غیر اقلیدسی جیومیٹری پورا نہیں اترتی تھی کیونکہ اور بھی لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں غیر اقلیدسی علم ہندسہ کے ماڈل پیش کیے تھے۔ فریگے اور ہلبرٹ کی یہ دلچسپ چپقلش پڑھنے کے لائق ہے۔ جدید منطق اور خالص ریاضی میں اس کے کردار کے بارے میں پڑھنے والے اس تاریخ سے خوب واقف ہیں۔ ریمان کے علم ہندسہ کا طبیعی ہونا، آئن سٹائن کے نظریہ عمومی نسبیت میں سامنے آیا۔ بعد میں حقیقی تجربات میں اس کے مضمرات اور پیش گوئیوں کا مشاہدہ کر لیا گیا۔
سائنس محض تجربی علم نہیں ہے بلکہ یہ عقلی علم ہے۔ ریمان اور گاؤز کا غیر اقلیدسی مکان، اتنا ہی منطقی و طبیعی ہے جتنا اقلیدس کا مکاں تھا۔ کچھ لوگوں کو یہ مغالطہ ہو جاتا ہے کہ ہیئت، ریاضی اور علم ہندسہ وغیرہ شاید عقلیات سے الگ کوئی شے ہیں اور یہ بھی کہ عقلیات سے مراد بس ارسطوئی قیاس و کلاسیکی منطق اور اقلیدسی مسلمات وغیرہ ہیں۔ یہ لوگ جدید علوم میں ہونے والی ترقی سے بے بہرہ ہیں۔ ارسطو کی منطق ہو یا اقلیدس کا علم ہندسہ، ان کلاسیکی علوم کی شکل، جدید سائنس نے یکسر بدل کر رکھ دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے تعصبات سے نکل کر جدید علوم کو سیکھیں تاکہ دنیا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔


