خواب، محبت اور زندگی (3)


جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome)

پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس وقت تیرہ یا چودہ سال رہی ہو گی۔ امی کے خاندان میں فسادات کے نتیجے میں جان گنوا دینے والے وہ پہلے فرد تھے۔ ہوا یوں تھا کہ ایک دن جب نثار ماموں کھیلنے باہر گئے تو گلی میں ایک سکھ نوجوان کی بارات آ رہی تھی۔ دولہا گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے دوست اور رشتہ دار ناچتے گاتے ہوئے ساتھ چل رہے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے لوگ بھی بارات کو دیکھ کر رک گئے تھے، وہ سب اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کچھ لمحوں میں ہی یہ خوشی ماتم میں تبدیل ہونے والی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اب ہم یا تو خبروں میں پڑھتے ہیں یا فلموں میں دیکھتے ہیں۔ اس وقت بھی مجھے یہ لکھتے ہوئے جھرجھری آ رہی ہے۔

سکھوں کی بارات پر مسلمان بلوائیوں نے حملہ کر دیا۔ دولہے کو گھوڑے سے کھینچ کر نیچے گرا دیا اور اپنی تلواروں سے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکرے کر دیے۔ معصوم اور حساس نثار ماموں اس خوف ناک واقعے کو برداشت نہ کر پائے، وہ صدمے کی حالت میں گھر کی طرف دوڑے۔ گھر پہنچتے ہی انہیں الٹیاں آنا شروع ہو گئیں اور ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ فسادات کی وجہ سے انہیں کسی قسم کی طبی امداد بھی نہ پہنچائی جا سکی اور تھوڑی دیر میں ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔ نثار ماموں انسانوں کو حیوان بنتا نہ دیکھ سکے اور اس بے رحم دنیا سے رخصت ہو گئے۔ نثار ماموں پہ جو گزری اسے طبی اصطلاح میں ”بروکن ہارٹ سنڈروم“ کہتے ہیں۔ اس میں انسان کا دل کسی۔ واقعے کی بنا پر شدید جذباتی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے اور کام نہیں کر پاتا جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک یا پھر موت واقع ہو جاتی ہے۔ بیوہ ماں اور دو نوعمر بہنوں کے لئے اکلوتے بیٹے اور بھائی کی موت سے بڑا صدمہ اور کیا ہو سکتا تھا۔ بقول امی کے اس وقت لگتا تھا کہ دنیا ختم ہو گئی لیکن زندگی اس واقعے کے بعد بھی چلتی رہی۔

فسادات کی وجہ سے نانی، خالہ اور امی پاکستان آنے سے پہلے امرتسر میں کچھ عرصہ کے لئے اپنا گھر چھوڑ کر سعادت حسن منٹو کی گلابی حویلی میں رہی تھیں۔ منٹو کی بہنیں ان کی سہیلیاں تھیں اور ویسے بھی کشمیری برادری میں کافی ایکا تھا۔ امی بتایا کرتی تھیں کہ منٹو بچپن میں بہت شرارتی ہوتا تھا۔ اونچی اونچی دیواروں پر چڑھ جاتا تھا۔ منٹو، حسن طارق اور بعد میں پاکستان کی فلمی دنیا میں مشہور ہونے والے امرتسر کے بہت سے کشمیری نوجوان بچپن میں ساتھ کھیلے تھے۔ منٹو اور چند دیگر بڑے ہونے کے بعد فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کے لئے گھر چھوڑ کر بمبئی بھاگ گئے تھے۔

فوج کی حفاظت میں امرتسر سے آنے والی آخری ریل گاڑی

خالہ نے انٹر کرنے کے بعد گورنمنٹ ایکسچینج میں ٹیلیفون آپریٹر کی ملازمت کر لی تھی، سرکاری ملازم کی حیثیت سے انہیں فوج کی حفاظت میں امرتسر سے آنے والی آخری ریل گاڑی میں میری امی اور نانی کے ساتھ آنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد آنے والی ٹرینوں پر حملے ہوئے اور خون ریزی ہوئی۔ ہجرت کرنے والی لڑکیاں اغوا ہوئیں، بہت سی لڑکیوں کا ریپ ہوا۔ انسان کے اندر چھپا ہوا درندہ جاگ اٹھا تھا اور وحشت و بربریت کا رقص عروج پر تھا۔ اس درندگی کا سب سے اثر انگیز نقشہ کرشن چندر نے اپنے ناول ’غدار‘ میں کھینچا ہے۔ دونوں طرف کٹی پھٹی لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں پہنچتی تھیں۔ خالہ، امی اور نانی نئے ملک میں تنہا پہنچی تھیں۔ باقی خاندان والے بعد میں پہنچے۔

میٹھا سال Sweet Sixteen

امرتسر سے لاہور آنے والے کشمیریوں کی اکثریت گوالمنڈی کے علاقے میں آباد ہوئی۔ جی ہاں، وہی گوالمنڈی جو کشمیری چائے اور باقرخانیوں کے لئے مشہور ہے۔ لیکن خالہ سرکاری ملازم تھیں اور ان کی پوسٹنگ کراچی میں ہوئی۔ اس لئے ان تین عورتوں کو ایک بار پھر بوریا بستر باندھ کر اس مرتبہ کراچی آنا پڑا۔ جہاں انہیں جٹ لائن میں رہائش کے لئے سرکاری کواٹر ملا۔ امی کی عمر اس وقت صرف سولہ سال تھی۔ آج جب میں اپنی انیس سالہ نواسی کو دیکھتی ہوں تو وہ مجھے بچی لگتی ہے تو امی تو صرف سولہ سال کی تھیں۔ اور اس عمر میں انہیں اتنے ذہنی اور جذباتی صدموں اور تبدیلیوں سے گزرنا پڑا۔ سچ تو یہ ہے کہ امی اپنے والد اور بھائی کی ناگہانی موت کے صدمے اور ہجرت کے دکھ سے کبھی باہر نہیں آ پائیں۔ ان کی روح امرتسر میں ہی رہ گئی تھی، جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔ وہ ہم سے امرتسر کی اتنی باتیں کرتی تھیں کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے امرتسر دیکھا ہوا ہے۔ امرتسر کا کمپنی باغ، امرتسر کے کٹرے، کٹرہ مان سنگھ وغیرہ۔ وہ سڑک جس پر سے گزر کر امی اپنی سہیلیوں کے ساتھ اسکول جاتی تھیں۔ میری امی کا امرتسر جسے میری نانی ’امبر سر‘ کہتی تھیں۔

Facebook Comments HS