علمی و ادبی اداروں پر یلغار اور وزیراعظم شہباز شریف!

یہ دسمبر 2015 کا ذکر ہے۔ علم دوست صدرِ پاکستان، ممنون حسین (مرحوم) نے مجھے یاد کیا۔ دِل سوزی اور دَرد مندی سے اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ اور علمی و ادبی اداروں کی عدمِ فعالیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا۔ ”کیوں نہ جگہ جگہ بکھرے پڑے، بے حس اور نااہل وزارتوں کی چکّی میں پستے، علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے تمام اداروں کو یک جا کر کے ایک الگ وزارت کی چھتری تلے دے دیا

Read more

اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

پنجابی زبان اور اس کا ارتقا

پنجابی زبان برصغیر کی ایک قدیم اور معروف زبان ہے جو بنیادی طور پر پنجاب کے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند۔ آریائی زبانوں کے خاندان سے ہے، اور اس کا ارتقاء ہزاروں سال پر محیط ایک تاریخی اور ثقافتی عمل کا نتیجہ ہے۔ 1۔ پنجابی زبان کی ابتدا پنجابی زبان کی جڑیں سنسکرت، پراکرت، اور پھر شہستری اپ بھرنشش (Apabhramsa) زبانوں میں ملتی ہیں۔ ان زبانوں کا ارتقا ویدک زمانے (تقریباً 1500 قبل مسیح) سے

Read more

جیل بیتی۔ اختتام

ہر چیز پہ بہار تھی ہر شے پہ حسن تھا دنیا جوان تھی میرے عہدِ شباب میں جوانی کے حوالے سے امجد اسلام امجد کا ”وارث“ میں لکھا گیا ایک مکالمہ بھی یاد میں تازہ ہے۔ ”جوانی تو کیکر پر بھی آتی ہے تو اس پہ پھول کھلتے ہیں“ ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے درمیان جس کتاب نے خوب دھوم مچائی وہ راجہ انور کی کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ تھی۔ اس کتاب کے بارے میں

Read more

جی ایم بٹ : کچھ یادیں کچھ باتیں

میں جب 2004 اکتوبر میں پنجاب کالج سیشن کورٹ روڈ گوجرانوالہ کے تدریسی عملے کا حصہ بنا تو میرے ساتھ نوید اقبال، مولوی احسان، عمران صدیق اور حافظ عمران بٹ صاحب بھی تھے۔ ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم سے کچھ ماہ پہلے انگریزی میں ریاض اور جی ایم بٹ، اسلامیات میں جاوید صاحب بھی تدریسی عملے کا حصہ بن چکے تھے۔ تمام لوگوں سے میرا ایسا تعلق قائم ہوا جو عمروں پے محیط ہوتا ہے مگر جی ایم

Read more

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم

اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔ میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال

Read more

امجد اسلام امجد

اردو ادب کا عظیم سرمایہ 10 فروری 2023 کو لاہور میں منعقدہ پاکستان ادبی میلہ کے دن اپنے چاہنے والوں کو بندش قلب کے باعث داغ مفارقت دے گیا۔ وہ 4 اگست 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شاعر، ادیب، دانشور اور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کو ڈرامہ وارث تحریر کرنے پر ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ جب ڈرامہ وارث نشر ہوتا تو پاکستان کی گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان اور چین میں بھی بہت

Read more

اداس نسلیں

عبداللہ حسین نے کئی برس پہلے برطانوی دور کے پنجاب میں مسلمانوں کی زندگیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ پر ایک ناول ”اداس نسلیں“ کے نام سے لکھا تھا، جسے اردو ناول کے کلاسک کا درجہ حاصل ہے، کبھی کبھی مجھے یہ خدشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ مجھ جیسے تارکین وطن شاید عبداللہ حسین کی اداس نسلوں کا تسلسل ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی بات ہے، سڈنی میں رہائش پذیر معروف ادیب اشرف شاد جب جامعہ کراچی تشریف لائے

Read more

ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں

ماں کے بارے میں میرے گزشتہ کالم نے نہ جانے کتنے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔ کتنوں کے زخموں کا موم ادھیڑ ڈالا۔ مجھے بے شمار فون آئے اور اَن گنت پیغامات۔ ان میں سے ہر ایک نے میرے کالم کے آئینے میں اپنی ماں کا چہرہ دیکھا۔ لاریب ساری دنیا کی مائیں ایک سی ہوتی ہیں لیکن ہر ایک کی ماں، صرف اس کی ماں ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ماؤں جیسی لیکن سب سے جدا، سب سے منفرد۔

Read more

سائنس بورڈ کے اقدامات و امکانات

ادارہ زبان و ادبیات اردو، اورینٹل کالج لاہور میں 8 جنوری 2025 کو ”انجمن اردو“ کے تخت اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جناب ضیاء اللہ خان طورو کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارے کے طلباء کے ساتھ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نعیم ورک صاحب نے انجام دیے۔ ڈاکٹر نعیم صاحب نے ابتدائی گفتگو میں نشست کی اہمیت و افادیت کے ساتھ سائنس بورڈ کے حوالے سے مختصراً گفتگو کی اور

Read more

سقوط ڈھاکہ: جب دیس بٹا دو ٹکڑوں میں

” نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ 16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان دولخت ہُوا جس نے پاکستانیوں کے دل لخت لخت کر دیے۔ مسجدوں کا شہر ڈھاکہ ہمارا نہ رہا۔ نا اہلی، کج روی اور عوام سے نا انصافی برتنے کے باعث سقوطِ ڈھاکہ، کا منظر ساری دُنیا نے دیکھا۔ متحدہ پاکستان کا دولخت ہو جانا، تاریخِ پاکستان کا ایک ایسا خوں چکاں سانحہ ہے، جو ہمیشہ لہو کے آنسو رُلاتا رہے گا۔ اس

Read more

ہزارہ داستان اور ادبی میلہ

خیبر پختونخوا کا ہزارہ تاریخی، سیاسی، علمی، ادبی اور ثقافتی جہتوں سے مالامال ہے۔ دوسری صدی عیسوی کے راجہ رسالو کے داستان اور ذکر، اپریل 326 قبل مسیح میں سکندر یونانی کے ضلع بٹگرام تھاکوٹ کے مغرب میں، حالاً ضلع شانگلہ میں واقع ’پِیر سر‘ یا موجودہ بونیر کے کوہ ایلم کے آخری محاصرہ، جس کو یونانی مورخین بلندی اور الگ تھلگ ہونے کے باعث ’اورنوس‘ یعنی ’ماورا پرواز‘ لکھتے ہیں، سے لے کر مانسہرہ میں اشوکا سے منسوب خروشتی،

Read more

پاکستان ٹیلی ویژن کے 60 سال

ٹیلی ویژن کی ابتداء 1930 میں ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں 1950 میں ٹی وی کا آغاز ہوا اور 1960 میں پوری دنیا میں اس کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ ٹیلی ویژن دو الفاظ ٹیلی اور ویژن کا مجموعہ ہے۔ ٹیلی کا مطلب دوری یا دور ہے اور ویژن کا مطلب دیکھنا ہے۔ اس طرح اس کا مطلب ہوا دور سے دیکھنا۔ ہندوستان کے سرکاری ٹی وی کا نام اسی مناسبت سے دور درشن ہے۔ یعنی دور سے دیکھنا۔ ٹیلی ویژن

Read more

سموگ اور ہم لوگ: دم گھٹا جاتا ہے اب لاہور میں

لاہور دْنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونے کے اعزاز کا حامل ہے، پہلے کہا جاتا تھا کہ جنھے لاہور نہیں تکیا او جمیا ای نہیں۔ ماضی قریب میں پت جھڑ سے موسم کی تبدیلی کا اشارہ ملتا، پرندوں کی ہجرت موسم کے بدلنے کا پتہ دیتی۔ ہوائیں اچانک سرد ہو جاتیں اور شام کے سائے لمبے ہو جاتے تھے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ: شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی

Read more

شعر و سخن کی تابندہ روایت کا متمنی

تجسس انسانی فطرت کا انمول خاصا ہے۔ اس کی بدولت دلچسپی کا محور بنتا ہے۔ سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ تجربات و مشاہدات معرض وجود میں آتے ہیں۔ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ شعور و آگاہی ملتی ہے۔ تحقیق و جستجو کا چراغ جلتا ہے۔ قلم اٹھانے کی ہمت بڑھتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی لفظ کی مرہون منت پروان چڑھ کر تخلیق کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پھر اسے محفوظ رکھنے کے لیے صفحہ قرطاس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

Read more

شاعروں کے تخیلات پر کچھ ادبی اجتہاد

بھلے عمل میں متحرک نہ سہی مگر شعراء معاشرے کے انتہائی ذہین لوگ ہوتے ہیں اور ان کی پر و ازِ تخیل، ماورائے ثریا ہوتی ہے۔ یہ بڑے بڑے انقلابوں، بلووں اور معاشقوں کے راہ ہموار کرتے ہیں۔ بس ذرا عائلی اور خاص کر مالی حالات ناگفتہ بہ رہتے ہیں۔ شعرا تعارف کے سوا ہر شے کے محتاج ضرور سہی مگر خودداری و وضع داری کے موجب اظہارِ احتیاج کے محتاج نہیں ہوتے۔ شیکسپئر نے تو مذاق میں کہا تھا

Read more

انگریزوں کے جاسوس نے چائے کیسے چرائی

چائے ہمارے معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ چاہے وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھک ہو، خاندانی محفل ہو، یا کوئی خاص تقریب، چائے کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً پاکستان کے مختلف علاقوں میں چائے کی مختلف اقسام، جیسے کہ نمکین چائے (جسے عام طور پر گلگتی چائے کہتے ہیں ) کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف گرم مشروب کے طور پر استعمال ہوتی ہے بلکہ ہمارے تعلقات اور بات چیت کو

Read more

چائے کی معنویت

دنیا کارگہِ مجموعہ ہائے حقیقت ہے اور اس کارخانہِ قدرت میں بہت سی سچائیاں پائی جاتی ہیں۔ اکثر سچائیوں کا تعلق کسی خاص علاقے یا کلچر سے ہے جب کہ چند ایک سچائیاں ایسی ہیں جنہیں عالمگیری سچائیاں کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ کتاب کی افادیت، زمین کا گھومنا، وہموں کا پایا جانا، اور چائے کا کسی نا کسی صورت میں عالم کے تمام ممالک میں موجود ہونا۔ جہاں تک چائے کی بات ہے چائے کتاب اور موسم ایک

Read more

جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر

”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“ شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔ سال انیس سو اٹھاسی ہے۔ شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔ لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے

Read more

ترکیہ اور پاکستان :ادبی اور ثقافتی رشتے

(یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”اکیسویں صدی میں ادب، تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں ترکیہ پاکستان کے باہمی روابط“ میں بہ بطور مہمان خصوصی پیش کی جانے والی چند سطور) جب ترکیہ کو خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا تب سے ہمیں یہ ملک اپنا اپنا لگتا ہے ؛ ہمیشہ سے دل کے قریب۔ جدید

Read more

مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں

خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف

Read more

لندن تا برمنگھم ( 3 ):  وہ ایک شخص دلربا سا

”کچھ ہی دیر میں آپ برمنگھم شہر پہنچنے والے ہیں، اگلے چوراہے پر سیکنڈ رائٹ لیں، پانچ میل سیدھے چلیں، ساٹھ میٹر بعد لیفٹ لیں۔“ سیٹلائٹ نیوی گیشن پر ہدایات دینے والی ’خاتونِ سوم‘ کی دِل نشیں آواز ابھی کانوں میں رَس گھولنے لگتی ہے کہ بیچ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہمارے میزبان رحیم شاہ ’بھئی صیب‘ کی ریڈ اِلرٹ بھی ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ ”ہم آدھے گھنٹے میں اپنے میزبان کے گھر پہنچنے والے ہیں، تیاری پکڑیں۔“

Read more

عاصم بٹ منفرد ناول نگار

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کشمیریوں کی گوت بٹ سے تعلق رکھنے والا عاصم ان بہت ساری خصوصیات میں منفرد سا ہے جن کے لیے اس برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ لا ابالی، بے فکرے پن اور قہقہہ بار سی صفات سے عاصم بٹ کی ذرا کم کم ہی شناسائی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہری ذہانت آمیز سنجیدگی اور ہونٹوں پر جمی خاموشی پل بھر کے لیے دیکھنے والوں کو کئی سوالوں کی

Read more

پہلوان سخن سے بناکا گیت مالا اور ”ایکس“ تک‬

اردو شعر و ادب سے ذوق رکھنے والے احباب کے لیے شیخ امام بخش ناسخ ملقب بہ پہلوان سخن کا نام اجنبی نہ ہو گا۔ آپ اردو کے کلاسیکی شعراء میں اہم مقام کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فیض آباد میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی میں لکھنو میں انتقال ہوا۔ ان کی سوانح سے پتا چلتا ہے کہ کسرتی بدن اور جسمانی ورزش کے شوق کے سبب فن پہلوانی میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اردو شاعری کی

Read more

ڈیجیٹل نوجوان مستقبل کے معمار

نوجوان معاشرے کا چہرہ اور سرمایہ ہیں، یہ کسی بھی معاشرے کی اساس ہوتے ہیں۔ پاکستان ان خوش قسمت ملکوں میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا 60 فی صد سے بھی زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جب کہ کل آبادی کا 29 فی صد وہ ہیں جن کی عمر 15 سے

Read more

امجد اسلام امجد: ”میری بات بیچ میں رہ گئی“

امجد اسلام امجد مرحوم کے انتقال کو ایک برس بیت گیا، پہلی برسی پر ان کے کئی چاہنے والوں کی طرح وہ ہمیں بھی بہت یاد آئے تو سوچا کہ ان کو اس موقعہ پر خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ 10 فروری 2023 بروز جمعہ آفس کے کیفے ٹیریا میں بریانی اور خوش گپیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اچانک ہمارے دوست کی نظر ٹیلیویژن پر پڑی، اس کے منہ سے نکلا امجد اسلام امجد کا انتقال ہو گیا۔ ہم

Read more

کھلاڑی سے کہاں غلطی ہوئی؟

چاہ کن ر اچاہ در پیش: ”کنواں کھودنے والے کے سامنے کنواں ہی آتا ہے۔ “ فارسی کا یہ جملہ، ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ہمیشہ دوسروں کو تکلیف دینے میں سرگرم ہو اور پھر اچانک خود کسی مصیبت میں پھنس جائے۔ سائفر کیس میں عمران خان کو یہی معاملہ در پیش ہے۔ سائفر اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 54

زاہدہ کا گھر، بہت پیارا گھر اسٹیشن سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ اس کے نیچے کی منزل میں ایک ڈرائنگ روم، ایک کمرہ اور کمرے کی بغل میں باورچی خانہ تھا۔ آخر میں ایک برآمدہ بھی تھا جسے شیشے کی دیوار سے بند کر کے لاؤنج مع ڈرائنگ روم میں بدل دیا گیا تھا۔ اس کے باہر ایک وسیع مستطیل لان تھا۔ دو کمرے اوپر کی منزل پر تھے۔ اس گھر کا ہر گوشہ اس بات کی گواہی

Read more

سیلف میڈ مین قدیر احمد

امجد اسلام امجد مرحوم کی ’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘ کے عنوان سے ایک خوبصورت نظم ہے جسے پڑھتے ہوئے دبئی میں مقیم سیالکوٹ کا ایک نوجوان بزنس مین قدیر احمد یاد آ گیا۔ بسیار کوشش کے باوجود میں آج تک ”بزنس مین“ (Business Man) اور ”سیلف میڈ مین“ (Self Made Man) کا صحیح اردو ترجمہ نہیں ڈھونڈ سکا تھا۔ بظاہر انگریزی کے لفظ بزنس مین کا اردو ترجمہ تاجر ہے مگر اردو زبان و ادب میں تاجر عموماً ایسے

Read more

رنگ خزاں بھی کم نہیں رنگ بہار سے

پاکستان کے نامور شاعر امجد اسلام امجد کیا یک غزل میں ردیف ”خزاں کے آخری دن تھے“ پڑھا تو تعلقات میں فراق اور محبت میں کمی کے کئی جذبوں سمیت زندگی کی جاتی بہاروں کا احساس ہوا لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ خزاں کے آغاز اور خزاں کے پہلے دنوں میں احساسات کیا ہوں گے؟ ٹھیک ہے کہ اردو شاعری میں بار بار خزاں کے آتے ہی بہار کے جانے کا احساس اور زندگی سے رنگ، پھول،

Read more

’وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں۔۔۔‘ کیا پاکستان اب بھی سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے؟

اکثر شائقین اب بھی یہ جاننا چاہتے ہوں گے کہ کیا پاکستان کی اب بھی سیمی فائنل تک رسائی کی کوئی امید باقی ہے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ ایسا ہونا بہت مشکل ہے بلکہ اگر پاکستان کی بولنگ فارم کو دیکھا جائے تو شاید ناممکنات میں سے ہے۔

Read more

تانیثیت اور اردو تانیثی ادب

تانیثی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس میں خواتین کے سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر جملہ حقوق کے متعلق اظہار خیال کیا گیا ہو۔ تانیثی ادب کا آغاز سب سے پہلے مغرب میں انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے آنے سے ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ 1790 میں ایڈمنڈ برک نے ایک کتاب A vindication of the right of men لکھی۔ جس کے جواب میں 1792 میں میری وول اسٹون کرافٹ نے A

Read more

کھڑکیاں اور اکتوبر

کھڑکی کے باہر ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے! چاہے وہ کمرے کی کھڑکی ہو جو باہر آپ کے لان میں کھلتی ہو، یا باہر کی طرف کھلنے والی دوسری کھڑکی ہو جو سڑک کی طرف کھلتی ہو۔ میری یہ کھڑکی باہر ٹیرس پر کھلتی ہے جس پر میرا سجایا ہوا پورا باغ نظر آتا ہے۔ یہ چھوٹا ہے مگر میرے لئے پورا باغ ہی ہے جسے میں دو سال سے محنت سے سیج رہی ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ

Read more

کتاب کی کشش کم نہ ہوگی

یہ کوئی سولہ برس پرانی بات ہوگی، جب اخبار پڑھنے کی چیز ہوا کرتا تھا، زیادہ صفحات کے ساتھ خریدنے کی استطاعت میں بھی تھا۔ ایک لڑکا جس نے آج تک غیر نصابی کتب کے سوا کوئی کتاب نہ خریدی تھی وہ اخبار متواتر خریدتا، ایڈیٹوریل صفحہ فولڈ کر کے کالج کے بستے میں ڈال دیتا۔ گھر سے کالج کی راہ تک دو سوزوکیاں بدل کر سفر انجام کو پہنچتا تھا۔ اس کا یہ معمول تھا کہ دو کالم کالج

Read more

امجد حیات کے پرسے کا انتظار

امجد حیات جب تک حیات تھا مجھے دکھ کے لمحوں میں پرسہ دیتا تھا۔ رانا اعجاز کی وفات ہو، اقبال ارشد، حسین سحر، طاہر اوپل یا کسی اور عزیز کی امجد حیات کا فون دکھ کے ان لمحوں میں ضرور آتا تھا۔ مجھے یاد ہے امجد اسلام امجد کی وفات پر بھی امجد حیات نے مجھے تعزیت کے لیے فون کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بس رضی یہ دوسرا امجد بھی جانے والا ہے۔

Read more

امجد اسلام امجد کا فلیمنگ روڈ

معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد سے میری آخری ملاقات جولائی 2022 میں ان کے گھر پر ہوئی۔ وہ بڑی دلچسپ گفتگو کرتے تھے اس لیے کوئی نشست کتنا ہی طول کھینچ جاتی بندہ بور نہیں ہوتا تھا۔ اس دن ان سے بات چیت زیادہ تر لاہور میں ان کے آبائی علاقے فلیمنگ روڈ کے بارے میں ہوئی جہاں 30 کی دہائی کے اوائل میں، سیالکوٹ سے ہجرت کے بعد ، ان کا خاندان آباد ہوا تھا۔ فلیمنگ

Read more

مرحومین کے لئے سول اعزازات کا میلہ!

خوشی قسمتی سے اس سال صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے تمغہ حسن کارکردگی وصول کرنے والوں میں ہمارے دوست اور ہم سے ایک سال سینئیر سٹوڈنٹ اور قومی اسمبلی کے جوائنٹ سیکریٹری مشتاق انجم بھٹی بھی شامل تھے۔ ہماری پوری بھٹی برادری اور دیگر دوست احباب کو مشتاق انجم بھٹی کے یہ قابل فخر اعزاز حاصل کرنے پر بڑی خوشی ہوئی۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو یوم آزادی کے موقعہ پر حکومت پاکستان

Read more

کیا لوگ تھے

کتابیں بہترین رہنما ہیں۔ کتابیں آپ کی بہترین دوست ہیں۔ آج ایک کتاب کیا لوگ تھے پڑھنے کا موقع میسر آیا ۔ یہ کتاب ہی نہیں ایک دستاویز بھی ہے۔ انسان اس وقت منزل مقصود تک بآسانی پہنچ جاتا ہے جب منزل کا صحیح راستہ معلوم ہو۔ آج ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اپنے اسلاف کے کارہانمایاں کا علم ہونا ہے۔ جب ہمیں ان کے کارناموں ‘ کامیابیوں کا علم ہوگا تو ہم ان کے

Read more

ارشاد احمد حقانی کی خودنوشت کہاں ہے؟

دلآویز انداز کی معروف کالم نگار، شاعرہ اور ادیبہ سعدیہ قریشی کی ایک کتاب قلم فاؤنڈیشن، لاہور نے‘ کیا لوگ تھے ’کے عنوان سے شائع کی ہے۔ سعدیہ قریشی خوبصورت نثر لکھنے والی صاحب مطالعہ مصنفہ ہیں۔ زیرنظر کتاب کا بڑا حصہ پاکستان کے سماجی و ادبی مشاہیر کے بارے میں لکھے گئے ان کے دل گداز کالموں پر مشتمل ہے جن میں جنید جمشید، طارق عزیز، عبدالستار ایدھی، ضیا محی الدین، نیرہ نور، بشریٰ رحمن، بانو قدسیہ، احمد فراز،

Read more

کیا میر کی شہرت مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہے؟

آج تک یہی پڑھا اور سنا ہے کہ میر تقی میر اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ میر کے زمانے میں مغلیہ سلطنت ادھڑ رہی تھی۔ بنگال کی طرف سے انگریز پیش قدمی کر رہے تھے، جنوب کی طرف سے مرہٹے حملہ آور تھے اور رہی سہی کسر افغان حملہ آور پوری کر رہے تھے۔ میر کا زمانہ غدر، طواف الملوکی اور افراتفری سے عبارت ہے۔ جس نے میر کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے جن کا اظہار

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (آخری قسط)

  عطا الحق قاسمی کی نظم ٹریفک سگنل اپنے اندر ایک عجیب، تاثر، جاذبیت اور غم کی کیفیت سموئے ہوئے ہے۔ قاری یہ نظم پڑھ کر خود کو اداس محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر قاری حساس ہو تو وہ اپنی آنکھوں کو نمناک ہونے پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ ملاحظہ فرمائیے نظم ٹریفک سگنل نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (4)

عطاالحق قاسمی صاحب کو بحیثیت نظم گو شاعر کے بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ نظم کے ایک توانا شاعر کے طور پر بھی ان کی انفرادیت کو برملا تسلیم کیا گیا۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ نظم نگاری بھی عطاالحق قاسمی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید اردو نظم میں بھی ان کا منفرد اور جداگانہ لہجہ ان کی پہچان بنا۔ اس مناسبت سے پہلے تو ملاحظہ فرمائیے عطاالحق قاسمی صاحب کی

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 3 )

ہمارے گھر قافلے کے ماہانہ پڑاؤ میں عطا الحق قاسمی صاحب کے جگری یار بھی بڑی باقاعدگی کے ساتھ آتے تھے۔ ان میں خالد احمد، امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر اجمل نیازی شامل ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی سے عطا الحق قاسمی کی قرابت داری اور دوستی کے بہت سے قصے مشہور ہیں لیکن بیگم عطاء الحق قاسمی اور بیگم رفعت اجمل نیازی آپس میں دوپٹہ بدل بہنیں بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی عطاء الحق قاسمی نے تعلق داری کے

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 2 )

عطاء الحق قاسمی صاحب کے کچھ اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔ یہ خوبی بہت کم شعراء کے نصیب میں آئی ہے۔ عصر حاضر ہی کے ایک اور شاعر ہیں شعیب بن عزیز۔ ان کا ایک شعر بھی ایسا ہے جو موقع محل کی مناسبت سے بڑی بڑی ہستیوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری صاحب سے بھی کئی محفلوں میں ان کا یہ شعر سنا گیا۔ شعر یہ ہے اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

Read more

عطاالحق قاسمی کے تخلیقی رنگ

پی ٹی وی کے ایم ڈی، ناروے میں پاکستان کے سرکاری سفیر، ادبی مجلے معاصر کے مدیر اعلیٰ، چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل، اردو ادب کے استادوں کے استاد عطا الحق قاسمی کے ادبی اور تخلیقی رنگ بلاشبہ ہم سب نے دیکھے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پنجاب آرٹس کونسل کا قبلہ درست کرنے کے لئے جو حکمت عملی اپنائی، اس کے اثرات و ثمرات سے فن کار اور ان اداروں کے ملازمین بھی فیضیاب ہوتے رہے اور فنون

Read more

افسانۂ حیات کا عنوان ہے ماں!

ماں ایسی ہستی ہے جس کی بے لوث محبت اور بے پناہ قربانیوں کی داستانیں، دنیا کی قدیم و جدید تہذیبوں اور زبانوں میں صدیوں سے بیان کی جا رہی ہیں۔ ماں اس کیفیت کا نام ہے جو دل میں طاری ہوتی ہے الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ماں کی عظمت، خدمت، رفعت و بلندی، محبت و الفت اور شان کو ہر تہذیب، مذہب اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں میں تسلسل سے بیان کرنے

Read more

سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین

سیرو سیاحت کا شوق گھٹی میں پڑا ہے۔ جہاں تک رسائی ہو پہنچ جاتے ہیں۔ اور جہاں حدود و قیود اور بے بسی حائل ہو وہاں کتابوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کتابیں بھی کیا عجب شے ہیں۔ دیکھنے میں سیاہی بھرے چند صفات۔ لیکن ایک جہاں آباد کیے ہوئے۔ چند دن پہلے سلمی اعوان صاحبہ کا سفرنامہ ”حیرت بھری آنکھ میں چین“ نظر سے گزرا۔ سرورق اتنا خوبصورت کہ کتاب پڑھنے کو جی چاہے۔ شروع کیا تو انداز بیاں

Read more

عطاء الحق قاسمی: عصر حاضر کا حیوان ظریف

تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما مولوی بہاؤ الحق قاسمی کے فرزند عطاء الحق قاسمی 1943 کو متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ آپ ایک وسیع النظر ادیب، فکاہیہ کالم نگار، بے باک صحافی، قادر الکلام شاعر اور صاحب طرز سفرنامہ نگار ہیں۔ وہ تھائی لینڈ اور ناروے میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ جنگ میں ”روزن دیوار سے“ کے نام سے کالم لکھنے کے ساتھ

Read more

وہ جو گنجا ہے۔۔۔

ہمارے ایک دوست اوائل جوانی میں ہی بالوں سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بڑی بڑی مونچھیں پال لیں۔ ہمارے استفسار پر موصوف کی بیان کردہ تبدیلی کی وجہ یاد کر کے آج بھی ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے ’یار بندے کے بال گر جائیں تو لوگ اس کا نام بھول جاتے ہیں اور بس ”گنجا“ یا ”او جیہڑا گنجا جیا اے“ (وہ جو گنجا ہے ) اس کی

Read more

جب امجد اسلام امجد نے قرۃ العین حیدر کو گھاس نہ ڈالی

میں بات کرنا چاہتا ہوں امجد پرویز کی آواز میں اس خوب صورت کلام کی شہرت اور ڈرامہ ’وارث‘ کی مقبولیت سے پہلے کی جب سن ستتر اور اکاسی کے دوران میں میں ہر صبح پیدل گورنمنٹ کالج لاہور جانے کے لیے مزنگ سے پرانی انارکلی کی طرف رواں دواں ہوتا تھا۔ امجد اسلام امجد صاحب اپنے مقبول عام لمبراٹا سکوٹر کا شور اور دھواں بلند کرتے ہوئے لیک روڈ اور لٹن روڈ مزنگ کا چوراہا پار کرتے تھے۔ وہ

Read more

مشاہیر کے خطوط بنام عطا الحق قاسمی

عطاء الحق قاسمی ایک عہد کا نام ہے۔ ایسا عہد جس میں تہذیب ہے، تابناکی ہے، وسعت ہے، برداشت ہے، علم ہے، حلم ہے اور ابلاغ اور گیان کا وفور ہے۔ آپ چھ دہائیوں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں اور کسی بھی موقع پر ان کے تخیل کے قلمرو میں سرمو انحطاط نہ آیا ہے۔ آج بھی ”روزن دیوار“ قاری کی اولین ترجیح اور مطمح نظر ہے۔ آج بھی وہ ادبی و سماجی تقریب کامیاب اور کامران

Read more

دوستوں کے درمیان وجہ دوستی پروفیسر محمد اکرم سعید

کسی عاشق صادق نے نشیب و فراز کی کئی منزلوں سے گزرنے کے بعد غم عاشقی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کی بدولت ان منزلوں کی مسافت نصیب ہوئی، سچ پوچھیں تو یہ غم عاشقی اور روگ محبت تو بعض جگہوں پر محض زیب داستان کے لیے بھی پیدا کر لیے جاتے ہیں لیکن تیسری دنیا میں ایک اور بھی غم ہے جو مستقل ہے اور شاید مستقل ہی رہے گا اور اس غم کا نام ہے غم

Read more

ایک شاندار کانفرنس کا احوال جو اس دنیا میں نہیں ہو رہی

ہمیشہ سوچتی ہوں کیا پروین شاکر اب بھی شعر کہتی ہوں گی ۔ پھر خود ہی فیصلہ کر لیتی ہوں کہ آرٹسٹ تو آرٹسٹ ہے کہاں دماغ، دل اور انگلیوں پر کنٹرول رہتا ہو گا۔ جہان بدل جاتا ہے انسان تو وہی رہتا ہے نا؟ پھر سوچتی ہوں پروین شاکر کیسی غزلیں کہتی ہوں گی ؟ سامعین آج بھی ان کی پڑھت کے دلنشیں انداز کے مداح ہوں گے ؟ آج بھی خوشبو کی شاعرہ جہاں جاتی ہوں گی خوشبو

Read more

امجد اسلام امجد: سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے

امجد اسلام امجد کی پوری زندگی اردو ادب کی خدمت میں گزری۔ اس نے جو کچھ لکھا وہ سماجی حقائق ہیں ان کا ادب اور ان کی شاعری بڑے ہی فکری بصیرت اور گیرائی لئے ہوئے ہے۔ امجد اسلام امجد ان شعراء اور ادیبوں میں سے ہیں جنہیں عوام اور خواص میں ہی نہیں بلکہ وقت کے معتبر اور مستند شعراء اور ادیبوں میں بھی سند کا درجہ حاصل تھا بقول احمد ندیم قاسمی: امجد ان چند شعرا میں سے

Read more

امجد اسلام امجد، ضیاء محی الدین : پاکستان قیمتی اثاثے سے محروم ہو گیا

سال 2023 اپنے آغاز میں ہی پاکستان کے ادب کے لیے بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ ابھی ہم امجد اسلام امجد کی جدائی کے صدمہ سے سنبھل نہ پائے تھے کہ آسمان شعر و ادب کے درخشاں ستارے اپنی آواز اور لب و لہجے کے لیے منفرد شہرت کے حامل جادو گر اینکر اور مصنف ضیا محی الدین 92 برس کی عمر میں وفات پا گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ لاہور میں 1944 کو جنم لینے والے امجد اسلام

Read more

امجد اسلام امجد: محبت فاتح عالم

یونیورسٹی دور میں کی گئی غیر نصابی سرگرمیوں کا نشہ ابھی تک ہرن نہیں ہوا۔ جب تازہ تازہ یونیورسٹی کے سالانہ مجلے (میگزین) کی ذمہ داری ملی تو پہلے سے طے شدہ جزئیات کے ساتھ کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ معمول اور پچھلی روایات کے برعکس کچھ ایسا کرنے کا عزم بنا کہ جس سے نہ صرف باہر کے لوگوں کا یونیورسٹی سے بطور خاص تعارف ہو سکے بلکہ یونیورسٹی کے اندر کی خلقت کی بیرونی نابغہ روزگار ہستیوں سے روشناسی

Read more

آہ ! امجد اسلام امجد

دنیائے شعر و ادب کا درخشندہ ستارہ معروف شاعر، نقاد، ڈرامہ نویس، کالم نگار، استاد، امجد اسلام امجد کل رات اپنی زندگی کا سفر مکمل کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئے۔ گویا اب علم و ادب کے میدان میں چاروں طرف مایوسی، اداسی، غمگینی اور خاموشی کا سماں ہیں۔ ان کے انتقال سے شعر و ادب کا میدان غمگینوں اور ادaسیوں میں ڈوب گیا ہے اور ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا ہے۔ ” چراغ بجھتے

Read more

ویلنٹائنز ڈے اور رومانیت

ہمارا مسئلہ ویلنٹائنز ڈے نہیں بلکہ اس رومانیت سے بیر ہے جو احساسات و جذبات کے اظہار کے لیے آزاد تخیل کے سیلاب میں بہتے ہوئے رسم و روایات سے بغاوت کرتی ہے۔ رومانیت سے ہماری عداوت کوئی نئی نہیں ہے۔ رومانیت تو نام ہے اک آزاد خوبصورت خیال کا، احساس کے میخانے میں مدہوش ہونے کا اور اک محبت بھرے جذبے کا جو انسانی جبلت ہے مگر نجانے کیوں اور کب ہم نے اپنے محبت بھرے جذبات کو فقط

Read more

فیض احمد فیض کے نام خط

فیض صاحب! میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں۔ ایک اس بنا پر کہ آپ اولڈ راوین ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ آپ نے زندگی میں ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ اور ادب والوں کو محنت کا درس دے گئے۔ آپ شاعر ہیں اور ادب میں آپ کا مقام بلند ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی من مانی کرتے پھریں۔ آج 13 فروری ہے اور آج ہی کے دن آپ کا جنم ہوا

Read more

(آخری قسط ) بانو قدسیہ، اشفاق احمد اور سید فخرالدین بلے فیملی = داستان رفاقت‎‎

میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ میں ہوں سورج، مجھے دیا لکھنا داستان گو : ظفر معین بلے جعفری ہر ماہ کی یکم تاریخ کو والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی رہائش گاہ پر ادبی تنظیم قافلہ کا جو پڑاؤ ڈالا جاتا تھا وہ بہت یادگار اور شاندار ہوا کرتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی، محترمہ الطاف فاطمہ، ڈاکٹر آغا سہیل، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر سلیم اختر، امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی،

Read more

ریاست سے چند مشکل سوال

ایسا کیوں ہوا کہ ریاست کے وجود کے ساتھ ہی ایک متضاد بیانیے کو بُنیاد بنایا گیا؟ مذہب، معیشت اور معاشرت کو ایک ایسے بیانیے کے سُپرد کیا گیا جس نے سوائے کنفیوژن کے کچھ نہیں دیا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ضیاء محی الدین اور امجد اسلام امجد کی وفات پر افسوس کیسا؟

عجب رسم دنیا دیکھی کہ جب کوئی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جیسے ہی آنکھ بند ہوتی ہے تو اظہار افسوس کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ سا شروع ہوجاتا ہے، جو زندگی بھر مرحوم سے بے خبر رہے ہوتے ہیں وہ اچانک سے باخبر ہو کر اس کی یاد میں تحاریر کی صورت میں گل فشانیاں کرنے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے یہ خلا اب کبھی پر نہیں

Read more

کون رخصت ہوا ماگھ میں؟ ہم سب کا امجد۔

باغ باغیچوں میں گیندے اور گلاب دونوں ہی کھلے پڑے تھے۔ شہر بھی میلوں ٹھیلوں سے سجنا شروع ہو گیا تھا۔ اور وہ جو جان تھا ان میلوں کی چپکے سے چل دیا۔ ارے اسے تو ان میں سے ہر ایک کا اہم حصہ بننا تھا۔ 6فروری کو ثروت محی الدین کے گھر کھانا تھا۔ امجد اس میں شریک تھے۔ سب کا کہنا تھا کہ وہ بہت خاموش تھے۔ ایک آدھ جملے کے سوا انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔

Read more

اپنی آواز اور لب و لہجے کے لیے مشہور اینکر اور مصنف ضیا محی الدین 92 برس کی عمر میں وفات پا گئے

جن لوگوں نے ضیا محی الدین کو سنا، پڑھا یا دیکھا، وہ ان کی شخصیت کے سحرمیں گرفتار ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔

Read more

محبت کے شاعر امجد اسلام امجد

کل صبح کا آغاز امجد اسلام امجد صاحب کے گزر جانے کی خبر سے ہوا۔ دل بہُت بہُت رنجیدہ رہا اور اس رنج کی بہُت ساری وجوہات تھیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ شاعری اور کتاب کے حوالے سے وہ ہمارے پہلے استاد تھے، محبت، بارش، پھول، خوشبو، چاند، ستارے، بادل اور ہوا، یہ سارے لفظ اور خیال سب سے پہلے اُن ہی کی کتابوں سے سیکھے۔ کچھ یہ ملال بھی تھا کہ دو ماہ پہلے جب ہماری بھابی

Read more

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

نئے سال کے آتے ہی امجد صاحب رخصت ہوئے۔ امجد اسلام امجد ادب کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ اب کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہے تھے۔ پوری دنیا میں اردو پنجابی پڑھنے اور بولنے والے ان کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ موت سے کسی کو مفر نہیں، وہ تو بر حق ہے اسے آ کے رہنا ہے مگر کچھ لوگ مر کے واقعی ہی مر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی زندگی میں بھی روشن

Read more

امجد اسلام امجد کا اثاثہ

امجد اسلام امجد کی شاعری سے میں بعد میں متعارف ہوا، اس سے پہلے ان کے ڈائیلاگ کو جانا۔ ’اڈ مکھی‘ اور ’سواد آ گیا بادشاہو‘ دو ایسے فقرے تھے جو نوے کی دہائی میں زبان زد عام تھے۔ جس کسی سے جان چھڑانی ہو، کوئی اپنی افتاد طبع کے باوصف آپ کی جان کو آ گیا ہو اور آپ نجات چاہتے ہوں، کسی کی موجودگی آپ پر گراں گزر رہی ہے، چہرے پر ذرا مضحک سی مسکراہٹ لائیے، لب

Read more

امجد اسلام امجد: کہاں تم چلے گئے

زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں یہ نظم ہماری انگلش کی کتاب کے سرورق کے پیچھے لکھی ہے، اور دل کے سب سے اوپر سجی ہے۔ ”معروف شاعر امجد اسلام امجد انتقال کر گئے“ آج موبائل اٹھایا تو سب سے پہلے اسی دو سطری خبر پر نظر ٹھہر گئی۔ اک پل کو دل تھم سا گیا، یہ خبر سچ ہے یا جھوٹ؟ اس کشمکش میں کافی وقت گزر گیا۔

Read more

امجد اسلام امجد، کرکٹ ٹیم میں منتخب نہیں ہوئے تو اردو ادب میں خوب نام کمایا

1970 کی دہائی میں امجد اسلام امجد کی ایک نظم ’محبت کی ایک نظم‘ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی اور زندگی بھر امجد اسلام امجد کی پہچان بنی رہی، وہ جہاں بھی جاتے تھے ان سے اسی نظم کی فرمائش ہوتی تھی۔ پھر ان کی مقبولیت کا یہ سفر عمر بھر جاری رہا۔

Read more

اردو ادب کے ”وارث“ امجد اسلام امجد نہ رہے

اسی زمین میں اک دن مجھے بھی سونا ہے اسی زمین کی امانت ہیں میرے پیارے بھی اور امجد اسلام امجد بھی اسی زمین میں جا سوئے، ساتھ ہی اردو ادب کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی لرزتی ہوئی کرنوں اور اس کی دشمن تیز ہوا کے سامنے ایک مضبوط دیوار کا ایک بڑا حصہ بھی گر گیا۔ امجد اسلام امجد کی شخصیت ان کے اردو ادب کے لئے خدمات پر کچھ لکھنا اور ان کا احاطہ کرنا میرے جیسے بونے

Read more

رنگ بدلے گا موسم کا یہ اک جھونکا ہوا کا

قدرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی زندگی اتنی تیزی سے ہوا ہو جاتی ہے، اس کا احساس ہمیں ہر جاتے ہوئے سال کے بعد ہوتا ہے۔ گزرتا ہوا سماں اپنے پیچھے، اپنے اچھے یا برے اثرات ضرور چھوڑ کر جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف انسانی جانوں کے زیر زمین چلے جانے کی ہوتی ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو فطری ہے۔ آئی ٹی اور سائنس لاکھ ترقی کر لے تو بھی ٹوٹی ہوئی سانس بحال نہیں کر سکتی۔

Read more