وائس آف امریکہ کی بندش اور صحافیوں کے لیے چیلنجز
وائس آف امریکہ (VOA) نے اپنی متعدد نشریات کو جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے کئی صحافیوں کو رخصت پر بھیج دیا گیا یا فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف ممالک میں اس کے نمائندے بھی بے روزگار ہو جائیں گے، میرے کئی دوست، جو اس ادارے میں کام کرتے تھے، بتا رہے ہیں کہ انہیں مارچ کے آخر تک کام کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ کچھ کا موقف ہے کہ تمام ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، اور سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی اور ملکی سطح پر صحافیوں کی فلاح و بہبود کے ادارے یا تنظمیں اس بڑے فیصلے کے خلاف کوئی آواز بلند کریں گے؟ امریکہ، جو خود کو آزادیٔ صحافت کا علمبردار کہتا ہے، اگر ایک ہی فیصلے کے تحت بڑی تعداد میں صحافیوں کو نوکری سے نکال سکتا ہے، تو کیا صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر کوئی ردعمل دیں گی؟
وائس آف امریکہ، مشال ریڈیو، ڈیوا ریڈیو، اور دیگر زبانوں میں نشریات، ایک عرصے سے ان مسائل کو اجاگر کرتے رہے ہیں جنہیں مقامی میڈیا یا تو رپورٹ نہیں کر سکتا تھا یا پھر پابندیوں کی وجہ سے نظر انداز کر دیتا تھا۔ مثال کے طور پر، بلوچستان، خیبر پختونخوا، پختون تحفظ موومنٹ (PTM) ، اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی عمران خان سے متعلق خبریں اکثر VOA جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سامنے آتی تھیں۔ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا پر پہلے ہی سخت پابندیاں عائد ہیں، اور کئی موضوعات پر خودساختہ سنسرشپ بھی دیکھی گئی ہے۔ ایسے میں وائس آف امریکہ کی بندش مزید خاموشی اور یک طرفہ بیانیے کو فروغ دے سکتی ہے۔
اداروں کے فیصلے ان کے داخلی معاملات ہوتے ہیں، اور ہم اس میں براہ راست مداخلت نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک مخصوص قانونی اور اخلاقی طریقہ کار ضرور ہونا چاہیے جس کے تحت صحافیوں کو نوکری سے نکالنے کے بجائے متبادل یا کم از کم کوئی جاب سیکیورٹی دی جائے۔ بین الاقوامی سطح پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر بات کریں اور ان صحافیوں کے مستقبل کے لیے آواز بلند کریں۔ صحافت کسی بھی معاشرے میں آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کی بنیاد ہوتی ہے، اور اگر بڑے ادارے بغیر کسی وضاحت کے صحافیوں کو نکالنے لگیں، تو یہ عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
وائس آف امریکہ کی بندش ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور دیگر خطوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اگر بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز پابندیوں، مالی بحران، یا کسی اور وجہ سے آزادیٔ صحافت کو محدود کریں گے، تو اس کا نقصان پوری دنیا کے صحافتی ماحول کو ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صحافی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے اس معاملے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔
ویسے پاکستان میں صحافت کرنا روز بروز مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی اپنی رائے یا تجزیہ پیش کرے تو حکومت پیکا ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی بھی ناپسندیدہ رائے پر ایف آئی آر درج کر کے صحافیوں کو جیل بھیجنے کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے آزاد صحافت دباؤ کا شکار ہے۔
ابھی بھی کئی صحافی انتہائی محتاط الفاظ کا استعمال کر کے حکومت کے اقدامات پر نرم انداز میں تنقید کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کب تک ممکن ہو گا؟ موجودہ صورتحال میں صحافی پل صراط پر چلنے کے مترادف حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ذرا سی لغزش بھی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔ عام حالات میں ایسی پابندیاں پہلے دیکھنے کو نہیں ملتی تھیں، مگر 26 ویں آئینی ترمیم اور پیکا ایکٹ کے بعد صحافیوں کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ اب انہیں ہر لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ حکومتی شکنجے میں نہ آ جائیں۔
یہ صورتحال صرف مقامی سطح پر ہی تشویش کا باعث نہیں، بلکہ بین الاقوامی صحافتی تنظیمیں بھی پاکستان کو آزادیٔ صحافت کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دے رہی ہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا 152 واں نمبر ہے، جو واضح کرتا ہے کہ یہاں صحافیوں کو ہراساں کرنے، سنسرشپ اور آزادیٔ اظہار پر قدغنیں کس حد تک بڑھ چکی ہیں۔
گزشتہ برسوں میں کئی صحافیوں کو دھمکایا گیا، مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، حتیٰ کہ بعض کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے جبکہ کئی جلاوطنی پر مجبور ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں آزاد صحافت کی بقا ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
کیا آزادیٔ صحافت واقعی خطرے میں ہے؟ اور کیا ان صحافیوں کے لیے کوئی آواز اٹھائی جائے گی؟


