ترقی یافتہ اور زوال پذیر اقوام۔ اصل فرق نظام کا ہوتا ہے، افراد کا نہیں


ترقی یافتہ قومیں اور زوال پذیر اقوام بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف اس لیے ہوتی ہیں کیونکہ ان کے کام کرنے کا انداز اور سوچنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کی مکمل منصوبہ بندی کی جاتی ہے، وقت کی قدر کی جاتی ہے اور ہر شعبے میں بہترین حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ جبکہ زوال پذیر اقوام میں زیادہ تر فیصلے وقتی فائدے کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ مزید گمبھیر ہو جاتے ہیں۔

یہ فرق ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں نظر آتا ہے، خاص طور پر ٹریفک مینجمنٹ، انفراسٹرکچر، اور حکومتی پالیسیوں میں۔ ترقی یافتہ اقوام اپنے شہریوں کا وقت بچانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں تاکہ فاصلوں کو کم کیا جا سکے، سفری سہولیات بہتر ہوں اور روزمرہ کے کام جلدی اور آسانی سے انجام دیے جا سکیں۔ جبکہ پاکستان جیسے زوال پذیر ممالک میں ترقیاتی منصوبے مخصوص طبقے کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں اور عام آدمی کے لیے سہولیات کا فقدان رہتا ہے۔

لاہور کے علاقے چوہنگ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایک مین بازار کے دونوں طرف ہزاروں افراد روزانہ سڑک عبور کرتے ہیں، لیکن وہاں پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی محفوظ راستہ موجود نہیں ہے۔ سرکاری طور پر وہاں ایک پیڈیسٹرین برج بنانے کی منظوری دی جا چکی ہے، لیکن چند کاروباری افراد کے مفادات کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر یہ منصوبہ روک دیا گیا۔ اس کی قیمت عام شہریوں کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے۔ ہر مہینے درجنوں افراد سڑک عبور کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف چوہنگ کا نہیں، بلکہ پورے ملک میں ایسے بے شمار واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حال ہی میں ایک میڈیکل کی طالبہ، جو ایک غریب خاندان کی امید تھی، اسی چوہنگ ملتان روڈ لاہور پر سڑک کو عبور کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر زندگی کی بازی ہار گئی۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اس وقت تک کسی بھی مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان نہ ہو جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی صورتحال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہاں منصوبہ بندی پہلے سے کی جاتی ہے تاکہ عوام کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہی وجہ ہے کہ جب پاکستانی لوگ ترقی یافتہ ممالک میں جاتے ہیں تو وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں، صفائی کا خیال رکھتے ہیں، قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور ہر قانون پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن جب وہی لوگ پاکستان آتے ہیں، تو یہاں کے غیر منظم نظام میں خود بھی اسی بدنظمی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام میں افراد کی تربیت بچپن سے ہوتی ہے، انہیں قوانین کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جو خلاف ورزی کرے، اسے سزا دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں قوانین صرف کمزور طبقے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ سرمایہ دار، سیاستدان اور با اثر افراد قانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔

یہ فرق افراد کا نہیں بلکہ نظام کا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی انصاف پر مبنی قوانین بنائے جائیں، ان پر سختی سے عمل درآمد ہو، اور ہر شخص کو ایک جیسی سہولیات میسر ہوں، تو یہی قوم چند سال میں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر موجودہ صورتحال جاری رہی، تو ترقی کے خواب ہمیشہ خواب ہی رہیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی ترقی چند فلائی اوورز یا سڑکوں کے بننے سے نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط نظام، دیانت دار قیادت، اور دور اندیش پالیسیوں کی بدولت حاصل کی جاتی ہے۔ اگر آج ہم نے اس حقیقت کو نہ سمجھا، تو کل ہماری آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا شکار رہیں گی جن کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS