علمی و ادبی اداروں پر یلغار اور وزیراعظم شہباز شریف!
یہ دسمبر 2015 کا ذکر ہے۔ علم دوست صدرِ پاکستان، ممنون حسین (مرحوم) نے مجھے یاد کیا۔ دِل سوزی اور دَرد مندی سے اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ اور علمی و ادبی اداروں کی عدمِ فعالیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا۔ ”کیوں نہ جگہ جگہ بکھرے پڑے، بے حس اور نااہل وزارتوں کی چکّی میں پستے، علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے تمام اداروں کو یک جا کر کے ایک الگ وزارت کی چھتری تلے دے دیا
Read more
























































