پالیسیاں حکومت بناتی ہے یا مافیاز؟


عام طور پر دنیا کے کسی بھی ملک میں جب نئی حکومت آتی ہے تو وہ عوام کی فلاح کے لئے اپنی منشور کے مطابق نئی نئی پالیسیاں متعارف کراتی ہے۔ جس میں خارجہ، داخلہ، تعلیم، صحت اور ترقی وغیرہ کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے سامنے لائے جاتے ہیں۔ تقریباً ہر حکومت ابتدائی تین سے چھ مہینے اسی منصوبہ بندی میں گزارتی ہے اور پھر اس پر عملدرآمد شروع ہوتا ہے۔

پاکستان میں حیران کن بات یہ ہے کہ نئی وفاقی حکومت کو ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اور حکومت نے ابتدا میں متبادل توانائی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے سولر پینل اور باقی آلات پر ٹیکس چھوٹ سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ عوام سے نیٹ میٹرنگ طریقہ کار کے مطابق بجلی کی خرید و فروخت کی پالیسی کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ اس پالیسی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے۔ لاکھوں لوگوں نے نہ صرف اپنی ضرورت کی بجلی خود پیدا کرنا شروع کی بلکہ وفاقی وزیر توانائی کے مطابق اب تک چار ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں بھی شامل ہونا شروع ہو گئی ہے۔

اب تک کی پالیسی کے مطابق یہ بجلی حکومت ان لاکھوں لوگوں سے ستائیس روپے فی یونٹ کے حساب سے خرید رہی تھی۔ یاد رہے کہ ان لاکھوں لوگوں میں ہزار لوگ بھی ایسے نہیں ہوں گے جنھوں نے حکومت کو بجلی فروخت کرنے کے نقد پیسے وصول کیے ہوں۔ کیونکہ یہ لوگ صرف دن کو اضافی بجلی حکومت کو بیچتے ہیں اور اسی کے بدلے رات کو حکومت سے بجلی خریدتے ہیں۔ یعنی مال کے بدلے مال والا اصول لاگو ہے۔ مگر اب اس پالیسی پر عمل درآمد کے چند مہینے بعد حکومت نے پالیسی پر یوٹرن لیا۔ اور متبادل توانائی پروڈکشن پالیسی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے یک طرفہ فیصلہ کیا کہ عوام سے 27 روپے کی بجائے اب بجلی 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی جبکہ حکومت اسی شخص کو رات کو اپنی بجلی 65 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرے گی۔ یعنی جو بندہ دن کو ساڑھے چھ یونٹ بجلی حکومت کو بیچے گا رات کو اس کے بدلے انہیں صرف ایک یونٹ بجلی مہیا کی جائے گی۔ یاد رہے کہ یہی حکومت ایک طرف آئی پی پیز ( انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کو اس بجلی کی مد میں بھی ماہانہ اربوں روپے ادا کر رہی ہے جو وہ پیدا بھی نہیں کرتے ہیں۔ ان میں ایسے کارخانے بھی ہیں جس کی بجلی 145 روپے فی یونٹ کے حساب سے حکومت خریدنے پر مجبور ہے۔ حکومت یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں انھوں نے آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کر کے 500 ارب روپے کی بچت کی ہے۔ مگر دوسری جانب عوام سے بجلی خریدنے کی پالیسی کی حوصلہ شکنی اور پالیسی یوٹرن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ان آئی پی پیز مافیاز کے سامنے بے بس ہے۔ اس پالیسی یوٹرن اور یک طرفہ طور پر عوامی بجلی کی قیمت خرید میں ظالمانہ کمی سے سولر انرجی کی پیداوار پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ صرف 5 کلوواٹ سسٹم بنانے پر بھی کم از کم 8 سے 10 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے اگر ایک بندہ یکمشت 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کرے۔ نیٹ میٹرنگ نصب کر کے وہ پروٹیکٹیڈ صارف کی بجائے بجلی پروڈیوسر بن جائے۔ اور تھری فیز میٹر کی وجہ سے انہیں سرکاری بجلی 20 / 25 روپے یونٹ کی بجائے 65 روپے میں ملے گی اور وہ ماہانہ 30 سے 50 ہزار روپے بل بھی ادا کرے یقیناً یہ انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔

یاد رہے کہ اس یک طرفہ اور ظالمانہ پالیسی کے دو طرح کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک یہ کہ جس تیزی کے ساتھ گرین اور متبادل انرجی کی پیداوار بڑھ رہی تھی اس کو بریک لگ جائے گی۔ لگتا ہے کہ حکومت مافیا کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہی کرنا چاہتی ہے۔ دوم یہ کہ اب لوگ، حکومت کو بجلی بیچنے کی بجائے آس پاس کے ضرورت مند پڑوسیوں کو بیچنے پر غور کریں گے۔ جس کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کو مزید غیر منصفانہ اور ظالمانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

اس لیے گزارش ہے کہ حکومت اپنی حال ہی میں اپنائی گئی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ اور بجلی پروڈیوسرز کے لئے قیمت خرید اور فروخت کے الگ الگ نرخ کی بجائے مستقل پالیسی بنائے کہ عوام کو دن کے اوقات میں دو یونٹ بجلی پیدا کرنے کے بدلے رات کو ایک یونٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔ یعنی اگر کوئی بندہ پورے مہینے حکومت کو 600 یونٹ بجلی فراہم کرے اور وہ 300 یونٹ خرچ کریں تو ان سے بل کا تقاضا نہ کیا جائے۔ مزید یہ کہ حکومت آئی پی پیز کے ساتھ گفت و شنید کر کے ان کو رات کے اوقات میں بجلی پیدا کرنے پر آمادہ کریں تاکہ دن اور رات کے لوڈ کو منیج کیا جا سکے۔ اگر حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہمدردانہ غور و فکر کرے تو اس طریقہ کار کو مزید بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS