مردانگی کی تعریف بدلنے کی ضرورت ہے

مردانگی وہ صفت ہے جو عمومی طور پر مردوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، حالانکہ لفظ ”مردانگی“ بطور مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مطلب دلیری ہے، اور عمومی طور پر اسے صنفِ کرخت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفت محض مردوں تک محدود ہے؟ اگر بہادری اور جسمانی قوت ہی مردانگی کی اصل پہچان ہے تو پھر یہ کئی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے، جیسے کہ شیر، چیتا اور بھیڑیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ یہ صفت صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے، ایک محدود اور روایتی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
لیکن سب سے بڑا تعصب یہ ہے کہ خواتین کو اس صفت سے محروم سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں عورت مرد کے مقابلے میں کئی لحاظ سے زیادہ بہادر ہے۔ بلکہ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بہادری عورت ہی دکھاتی ہے، کیونکہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات مرد کو بھی برداشت کرنا اس کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا۔ تاہم، یہ کہنا میرا مقصد نہیں کہ عورت مظلوم ہے، نہ ہی میں اس مخصوص طبقے سے تعلق رکھتی ہوں جو آزادیِ نسواں کے نام پر نعرے لگاتا ہے، ابھی کے لیے میرا موضوع یہ نہیں ہے۔ میں محض ان تعصبات پر روشنی ڈالنا چاہتی ہوں جو صدیوں سے ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں سرایت کر چکے ہیں۔
یہ تعصب صرف مشرقی معاشرے میں نہیں بلکہ مغربی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ اگرچہ مغرب کو مساوات کا علمبردار کہا جاتا ہے، لیکن کیا واقعی وہاں عورت کو مکمل برابری حاصل ہے؟ سینٹ پال، جو ابتدائی مسیحی تعلیمات کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، نے کہا تھا:
”عورت کو اپنی تمام تر محکومی کے ساتھ خاموشی سے زندگی کا سبق پڑھنا چاہیے۔ میں عورت کو تعلیم دینے اور مرد پر اختیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا، بلکہ اسے خاموش رہنا چاہیے، کیونکہ آدم کی تخلیق حوا سے پہلے ہوئی تھی۔“
یہ الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعصب کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں ہے، اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ حتیٰ کہ جدید دور میں بھی، 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی شکست کو بعض تجزیہ کاروں نے اسی تعصب سے جوڑا۔ اگر ٹرمپ کے مقابلے میں کوئی مرد امیدوار ہوتا، تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔ یہی وہ سوچ ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آج بھی معاشرتی ڈھانچے میں خواتین کے لیے مکمل برابری کا حصول ایک خواب ہی ہے۔
تعصب کی کئی شکلیں ہیں، لیکن یہاں ہم صرف ”مردانگی“ کے تصور پر بات کریں گے۔ عام طور پر مردانگی کو مردوں کی ایک منفرد خصوصیت سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی وضاحت کیے بغیر اسے ایک معیاری صفت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ عورت، مرد نہیں بن سکتی، یہ حقیقت ہے، لیکن اس میں ہر وہ صلاحیت موجود ہے جو اسے مرد کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔ اکثر لوگ جسمانی مضبوطی کو مردانگی کی بنیادی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر کیا یہ پیمانہ واقعی عقل مندانہ ہے اور قابل قبول ہے؟ اگر جسمانی طاقت ہی برتری کی علامت ہے تو پھر کئی جانور اس معیار پر زیادہ پورے اترتے ہیں۔
دراصل، ذہنی صلاحیت، فکری بصیرت، مسائل کا سامنا کرنے اور انہیں حل کرنے کی اہلیت جیسے عوامل زیادہ اہم ہیں۔ مگر مردانہ تعصب اور برتری کے زعم نے عورت کو ہمیشہ کم عقل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اگر عورت واقعی کم عقل ہوتی تو تاریخ میں بے شمار خواتین نے سائنسی، سیاسی، اور ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں کیسے حاصل کیں؟
اب آتے ہیں ایک اور اہم نکتے کی طرف۔ کیا مردانگی محض ظاہری وضع قطع سے جانی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر دورِ جدید کے فیشن کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد خود اپنی مردانگی کو کس طرح برقرار رکھے ہوئے ہیں؟ پرنٹڈ شرٹس، سکن ٹائٹ لباس، جھولتے ہوئے بال، ترشی ہوئی بھنوئیں، ویکسنگ شدہ بازو، گردن میں زنجیریں، انگلیوں میں انگوٹھیاں، اور بعض اوقات گالوں پر لالی تک۔ کیا یہ سب مردانگی کی روایتی تعریف میں آتا ہے؟ اگر عورت کی آزادی اور خود مختاری پر سوال اٹھتے ہیں تو کیا مرد کے ظاہری حلیے پر بھی سوال نہیں کیا جانا چاہیے؟
یہ سب باتیں ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہیں کہ روایتی مردانگی کے تصور پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کیا واقعی مردانگی صرف جسمانی طاقت، اختیار، یا عورت پر برتری جتانے میں ہے؟ اگر یہی پیمانہ ہے، تو پھر یہ تصور آج کے دور میں غیر موثر ہو چکا ہے۔ حقیقی مردانگی انصاف، قیادت، ذہانت، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی طاقت سے جُڑی ہونی چاہیے۔ اصل برتری دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔
لہٰذا، شاید مردوں کو اپنی برتری ثابت کرنے کا کوئی نیا اور موثر طریقہ ڈھونڈنا ہو گا، کیونکہ دنیا بدل رہی ہے، اسے سمجھ آ چکی ہے کہ مونچھیں تو چوہوں کی بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے پرانی تعریفیں اب اپنی جگہ کھو رہی ہیں۔

