پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور لاء اینڈ آرڈر
پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک اور سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں دہشتگردی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے قوم کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر دہشتگرد حملے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، اور دیگر سنگین جرائم بڑھ رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں قانون کی عملداری خطرناک حد تک کمزور ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے دہشتگرد حملے، جرائم کی شرح میں اضافہ اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان، جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے، آج بھی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے ناسور کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشتگرد گروہ مختلف شکلوں میں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں بے گناہ عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آئے دن دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ دہشتگردی کی لعنت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دہشتگرد عناصر مسلسل ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خاتمے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کو درپیش چیلنجز، ناقص حکمت عملی، جدید سہولیات کی عدم دستیابی، اور کرپشن کی وجہ سے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ عوام عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ایک خطرناک سمت کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو ریاست کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دہشتگردی نہ صرف انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہشتگردی کے باعث پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں میں 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں جمود، اور سیاحت کے شعبے کی تباہی اس کے براہِ راست نتائج ہیں۔
اس کی ایک وجہ پاکستان کا عدالتی نظام جو کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات کا طویل التوا، گواہوں اور ججوں پر دباؤ، اور ناقص تفتیش کی بدولت کئی دہشتگرد سزا سے بچ جاتے ہیں۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی رپورٹ کے مطابق، دہشتگردی کے مقدمات میں سزا کی شرح محض 10 فیصد ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی کمزوری کو واضح کرتی ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، جو انہیں شدت پسندی کے نظریات کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ جب تک حکومت تعلیم، روزگار، اور سماجی انصاف کے شعبوں میں سنجیدہ اصلاحات نہیں کرتی، دہشتگردی کی جڑوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے جدید سہولیات اور ٹریننگ کی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہ دہشتگردوں اور مجرموں کے خلاف موثر کارروائی کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عدالتی نظام کی کمزوری، کرپشن اور ناقص تفتیشی نظام کے باعث کئی مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کو مزید شہ ملتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہماری حکومت اور سیکیورٹی ادارے موثر حکمتِ عملی نہیں اپنائیں گے، تب تک ملک میں امن و امان قائم کرنا مشکل ہو گا۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سخت سزاؤں کے ذریعے دہشتگردوں اور مجرموں کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ہو گا تاکہ وہ دہشتگردوں کے خلاف ریاستی اداروں کا ساتھ دیں اور مشکوک عناصر کی بروقت نشاندہی کریں۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ دہشتگردی صرف گولی اور بندوق سے ختم نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے ہمیں تعلیم، روزگار کے مواقع، اور سماجی انصاف کو بھی فروغ دینا ہو گا تاکہ نوجوان نسل انتہا پسندی کی طرف مائل نہ ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے پالیسیاں مرتب کرے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں اور انہیں ایک محفوظ اور پرامن مستقبل فراہم کریں۔
یہ وقت زبانی دعووں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ حکومت کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے
سب سے پہلے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ دوسرے نمبر پر عدالتی اور تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ دہشتگردوں کو سخت سزائیں دی جا سکیں۔ تیسرے نمبر پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تربیت کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے اور انہیں جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے۔ اور سب سے اہم مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مدرسہ ریفارمز کو نافذ کیا جائے کیونکہ تعلیمی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ہی نوجوانوں نسل کو دہشتگردوں کے چنگل میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ آخر میں، میں حکومت اور تمام سیکیورٹی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھائیں اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر زندگی گزار سکے اور جہاں دہشتگردی اور جرائم کا کوئی نام و نشان نہ ہو۔

