دی پٹھان


اس نے 1914 میں آنکھ کھولی اور 1996 میں ابدی نیند سو گئے عبدالغنی خان جو کہ لیوانی فلسفی (نادان فلسفی) کے نام سے مشہور تھے ممتاز پشتون ریفارمر، سیاست دان اور عدم تشدد کے داعی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے بڑے بیٹے تھے۔ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بدولت عبدالغنی خان پیدائشی سیاست دان تھے اور 1945 کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے، انہوں نے 1954 میں سیاست کو خیرباد کہا اور خود کو آرٹ اور ادب کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف ویش زلمی (نوجوانوں کو بیدار کرنے ) کی تحریک بھی بنائی۔ مذکورہ کتاب انہوں نے 1947 میں انگریزی میں لکھی جس کا اب تک پشتو، اردو اور سندھی زبانوں میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے 50 کی دہائی میں گڈی وڈی (گڈ مڈ) کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے جو مشہور پشتو میگزین ”پشتون“ میں شائع ہوتے تھے۔ انہوں نے پشتو میں شاعری کی کتابیں د پنجرے چغار (پنجرے میں چیخ) کلیات اور لٹون (تلاش) بھی تصنیف کی۔ پشتو اور انگریزی کے علاوہ انہوں نے اردو میں ایک کتاب ”خان صاحب“ بھی لکھی عبدالغنی خان اپنے منفرد انداز تحریر کی وجہ سے مشہور ہیں۔ دی پٹھان نامی کتاب میں پختون ثقافت، روایات اور سیاست کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے مذکورہ کتاب 10 ابواب اور 60 صفحات پر مشتمل ہے۔

دی پٹھان کے پہلے باب کا عنوان ”پٹھان“ ہے جس میں مصنف کتاب کا تعارف کرواتا ہے۔ اس باب میں عبدالغنی خان نے 1947 میں ہی یہ پیشین گوئی کی تھی کہ روس عالمی سیاست کی مستقبل میں ایک بڑی طاقت بن کے ابھرے گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب روس آپ کے پاس آئے گا تو وہ راستے میں سب سے پہلے پختونوں کا سامنا کرے گا۔ (یہاں اس نے ممکنہ طور پر ”آپ کا ذکر کر کے“ پاکستان کو اشارہ کیا ہے ) یہ پیشین گوئی اس وقت درست ثابت ہوئی جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اور آج کل روس کی عالمی سیاست اور معیشت میں اس کی اہمیت عبدالغنی خان کی پیشین گوئی کو درست ثابت کرتی ہیں۔

اس کتاب کے دوسرے باب کا عنوان ”تاریخ“ ہے جس میں مصنف نے پختونوں کی تاریخ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ وہ مختلف تھیوریز کا حوالہ دیتا ہے جس میں ایک مکتبہ فکر کی رائے ہے کہ پختون نسل کے لحاظ سے بنی اسرائیل (یہودی) ہیں۔ یہ کہ یہودی، پختونوں کی زندگی اور آداب اور اس کے عقیدے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ غنی خان ہیروڈاوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پختون باختر کے علاقے میں رہتے تھے۔ یہاں مصنف اس رائے کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہیروڈاوٹس جھوٹ بولنے والوں پر یقین کرتا تھا اس نے جھوٹوں کو سنا اور پھر اسی جھوٹ کو چھاپا۔ کیونکہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتا تھا اور اس نے حقیقت کی تلاش میں سفر نہیں کیا۔ عبدالغنی خان کے بقول ہیروڈاوٹس جغرافیہ سے ناواقف تھے۔ عبدالغنی خان مزید لکھتے ہیں کہ اگرچہ ایک مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ اسلام سے پہلے پختون بدھسٹ (آریہ) تھے اور وہ بدھسٹ بننے سے پہلے ہندو تھے۔ دوسری طرف عبدالغنی خان خود اس بات کا حامی ہے کہ پشتون یونانی نسل سے ہے۔ ان کی یونانی ناموں اور رسم و رواج کے ساتھ کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ کہ دونوں اقوام میں بڑے شاعروں اور جنگجووں نے جنم لیا۔ صفحہ 5 پر پختونوں کے نسل کے بارے میں لکھتے ہیں، کہ اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہیں کہ پختونوں کی تاریخ کیسے اور کہاں سے شروع ہوئی بلکہ اس نقطے کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ آج وہ واقعی کیا ہیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ وہ چاہے یہودی ہو یا یونانی، لیکن وہ ایک جذباتی پڑوسی، محبت کرنے والا دوست، یا جانی دشمن بن سکتا ہے۔ وہ خوشی کا کوئی ذریعہ نہیں جانتا۔ یہ اس کی سب سے بڑی خوبی اور اس کی سب سے بڑی خامی ہے۔

تیسرے باب کا عنوان ”فولک گانے“ ہے۔ اس باب میں عبدالغنی خان لکھتے ہیں کہ پختون چاہے وہ جنگ میں ہو امن میں وہ گانا پسند کرتا ہے۔ وہ شادیوں میں گاتا ہے اور یہاں تک کہ جب وہ بہت اداس ہوتا ہے تب بھی وہ گانے لگتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پختون معاشرے میں محبت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں وہ مردانہ پختون معاشرے پر بھی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک پٹھان اپنی بہن یا بیٹی کے عاشق کو گولی مار دے گا لیکن دوسری طرف وہ سینہ تان کر محبت کی شان میں گانا بھی گائے گا۔

چوتھے باب کا عنوان ”ایک واقعہ“ ہے۔ اس باب میں عبدالغنی خان عدم تشدد (سرخ پوش) کی تحریک کی تفصیلات دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ پختون معاشرے میں ہمیشہ بد اعتمادی اور دشمنی جاری رہتی ہے۔ وہ پختون معاشرے میں انتقام کے بارے میں بھی بات کرتا ہے۔ عبدالغنی خان اس باب میں ایک کہانی لکھتے ہیں کہ کیسے ایک قاتل اور بدنام شخص باچا خان کی تحریک عدم تشدد کا رکن بنا۔ پھر بعد میں وہی شخص دوبارہ اپنے پرانے دھندے کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ساتھ ہی غنی خان لکھتا ہے کہ ایک بدنام شخص، خان یا قاتل کا بیک وقت خدائی خدمتگار بننا ممکن نہیں۔

پانچویں باب کا عنوان ”ایک پری کی کہانی“ ہے۔ اس کہانی کا ہیرو ایک خوبصورت شہزادہ ہے جس کی بیوی بہت خوبصورت تھی۔ ایک دن اچانک شہزادی کی آنکھوں کی بینائی ختم ہونے سے وہ اندھی ہو گئی۔ شہزادہ جو شہزادی سے بہت پیار کرتا تھا اس نے اپنی سلطنت کے کونے کونے سے حکیموں کو بلایا۔ لیکن سب شہزادی کی آنکھوں کا علاج کرنے میں ناکام رہے۔ دریں اثنا، اس دوران ایک بھکاری آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس شرط پر شہزادی کی ہنسی اور اس کی بینائی واپس لائے گا بشرطیکہ شہزادہ اپنی بادشاہی اور اپنا غرور چھوڑے۔ یہ سنتے ہی شہزادے نے اس کی شرائط کو ٹھکرا کر اسے جیل میں ڈال دیا۔ اگلے دن بھکاری غائب تھا جبکہ اس کے چیتھڑے، چمڑا اور ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ شہزادہ چونکہ مغرور اور انا پرست تھا، اس نے اس کو اپنی شکست سے تعبیر کیا وہ اپنی شکست بھولنے کے لیے ایک وادی میں گیا اور شہزادی کو بھی اپنے حال پر چھوڑ دیا جس کو وہ اس شکست کا سبب سمجھتا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کہانی کا پختون معاشرے یا قوم سے کیا تعلق ہے، یہ واضح نہیں ہے؟

چھٹے باب کا عنوان ”روایات“ ہے جس میں عبدالغنی خان پختونولی کے بارے میں بات کرتا ہے جو کہ پختون معاشرے کا روایتی ضابطہ حیات اور قدیم قوانین ہیں۔ عبدالغنی خان ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں کہ پشتون معاشرے میں زنا کی سزا موت ہے۔ وہ ستم ظریفی سے کہتا ہے کہ ایک پختون اپنی بہن کے عاشق کو مار ڈالے گا جبکہ دوسری جانب وہ برطانوی قوانین پر فخر سے عمل پیرا بھی ہو گا۔ مصنف کے بقول وہ پختون معاشرے میں ہیرو ہے اور ایک جج کے سامنے قاتل۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کی 40 لاکھ کی آبادی میں کوئی قانون، جج، عدالتیں یا پولیس نہیں لیکن وہاں زنا، قتل یا لڑکی بھگانے کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ پختون معاشرے میں رواج کو نہ ماننے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ عبدالغنی خان کے بقول پختون ثقافت میں ہزاروں رسم و رواج ہیں۔ سب نہ اچھے ہیں نہ برے ہیں۔ لیکن ان رسم و رواج نے اقدار اور طرز زندگی کو محفوظ رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ برطانوی قوانین اور پختون رسم و رواج دونوں طرز ہائے زندگی کے ذرائع ہیں۔

ساتویں باب کا عنوان ”ملا، تعویذ اور جادو“ ہے۔ غنی خان اس باب میں اپنے دوست مہر خان کی کہانی سناتا ہے جس کو ٹائیفائیڈ کی بیماری ہے اور غنی خان اس کی عیادت کرنے جاتا ہے۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔ اس دوران مہر کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے پر کالا جادو ہوا ہے اور اس کے علاج کرنے کے لیے ایک شیخ صاحب کو بلاتی ہیں۔ غنی خان کا کہنا ہے کہ جادوگر کے نزدیک پیر اور تعویز انسان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دریں اثنا شیخ صاحب تعویذ لکھنے کے پیسے لینے کے باوجود مہر کا علاج کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

آٹھویں باب کا عنوان ”انتقام“ ہے جس میں مصنف انتقام لینے کے رواج کے بارے میں لکھتا ہے جو ایک روایتی پختون قبائلی معاشرے کا معمول ہے۔ غنی خان لکھتے ہیں کہ پختون بچوں کی پرورش نفرت، دشمن سے دشمنی میں ہوتی ہے اور انہیں بچپن میں ہی انتقام لینا سکھایا جاتا ہے چاہے مخالف اس کا اپنا ہی کیوں نہ ہو۔ غنی خان پختون معاشرے میں اقتدار کی کشمکش کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔ اس باب میں ایک نوجوان شیر خان اپنے چچا کو قتل کرتا ہے اور قبائلی علاقے کی طرف فرار ہو جاتا ہے۔ اس کا کزن (اس کے چچا کا بیٹا جسے اس نے مارا تھا) اب جوان ہے اور اسے مارنے اور اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لیے شیر خان کے پیچھے ہے۔ غنی خان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ایک دن ضرور آمنے سامنے ہوں گے۔ شیر خان جو اپنے چچا کو مارنے کے بعد 15 سال سے فرار تھا اب تھکا ہوا، اکیلا اور بوڑھا لگ رہا ہے۔ غنی خان لکھتے ہیں کہ پختون معاشرے میں انتقام اور موت ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

نویں باب کا عنوان ”سیاست“ ہے جس میں مصنف پختون معاشرے میں خصوصی طور پر سیاست پر بات کرتا ہے۔ غنی خان لکھتے ہے کہ پختون روایتی معاشرے میں سیاست دوسرے ممالک کی سیاست کی طرح اقتدار کے حصول، ہوس اور لالچ کے گرد گھومتی ہے۔ ہر پختون اپنے آپ کو سکندر اعظم سمجھتا ہے۔ اور یہاں بھائیوں کے درمیان، کزنز کے درمیان، اور یہاں تک کہ بیٹے اور باپ کے درمیان اقتدار کے لیے ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ پختون اپنا گھر برباد کر کے اسے آگ لگا دے گا لیکن اپنے بھائی کی حکومت کبھی قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پختون آزادی سے محبت کرتا ہے لیکن دوسروں کو آزادی دینے سے انکار کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک پشتون جذباتی ہوتا ہے اور اس میں عقلی دلائل کے ساتھ فیصلہ کرنے کی کمی ہوتی ہے۔ دوسری طرف مصنف اس کی تعریف بھی کرتا ہے کہ پٹھان محنتی ہوتا ہے وہ اپنی بیوی کے پھٹے ہوئے کپڑے اور اپنے بچے کی بھوک نہیں دیکھ سکتا۔ وہ چوری کرے گا لیکن بھیک نہیں مانگے گا۔ وہ ڈکیتی کی وجہ سے سزائے موت کو پسند کرے گا لیکن شرم کو قبول نہیں کرے گا۔ وہ اپنا سر توڑ دے گا لیکن سر خم نہیں کرے گا۔

غنی خان جس کو سیاست اور تاریخ پر سیر حاصل تجربہ حاصل تھا برطانیہ کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے پختونوں کو رشوت دینے اور انہیں کرپٹ کرنے کی کوشش کی۔ وہ زور دیتے ہیں کہ وہ پالیسی اگرچہ کچھ عرصہ کے لیے کارآمد رہی لیکن مجموعی طور پر وہ پالیسی ناکام رہی۔ وہ لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے امیر امان اللہ خان کے خلاف کچھ پختونوں کو رشوت دے کر بہکایا۔ ان کی حقیقی قیادت کو دبایا جبکہ کچھ خانوں اور مذہبی رہنماؤں کو نواز کر انہیں بے تحاشا اختیارات دیے گئے۔ یہ دونوں پختون معاشرے میں بے پناہ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انگریز پختونوں کو تقسیم کرنے میں کچھ عرصہ کے لئے کامیاب رہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس صورتحال کے درمیان خان عبدالغفار خان پیدا ہوا جس کا مقصد پختونوں کو متحد، تعلیم یافتہ، اور منظم کرنا تھا۔ عبدالغنی خان، باچا خان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد اور پختونوں کے مختلف علاقوں میں سکول کھولنے کے بارے میں لکھتے ہیں۔ مصنف بجا لکھتے ہیں کہ عبدالغفار خان عظیم مصلح اور ریفارمر تھے۔ دسواں باب جس کا عنوان ”اختتامیہ“ ہے۔ میں مصنف لکھتا ہے کہ وہ جاہل، قاتل یا بھوکا ہونے کے باوجود پختونوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ اس کی بہادری اور مہمان نوازی کی تعریف کرتا ہے اور اس بات کا اعتراف بھی کرتا ہے کہ ہر کوئی اپنی قوم کے بارے میں اپنی رائے میں متعصب ہے۔

60 صفحات پر مشتمل یہ چھوٹی سی کتاب عبدالغنی خان کی انگریزی زبان پر گرفت، تاریخ، سیاست اور پختون ثقافت پر ان کی کمانڈ کا ثبوت ہے۔ راقم ہر اس بندے کو یہ کتاب پڑھنے کی دعوت دیتا ہے جو پختون قوم کی تاریخ، سیاست اور ثقافت کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ مجھے یہ کتاب ان کتابوں کی صف میں سب سے پہلے نظر آتی ہے جو پختونوں کی ثقافت، سیاست اور تاریخ سے متعلق ہیں۔

Facebook Comments HS