چین کی سب سے کم ترقی پذیر ممالک کے لئے زیرو ٹیرف پالیسی


چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی تجارت اور معاشی ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ، چین نے دنیا کے سب سے کم ترقی پذیر ممالک (Least Developed Countries۔ LDCs) کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں سے ایک حالیہ اہم اقدام زیرو ٹیرف پالیسی ہے۔ یہ پالیسی کم ترقی پذیر ممالک کو چین کی مارکیٹ تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ان ممالک کی معاشی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔

10 مارچ کو چین کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے والے سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کی تمام مصنوعات کے لیے صفر محصولات کی چینی پالیسی کے نفاذ کے 100 دن مکمل ہوئے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران، 33 افریقی ممالک سمیت چین اور ان ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جس سے معاشی ترقی اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ لاؤس سے درآمد شدہ قدرتی ربڑ کی ایک کھیپ مشرقی چین کے صوبے شیڈونگ کے شہر چنگڈاؤ میں ایک مقامی ٹائر پروڈکشن لائن پہنچی ہے۔ اس کھیپ کو درآمدی ڈیوٹی میں تقریباً 91,246 امریکی ڈالر کی چھوٹ حاصل تھی۔ اسی طرح مالی، نائیجر اور زیمبیا جیسے لینڈ لاکڈ ممالک کے سامان کے لیے جنہیں چین پہنچنے کے لیے تیسرے ملک کی بندرگاہ کی ضرورت ہے، ان کے اسٹیمپ آیڈینٹٹی کوڈ میں تبدیلی کے بغیر کنٹینر ٹرانسپورٹ میں رہنے تک تیسرے ملک کے سرکاری نان پروسیسنگ سرٹیفکیٹ کی ضرورت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس سامان کو براہ راست صفر ٹیرف پالیسی سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیتا ہے۔

زیرو ٹیرف پالیسی کا بنیادی مقصد کم ترقی پذیر ممالک کو چینی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔ اس پالیسی کے تحت، چین نے ان ممالک سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر درآمدی ٹیرف ختم کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک کے تاجر چین کی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کو کم قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں، جس سے ان کی مصنوعات کی مقابلہ صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے ان ممالک کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست فائدہ ان کی معیشتوں کو پہنچا ہے۔ برآمدات میں اضافے سے ان ممالک کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

زیرو ٹیرف پالیسی نے ان ممالک میں صنعتی ترقی کے فروغ میں بھی مدد دی ہے۔ چینی مارکیٹ کی تلاش اور زیرو ٹیرف پالیسی سے نہ صرف ان ممالک کا صنعتی بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو رہا ہے بلکہ ان کی مصنوعات کا معیار بھی بہتر ہو رہا ہے۔ معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے نتیجے میں سب سے کم ترقی پذیر ممالک میں غربت کی شرح میں کمی متوقع ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو گا جس سے معیار زندگی بھی بہتر ہو گا۔

اگرچہ زیرو ٹیرف پالیسی کے کئی مثبت اثرات ہیں، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ کم ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اور پیداواری صلاحیت کی کمزوری کے باعث وہ چین کی مارکیٹ سے مکمل فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی بھی اس پالیسی کے مکمل فوائد حاصل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔

اس اقدام پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ چین کی زیرو ٹیرف پالیسی کا مقصد صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے اور یہ کہ چین ان ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ اس تنقید میں شاید اتنی ہی جان ہے جتنی ان ممالک کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے کی کوششوں میں رہی ہے۔ یہ کیسا افسوس ناک رویہ ہے کہ کسی ایسے ملک کی مدد کرنے کو اس پر غلبہ حاصل کرنے کے اقدام سے جوڑ دیا جائے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ان ممالک میں عوام کا معیار زندگی کیا ہے اور انہیں دنیا کے ساتھ چلنے میں کس قدر دشواریوں کا سامنا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس تنقید کا جواب صرف اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ جن اول تو ترقی یافتہ ممالک نے ان ممالک کے بارے میں اتنا سوچا ہی نہیں کہ اس پر بات کی جا سکے اور اگر سوچا بھی ہے تو اس طرح کہ ان ممالک کے وسائل اور زمین کا استعمال کر کے انہیں اس کا معاوضہ دیا جاتا رہے۔ کیوں کہ اگر ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ان ممالک کے مسائل کو حل کر دیا جاتا تو آج کم از کم یہاں صنعتوں کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہوتا، سفر کے لئے مضبوط اور کشادہ سڑکیں ہوتیں اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہوتا۔ اب یہ سب نہیں ہے تو تنقید کے خالی میدان میں اکیلے بھاگنے والوں کا کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام ذمہ دار ممالک مل کر ان ممالک کی بہتری کے لئے ایک مربوط لائحہ عمل بنائیں اور اجتماعی کوششوں سے دنیا میں غربت کے خاتمے کے عالمگیر مشن میں ایک و سرے کا ساتھ دیں لیکن موجودہ دنیا میں تو تحفظ پسندی اور مفادات کا ایک ایسا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس سے کرہ ارض پر بسنے والے ایک نئے خؤف کا شکار ہیں۔ کاش کہ لفظ ”مشترکہ“ لغت سے نکل کر عملی کوششوں میں آ جائے۔

Facebook Comments HS