خواب، محبت اور زندگی( 2 )


زندگی۔ حصۂ اول
یہ حصہ میرے بچپن یعنی پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی یادوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ کہانیاں رومینٹک یا چٹ پٹی ہونے کی وجہ سے قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ خاص طور پر میرے والدین کی ڈرامائی لو میرج جو 1948 میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ بچپن میں ہی مجھے سرمایہ دار طبقے کی رعونت اور جوڑ توڑ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے والد کی مہم جویانہ طبیعت کی وجہ سے ان کے ’ایڈونچر‘ یا ’کارنامے‘ بھی دیکھے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں رہنے کی وجہ سے اس نوزائیدہ مملکت کی بہت سی یادیں میرے ذہن کے نہاں خانوں میں موجود ہیں۔ اگر آپ پچاس اور ساٹھ کے عشروں کے پاکستان کے سماجی اور ثقافتی ماحول کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ باتیں آپ کے کام آئیں گی۔

باب اول
”دلی کا منڈا۔ کشمیر کی کڑی“
(یونہی دنیا بدلتی ہے، اسی کا نام دنیا ہے)
میں اپنی زندگی کی کہانی کہاں سے شروع کروں۔ کیا میں اسے 16 جون 1949 کو کراچی سے شروع کروں جہاں میں پیدا ہوئی تھی۔ لیکن میں نے شعور کی آنکھ تو لاہور میں وزیر خان کی مسجد کی عقبی گلی میں واقع ایک پرانے سے مکان میں کھولی۔ یا پھر ابتدا پچاس کے عشرے کے دوسرے حصے کی لائلپور کی ایک بہت ہی تکلیف دہ یاد سے کروں۔ میں آج بھی چشم تصور سے اپنے والد کو غلط ٹیکہ لگ جانے پر بستر پر تڑپتا دیکھ سکتی ہوں۔ یا پھر اس واقعے سے کروں جب بچیوں کے کھیل کے دوران پاکستان کے بدنام بائیس خاندانوں میں سے ایک کی بیٹی نے میری بے عزتی کر کے مجھے اپنی کوٹھی سے نکل جانے کو کہا تھا۔ یا پھر بچپن کا وہ واقعہ جب سوتے جاگتے کی کیفیت میں، میں نے چند قاتلوں جو ان ہی بائیس خاندانوں میں سے ایک کے لئے ’کام‘ کر کے آئے تھے کو اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں کھڑا پایا تھا۔ شاید ان ہی واقعات نے بچپن میں ہی میرے دل میں سرمایہ داروں کے خلاف نفرت بھر دی تھی۔

میرے خیال سے مجھے 1947 سے بات شروع کرنی چاہیے جب پاکستان وجود میں آیا اور 1949 میں میری پیدائش کا سبب بنا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو میں پیدا بھی نہیں ہوتی۔ پاکستان کی اور میری کہانی ابتدا سے ہی آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ اگر برطانوی گورے اپنی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بر صغیر پاک و ہند کی خون ریز تقسیم کی راہ ہموار نہ کرتے تو کراچی میں امرتسر سے ہجرت کر کے آنے والی ایک خوب صورت کشمیری لڑکی دہلی سے اس نئے ملک آنے والے ایک خوش طبع نوجوان کی محبت میں گرفتار نہ ہوتی اور جنوری 1948 میں اس سے شادی نہ کرتی۔ مجھے اپنی کہانی پاکستان سے ہی شروع کرنی ہو گی۔ ہم دونوں کی پیدائش میں جو چند خصوصیات مماثلت رکھتی ہیں، وہ خوف اور بے یقینی کے پس منظر میں محبت اور امید کی موجودگی، تقدیر کے تغیر پذیر سمندر میں ملنے والی کامیابیاں اور ناکامیاں اور ہجر و وصال اور ملنے اور بچھڑنے کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ۔ اس لئے میں پاکستان اور اس کے پیچھے ایک انیس سالہ نوجوان کے لرزتے اور کانپتے ہوئے جذبوں اور محسوسات سے بات شروع کرتی ہیں جنہوں نے اسے تمام تر بے یقینی کے باوجود گھر والوں کو چھوڑ کر اس نئے ملک آنے پر آمادہ کیا تھا۔ اسی جذبے نے لاکھوں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو سرحدیں پار کر کے
انتہائی غیر یقینی مستقبل کی جانب ہجرت پر آمادہ کیا تھا۔

بات صرف خوف کی نہیں، اس کہانی کا اہم حصہ محبت پر مشتمل ہے۔ یہ محبت ہی تو تھی جس نے 1930 کے عشرے میں امرتسر کے ایک انٹلکچوئل نوجوان کو اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے کا حوصلہ دیا۔ اس محبت نے ہی اسے لڑکیوں کی تعلیم
کے لئے ڈٹ جانے اور خاندان والوں کو یہ بتانے کی ہمت دی کہ اس کی بیٹیوں کو سونے کے زیورات کی نہیں بلکہ علم اور تعلیم کے زیور کی ضرورت ہے۔ اس نے گھر کی عورتوں کو اپنی بچیوں کے کان اور ناک نہیں چھیدنے دیے۔ امرتسر کا یہ مسلمان نوجوان انٹلکچوئل میرا نانا تھا۔ میرے نانا غلام یاسین فرحت لڑکیوں کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ اسی موضوع پر انہوں نے ایک ناول ”سعادت مند لڑکی“ بھی لکھا تھا۔ ہو سکتا ہے آج بھی اس کی ایک آدھ کاپی امرتسر کے کسی کتب خانے میں موجود ہو۔ میری نانی ہمیں بتایا کرتی تھیں کہ جس زمانے میں حفیظ جالندھری ’شاہنامہ اسلام‘ لکھ رہے تھے تو وہ اکثر تبادلۂ خیالات کے لئے نانا سے ملنے امرتسر آتے تھے۔ پاکستان کے مشہور شاعر اور بچوں کے پسندیدہ کردار ’ٹوٹ بٹوٹ‘ کے خالق صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم بھی نانا کے دوست تھے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں اکثر میں لائلپور سے اپنی نانی کے ساتھ لاہور جاتی تھی تو وہ مجھے لے کر صوفی تبسم صاحب کی باقرخانیوں کی دکان پر ان سے ملنے جایا کرتی تھیں۔

بدقسمتی سے نانا کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا۔ امی اس وقت بہت چھوٹی تھیں۔ امی اکثر اپنی پھپھیوں کی زبانی سنا ہوا یہ واقعہ ہمیں سناتی تھیں۔ جب نانا بستر مرگ پر تھے تو ان کی بہنوں نے روتے ہوئے ان سے پوچھا تھا اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو کس پر چھوڑ کر جا رہے ہو؟ نانا نقاہت کے مارے بول نہیں سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی گویا کہہ رہے ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اللہ پر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ خالہ، امی اور ماموں پھر اپنی نانی کے گھر پلے بڑھے اور ان کے ماموؤں نے ان کے والد کی کمی پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS