ڈونلڈ ٹرمپ کی 22 سالہ جدوجہد
ٹرمپ کی دوسری ٹرم میں صدارت کا پہلا سال مکمل ہونے تک اُسکے مشہور ٹی وی پروگرام ’دا اپرنٹس‘ کی شروعات کو 22 سال مکمل ہو چکے ہوں گے۔ ’یو آر فائرڈ‘ کے جملہ کی وجہ سے بھی مقبول ہوا یہ پروگرام ٹرمپ کی پہلی ٹرم میں کامیاب الیکشن کمپیئن کے محرکوں میں سے سمجھا گیا۔ یہ دلچسپ ہے کہ خود ٹرمپ کو اُس پروگرام کے نشریاتی ادارے نے میکسیکن امیگرنٹس کے بارے میں اُسکے کمنٹس پر اختلاف کی وجہ سے کنٹرکٹ مکمل ہونے سے پہلے فائر کر دیا تھا۔
عمران خان نے 2018 میں اقتدار کے حصول کو 22 سالہ جدوجہد کا نتیجہ کہا جس کا نقطہ آغاز 1996 بنتا ہے جب عمران نے آئی ایس آئی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل حمید گل کی حمایت اور مشورہ سے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ جدوجہد جنرل مشرف کی ریفرنڈم میں حمایت، طویل مارشل لاء کے بعد ہوئے پہلے الیکشن کے بائیکاٹ، ایک جمہوری حکومت کی طرف سے مشرف پر چلائے مقدمہ کی پیش بندی کے لئے دھرنے سے ہوتی ہوئی بالآخر اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ایک متنازع الیکشن میں کامیابی پر اختتام پذیر تو ہوئی مگر ایک پارلیمانی ووٹ آف نو کانفیڈنس میں حکومت کھو بیٹھنے کو عمران نے پہلے امریکہ اور پھر اسٹیبلشمنٹ ہی کی طرف سے فائر کر دینے کے مترادف گردانا۔
ٹرمپ اور عمران کے ایک ہی مضمون میں ذکر کے پیچھے وہ مماثلت ہے جس کا پاکستان میں پہلا اشارہ پرویز ہود بھائی کی طرف سے اُن کے ایک کالم میں کیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ امریکی کامیڈین ٹریور نووا نے بھی اپنے ایک پروگرام میں اس کا ذکر کر دیا جس سے شخصیت اور سیاست کی یہ مماثلت مزید نمایاں ہوئی۔ یہ دلچسپ ہے کہ عمران خود اپنی حکومت بن جانے تک ٹرمپ کی صدارت کے سٹائل کو نواز شریف کے طرز حکومت سے مماثلت دیتا تھا جس کی وجہ غالباً دونوں کی بزنس بیک گراؤنڈ اور فیملی پالیٹکس بی ہوں گی۔
میں نے ٹرمپ اور عمران کی حکومتوں کے بالترتیب آغاز کے بعد ٹرمپ کی پہلی ٹرم پر ہوئے تبصروں میں دلچسپی لی اور اس موضوع پر اتنی کتابیں پڑھ لیں کہ غلط فہمی پیدا ہوئی کے مطالعہ کے دوران لئے گئے نوٹس کو ایک کتاب کی شکل دی جا سکتی ہے۔ ہمت البتہ اتنی ہی تھی کہ اس پر ایک مضمون؛ ’چھے جنوری سے نو مئی، براستہ تین اپریل‘ لکھ سکوں جو اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ تو یہ بلاگ ایک طرح سے اُسی مضمون کا دوسرا حصہ ہے۔
میں نے اپنے پہلے لکھے مضمون میں ٹرمپ اور عمران کے پلے بوائے ماضی یا سلیبریٹی شخصیت، ہر حال میں جیتنے کی خواہش اور شکست سے بچنے کے لئے کسی بھی حد سے گزر جانے کی طرف مائل ہونے کا ذکر کیا تھا۔ حکومتیں ختم ہونے پر ٹرمپ کی طرف سے پہلے 2020 کے الیکشن نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش اور پھر اُسکے حامیوں کے 6 جنوری کو امریکی سینٹ پر حملہ آور عمران کی طرف سے 3 اپریل کے ووٹ آف نو کانفیڈنس کو غیر قانونی طریقہ سے زائل اور بعد میں اُس کے حامیوں کے 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کا تقابل کیا۔ اور پھر ٹرمپ اور عمران پر اُس وقت چل رہے مقدمات کے ذکر کے علاوہ 2024 الیکشن میں عمران کی مقبولیت کے اُس کے کام نا آ سکنے کا تذکرہ کیا اور سوال اٹھایا تھا کہ کیا ٹرمپ جس نے الیکشن میں اپنی ہار پر ایسی بے عزتی محسوس ہونے کا اظہار کیا تھا جیسے اُسے فائر کیا گیا ہو آنے والے الیکشن میں کامیاب ہو گا۔
ٹرمپ کو 2024 میں ہوئے الیکشن میں کامیابی مل گئی، عمران ہی کی طرح اکثریتی ووٹ حاصل کیا مگر عمران کے برعکس حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا تو بظاہر دونوں کی جدوجہد نے اُس مقام پر ایک مخالف سمت لے لی۔ اس انحراف کے باوجود دونوں کی شخصیت، اس کے تاثر اور تجربات میں اتنی مماثلت موجود ہے کہ عمران کی ایک اور حکومت بھی خارج الامکان نہیں ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سے جذبات و محرکات ٹرمپ اور عمران کی اس جدوجہد کو ایک ہی رنگ دیتے ہیں؟
پہلے تو اس مماثلت کے بارے میں خود تحریک انصاف کے اپنے رویہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ جیسے مضمون میں پہلے ذکر ہوا کہ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خود تو ٹرمپ کی شخصیت کو اپنے بدترین مخالف نواز سے مطابقت دیتا تھا۔ البتہ اپنی حکومت کے قیام کے بعد اُس کا رویہ ٹرمپ کے بارے میں بدل گیا اور دورہ واشنگٹن کے دوران ہوئی ملاقات اور گفتگو کو 92 میں کرکٹ ورلڈ کپ میں کامیابی کے برابر ٹھہرا دیا جس نے پھر تحریک انصاف کے حامیوں کے ٹرمپ کے بارے میں تاثر کو بھی بدلنا شروع کر دیا۔ یہ تاثر بعد ازاں ہوئے واقعات اور مذکورہ بالا مشترکہ تجربات سے مزید جڑ پکڑ گیا اور اب حالات یہ ہیں کہ امریکہ میں موجود پی ٹی آئی کے ہمدرد اس مماثلت کو ابھار کر ٹرمپ کے اردگرد موجود لابی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔
اس سب میں غلط شاید صرف وہ منفی جذبات و محرکات ہی ہیں جو ٹرمپ اور عمران اپنے اپنے حامیوں میں بوقت ضرورت ابھارنے میں کامیاب رہے۔ ٹرمپ اپنے مخالفوں کو تضحیک آمیز ناموں سے پکارنے، اُنکے بارے میں سوشل میڈیا پر افواہوں کو پھیلانے، ایسے ریاستی ادارے اور سرکاری ملازمین جو موافق نا ہوں پر حملہ آور ہونے، نسلی و مذہبی تعصبات کو ہوا دینے وغیرہ سے اپنے فالورز میں غصہ اور آزردگی کے ایسے جذبات پیدا کرنے میں کامیاب رہا جو اُس کا نا ختم ہونے والا اثاثہ بن گیا اور وہ ایک دفعہ حکومت کھو دینے کے چار سال بعد دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اُس نے لوگوں کے دلوں میں مخالفوں سے نفرت اور اپنے سے عقیدت کے جذبات کا مکسچر ایسی کامیابی سے سمو دیا کہ تمام ذاتی اور حکومتی ناکامیوں، 6 جنوری جیسے واقعات وغیرہ کا کوئی منفی اثر نہیں رہا۔
میرے خیال میں عمران کا طرز سیاست بھی ایسے ہی منفی جذبات کو ہوا دینے سے معمور ہے۔ اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے امریکی اڈوں کے پاکستان میں ممکنہ قیام کے سوال پر ایبسولیوٹلی ناٹ کے جواب کو نمایاں تشہیر دینا دلوانا ایک مثال ہے۔ امریکہ کی طرف سے اڈوں کی ڈیمانڈ کی تردید حالانکہ عمران حکومت کے اپنے وزیر خارجہ اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے خود کی۔ ایک اور مثال اپنی حکومت کو ختم کرنے کا الزام براہ راست امریکہ پر لگانے میں تھا۔ تھوڑے عرصہ بعد لیکن امریکہ پر لگائے الزام سے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے ایک اور رنگ دیا اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اصل محرک ثابت کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس سارے عرصے میں البتہ قوم کے جذبات کو اینٹی امریکہ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور حقیقی آزادی کے نعروں سے اتنی تحریک دے دی کہ جو مقبولیت اپنے دور حکومت میں کم ہو گئی تھی وہ پہلے سے بھی بڑھا لی۔
اس طرز سیاست کی وہ مثال جو موجودہ وقت میں سب سے متعلقہ ہے عمران کا مولانا فضل الرحمان سے رویہ میں اب آ چکا فرق ہے۔ ٹرمپ کی تقلید میں عمران نے اپنے مخالفوں کی تضحیک میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس تضحیک کا سب سے بڑا نشانہ بظاہر صوم و صلوٰۃ کے پابند فضل الرحمان کی ذات رہی ہے، جسے وہ خود اپنے جلسوں میں اور اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل نشانہ بنائے ہوئے تھا۔ اُسے مولانا کہنے کو غلط اور اُس کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناجائز قرار دیتا تھا۔ اب یہ مکافات عمل ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے پی ٹی آئی کے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے بعد صرف فضل الرحمان کے پاس ایسی سٹریٹ پاور ہے جس سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اب تحریک انصاف کے لیڈران مولانا کے گھر کے چکر لگاتے اور ان کی امامت میں باجماعت نمازیں ادا کرتے نظر آتے ہیں۔
ٹرمپ کی جدوجہد کی تاریخ بھی ایسے ہی تضادات سے بھری ہے مثلاً کچھ سال پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کی سپورٹ اور پارٹی کے نمایاں عہدیدران سے قریبی تعلقات۔ اس کے علاوہ کہاں ایک پلے بوائے کی زندگی، مس یونیورس اور مس ورلڈ مقابلوں کی ملکیت اور کہاں اب خاندانی روایات کے تحفظ کا پلیٹ فارم اور وائٹ ہاؤس میں مذہبی لیڈروں کے جمگھٹوں میں عبادات کی تصاویر وغیرہ۔
تمام لیڈران میں کم و بیش ایسے تضادات موجود ہی ہوتے ہیں اور کامیابی ایسی سب بحثوں کا علاج ثابت ہوتی ہے جیسی ٹرمپ کو تازہ الیکشن میں ملی اور تسلیم کر لی گئی۔ اب وہ امریکہ اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ یقیناً اُس کے سپورٹروں کا بھی مسئلہ ہے چونکہ اس میں بہت کچھ ناخوشگوار اور غیر متوقع ہے۔ عمران کا کامیابی کی طرف سفر ابھی لمبا لگتا ہے اور اُسکے سپورٹرز کی ابھی تو یہ امید بھی پوری نہیں ہوئی کہ ٹرمپ کی صدارت کے آغاز ہی میں عمران کو جیل سے نجات مل جائے گی، حقیقی آزادی بے شک ابھی نا بھی ملے۔
ٹرمپ اور عمران کی طاقت کے حصول کے لئے اپنائی اس پلے بُک پر عمل کے نتیجہ میں کامیابی کے بارے میں شک نہیں ہونا چاہیے لیکن اس جدوجہد کے اخلاقی معیار پر پورا اترنے کے بارے میں سوالات جائز لگتے ہیں خاص طور پر جب سیاست مذہب کے نام پر کی جا رہی ہو۔
چھے جنوری سے نو مئی، براستہ تین اپریل


