جیل بیتی۔ اختتام


ہر چیز پہ بہار تھی ہر شے پہ حسن تھا
دنیا جوان تھی میرے عہدِ شباب میں

جوانی کے حوالے سے امجد اسلام امجد کا ”وارث“ میں لکھا گیا ایک مکالمہ بھی یاد میں تازہ ہے۔ ”جوانی تو کیکر پر بھی آتی ہے تو اس پہ پھول کھلتے ہیں“ ۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے درمیان جس کتاب نے خوب دھوم مچائی وہ راجہ انور کی کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ تھی۔ اس کتاب کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا۔ میں دوستوں کی فرمائش پر اس قسط وار مضمون کا اختتام اس کتاب کے ذکر پر کرنے جا رہا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ بات موضوع سے پیوستہ نہیں ہے لیکن بقول انیس

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

یہ ذکر میں اپنے خیالات کی صورت کی بجائے معروف صحافی جاوید چوہدری کے اس باب میں لکھے گئے ایک دلچسپ کالم کے ابتدائی حصے کو نقل کر کے کرتا ہوں۔

” سارے نابالغ ایک سائیڈ پر ہو جائیں اور کان پکڑ لیں۔ ہال میں سراسیمگی پھیل گئی۔ یہ فقرہ ہم سب کے لیے عجیب تھا۔ ہمیں بلوغت کی دیواریں عبور کیے مدت ہو چکی تھی لہذا ہم سامنے کھڑے ڈشکرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ ڈشکرے نے شیطانی قہقہہ لگایا اور کہا۔ جس جس نے ”جھوٹے روپ کے درشن“ پڑھی ہوئی ہے وہ بالغ ہے۔ جو ابھی تک اس سے محروم ہے وہ نابالغ ہے۔ لہذا جلدی فیصلہ کرو تم میں نابالغ کون ہے اور بالغ کون۔ ہم سب بلوغت کے اس ٹیسٹ سے ناواقف تھے۔ چنانچہ ہم نے چپ چاپ کان پکڑ لیے۔

یہ واقعہ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی کے 9 نمبر ہاسٹل میں پیش آیا تھا۔ میں نے تازہ تازہ ایل ایل بی میں داخلہ لیا تھا۔ ہاسٹل گیا تو پہلی رات سینئر سٹوڈنٹس نے ہماری ریگنگ شروع کر دی۔ سینئرز کا لیڈر منڈی بہاؤالدین کا کوئی چدھڑ تھا۔ شکل اور آواز سے بدمعاش لگتا تھا جبکہ ہم سب چھوٹے چھوٹے چوچے تھے۔ ڈشکرے چدھڑ کا بلوغت کا بس ایک ہی معیار تھا۔ جس سٹوڈنٹ نے کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ پڑھ رکھی ہو وہ اس کی نظر میں بالغ تھا اور باقی نابالغ۔ ہال میں موجود تمام نئے طالب علم اس رات نابالغ نکلے۔ چنانچہ منڈی بہاؤالدین، پھالیہ اور سرگودھا کے رانجھے اور چدھڑوں نے ہمیں مرغا بنائے رکھا۔ میں نے دوسری صبح سب سے پہلے یونیورسٹی کی بک شاپ سے ”جھوٹے روپ کے درشن“ خریدی اور بالغ ہو گیا۔ ”

انڈین فلموں کے مہان گیت نگاروں میں سے ایک نیرج کا ایک گیت ہے۔

لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے جو رات آئی تو ستارے بن گئے

خط ہماری تہذیب میں عاشق و معشوق کے درمیان اظہارِ جذبات کا ایک ایسا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے جس کے بغیر آج سے ربع صدی قبل تک اس تعلق کا تصور ناممکن تھا۔ کنول نامی لڑکی سے پنجاب یونیورسٹی میں طالب علمی کے دور میں راجہ انور کا قائم ہونے والا تعلقِ خاص ایسے ہی جذبات کی رنگینی میں گندھے خطوط کے وجود میں آنے کا باعث بنے۔ یہ رشتہ زیادہ پائیدار ثابت نہ ہوا اور پھر ٹوٹ گیا۔ بس اپنی میراث میں ان خطوط کی پوٹلی چھوڑ گیا جو اس دورِ جنوں میں لکھے گئے تھے۔ راجہ انور نے ان یادوں کو دوام دینے کو ً ”جھوٹے روپ کے درشن“ کے عنوان سے یہ خطوط شائع کیے۔

یہ خطوط اس دور کے نوجوانوں کو ایسے بھائے کہ ان کے لیے صحیفہِ جوانی بن گئے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پھر ایسا کوئی معجزہِ فن کسی اور قلم سے کاغذ پہ پھول اور ستارے نہ ٹانک سکا۔

Facebook Comments HS