پیر و مرشد سلمیٰ اعوان

کل تئیس مارچ کی تقریب میں سلمیٰ اعوان کو ستارہ امتیاز ملنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں
سلمیٰ اعوان کی شخصیت کا جائزہ لیں تو انتہائی عاجز، منکسر، ہمدرد اور محبت سے لبالب بھری خاتون ہیں۔ حسد، لالچ، نہ طمع نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔ زندگی بھر محبت کا چرخہ چلایا، مشقت کا دھاگہ کاتا اور پُونیاں جوت کر روشنی پھیلائی۔ سلمیٰ اعوان بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہیں۔ ساری زندگی اصولوں سے گزاری کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ جب قلم ہاتھ میں آتا ہے تو سلمیٰ اعوان محض سلمیٰ اعوان نہیں رہتیں کسی فوج کا سپہ سالار بن جاتی ہیں۔ الفاظ، منظر اور خیالات سپاہیوں کی طرح اُن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور مجال ہے جو صف بندی سے اِدھراُدھر ہو جائیں۔
سلمیٰ اعوان جب اپنے ذہن کو صفحہ قرطاس پر اتار لیتی ہیں تو شیرنی کی طرح اُس کی حفاظت کرتی ہیں۔ پھر چاہے ماں روٹھے یا بابا۔ انہیں کسی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ میں نے انہیں کبھی تذبذب میں نہیں دیکھا۔ وہ اپنے لکھے کو پوری ذمہ داری سے قبول کرتی ہیں۔ یہ بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔ وگرنہ فنکار فن کا بیج کاشت کرتے ہوئے سوچتا ہے کہ نہ جانے لوگوں کا رد عمل کیا ہو گا نقاد کیا سوچیں گے۔ میں تنقید کا نشانہ نہ بن جاؤں۔ میری عزت پر حرف نہ آئے۔ اُن کے اندر منافقت نہیں ہے۔ انہوں نے جو لکھنا ہوتا ہے جو رائے دینی ہوتی ہے ڈنکے کی چوٹ پر دیتی ہیں۔ یہ یقیناً اُس اعتماد کی نشانی ہے جو جنون سے آتا ہے جس کے پیچھے بلا کی ریاضت ہوتی ہے۔ جو اندر باہر سے صاف اور شفاف ہوتا ہے۔
سلمیٰ اعوان تک پہنچنے کے لیے بہت سوں کے پر جلتے ہیں اور وہ حسرت سے انہیں دیکھ کر دعاگو ہوتے ہیں کہ یا خدا ہمیں بھی ایسی قوت لکھائی دے۔ قوت گویائی دے قوت قبولیت دے۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
میں اُن کی ان دونوں طبیعتوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اکادمی ادبیات کی طرف سے جب میں نے ”سلمیٰ اعوان شخصیت اور فن“ پر کام کیا تو کسی بھی غلطی پر وہ بھول جاتی تھیں کہ میں اُن کی دوست ہوں۔ ان کا جمال جلال میں بدل جاتا اور میں دبک کر بیٹھ جاتی اور خوشدلی سے وہ سب کچھ سن لیتی جو وہ کہتیں۔ کیونکہ اُن کا حرف حرف سونے کی بھٹی سے نکلا ہوا ہوتا تھا۔ جو آپ کی اصلاح کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ میں بڑی خوش نصیب ہوں کہ مجھے اُن کی رفاقت، محبت اور دوست ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آج میرے اندر جتنا بھی حوصلہ اور سچ لکھنے کی ہمت ہے وہ اُنہی کی دین ہے۔ سلمیٰ اعوان سے شناسائی کا زمانہ یاد آ رہا ہے جب انہوں نے میرے نازک دل پر دستک دی، اپنے مخصوص خلوص بھرے انداز میں پکارا، اپنے رس بھرے لہجے سے گھائل کیا اور مجھے لُوٹ کر لے گئیں۔
لُٹنا تو میں خود بھی چاہتی تھی مگر سلمیٰ اعوان کا نام بہت بڑا تھا۔ میں تو زمین پر کھڑی ہو کر اس قطب مینار کو دیکھا کرتی تھی، قریب جانے کا نہ حوصلہ تھا نہ ہمت۔ اتنے بڑے نام کی دہشت سے سہمی سہمی سی رہی۔ چاہ کر بھی اُن کے قریب نہ آ سکی۔ اور پھر جب ان سے بے تکلفی ہوئی تو معلوم ہوا وہ تو خاکسار ہیں، عاجز سی خاتون جو اپنے کام سے کام رکھتی ہیں، جو جانتی ہی نہیں کہ ادب کے وہ کتنے عظیم سنگھاسن پر بیٹھیں ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ انہوں نے کتنا لکھا اور کس اعلیٰ درجے کا عالمی ادب لکھا۔ زندگی بھر لکھا، نامساعد حالات میں بھی لکھا، گھرداری، نوکری، سکول، بچے، رشتے داریاں، دوستیاں، سب مراحل اپنی جگہ، مگر لکھنے کا جنون اپنی جگہ، ان کی شخصیت میں جلال بھی ہے اور جمال بھی، حسن بھی ہے، بے پرواہی بھی، وہ سود و زیاں سے پاک اور پوتر ہیں۔ افسانہ ہو یا ناول، سفر نامہ ہو یا کالم، ہر حیثیت مسلم اور مستند ہے۔ حکومت وقت میں اگر کوئی جوہر شناس ہوتا تو انہیں بہت پہلے قومی ایوارڈ سے نوازا جاتا حکومتوں کے یہ فیصلے اُن کی اپنی اہلیت اور جوہر شناسی کے رتبے کو ہی بلند کرتے۔ خیر دیر آید درست آید۔
میں سلمیٰ اعوان کی تمام کتابوں سے استفادہ کر چکی ہوں، اس لئے مرعوبیت کی ماری ان کے لئے چند لفظ لکھتے ہوئے بھی سوچتی ہوں۔ کیا لکھوں، کیسے لکھوں، خدا انہیں ہماری محبتوں اور دعاؤں کے حصار میں رکھے۔ عصر حاضر کے حبس زدہ موسم میں سلمیٰ اعوان کو ملنے والا ستارہ امتیاز ادبی حلقوں میں تازہ ہوا کا وہ جھونکا ہے جو گھنے درخت تلے کھڑے، بے آسرا تخلیق کاروں کے لئے ٹھنڈی چھاؤں بھی ہے۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم سلمی اعوان کے عہد میں جی رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ پیدائشی لکھاری تھیں۔ تقریباً انتیس کتابوں کی مصنفہ تو ہیں ہی مگر وہ بیک وقت کئی میدانوں کی شہسوار بھی ہیں
ناول افسانہ کالم سفر نامہ گویا ہر میدان میں انہوں نے اپنے فن کو آزمایا مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت کم لکھا گیا مگر ان کا ناول تنہا وہ ناول تھا جو مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر لکھا گیا اور اس ناول میں انہوں نے چشم دید حقائق کو اپنے قلم کی زینت بنایا پاکستان کی تاریخ میں یہ ناول اپنی ایک مستقل پہچان کے ساتھ زندہ و پائیندہ رہے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے حوالے سے لکھی گئی کتابیں بھی اپنی خاص اہمیت رکھتی ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں
سلمیٰ اعوان کی تحریروں میں تجربے اور مشاہدے کی خوشبو نظر آتی ہے جس کا زمین سے رشتہ بہت مضبوط اور خالص ہوتا ہے۔ وہ جب تک سخت مشقت کے بعد بات کی تہہ تک پہنچ کر سچے اور کھرے موتی تلاش نہیں کر لیتیں لفظوں کی مالا نہیں پروتیں۔
فلسطین پر ظلم و بربریت کی داستانیں سننا اور سہنا تمام مسلمانوں کے لیے یقیناً ایک جان لیوا دکھ اور کرب ہے۔ سلمیٰ اعوان جب تک خود اس دکھ اور کرب کا حصہ نہ بنتیں اپنے جگر کو لہولہان نہ کرتیں پاؤں کو زخموں سے چور چور نہ کرتیں تو کیسے لفظوں میں جان ڈالتیں۔ ان کے ہاں لفظ سانس لیتے ہیں بولتے ہیں چیختے ہیں ہنستے ہیں اور کبھی کبھار تو زار و قطار روتے ہیں۔ اور اسی لیے انہوں نے اس کتاب کا نام بھی لہو رنگ فلسطین رکھا۔
روس کے حوالے سے سلمیٰ اعوان لکھتی ہیں کسی کتاب رسالے یا کسی اخبار میں سفر نامے کا خوبصورت دلچسپ ٹکڑا بے کل کر دیتا چند لمحوں کے لیے کتاب یا رسالہ بند ہو کر سینے پر آ جاتا احساس کی شدت آنکھوں کو گیلا کر دیتی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ایک شکایت لبوں پر آ کر سوال کی صورت بکھرنے لگتی ”آخر اس لکھنے والے کی جگہ میں کیوں نہیں ہوں“ ؟ پھر اندر سے ایک آہ ”کاش“ میں لپٹی ہوئی نکلتی ”کاش میں وہاں ہوتی اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتی“ یہ کاش ”پھیل کر اتنا بڑا ہو جاتا کہ گِلوں اور شکووں کا ایک طوفان مجھے اپنے گھیرے میں لے لیتا پھر وہ فرماتی ہیں“ کہیں جھٹپٹے سے ہی اس آوارگی کے جراثیم جسم و جان میں رچ بس گئے تھے ”۔
سلمیٰ اعوان کے سفر نامے محض سفر نامے ہی نہیں بلکہ پوری تہذیب کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ جنہیں وہ پہلے خود دیکھتی ہیں پھر بڑی ہی محبت سے اپنے قاری کے حسن ذوق کا خیال رکھتے ہوئے اس کے لیے بیان کرتی ہیں۔ ان کا اسلوب تو نٹ کھٹ البیلی نار جیسا ہی ہے مگر اس نٹ کھٹ اسلوب کی تخلیق کار درختوں پر پڑے جھولے اور ساون کے گیت ہی نہیں بیان کرتیں بلکہ تہذیبوں کے مِلن کی کتھا کچھ یوں سناتی ہیں کہ قاری کو بھی اس کا حصہ بنا دیتی ہیں۔
عہد حاضر کا چین ماضی کے آئینے میں کیسا تھا۔ کیا کیا دکھ جھیلے۔ کس کس طرح کے طرز حکومت کو جھیلا ان میں کیا کیا خرابیاں یا خوبیاں تھیں۔ نسائیت کے حوالے سے ان کی معاشرت کی سوچ مختلف ادوار میں کیا رہی۔ وہاں کے بازار، خرید و فروخت کے سلسلے، اقتصادی نظام کے جھٹکے، قوم کا مجموعی مزاج وہ بھی مختلف ادوار میں، سیاسی اور تاریخی تجزیے اور پھر دو چیزیں جن کے ذکر کے بغیر سلمی اعوان کے سفرناموں پر بات مکمل نہیں ہو سکتی۔
متعلقہ ملک سے اپنے ملک کا تقابلی جائزہ اور شدید خواہش کہ ہمارے ملک میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ سلمیٰ اعوان اس نسل سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے ہجرت کا دکھ دیکھا۔ وطن ٹوٹنے کا دکھ جھیلا اور اب ملک کے ابتر حالات اور اخلاقی رویوں کا زوال بے چین ہی نہیں شدید تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے وہ ٹوٹ کر وطن سے محبت کا جذبہ رکھتی ہیں۔ اس لیے جس ترقی یافتہ ملک کو دیکھتی ہیں ان کا جذبہ حب الوطنی دامن گیر ہو کر ان سے سوال کرتا ہے۔ کہ ایسا میرے ملک میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ آخر ہمیں ایسے لیڈر کیوں نہیں ملتے؟ ہم کیوں نہیں ترقی کرتے؟ ایسے سوالات پورے سفر نامے میں انہیں بے چین کیے رکھتے ہیں جس پر وہ ماتم کناں بھی نظر آتی ہیں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنے ملک کی تنزلی انہیں رلاتی ضرور ہے مگر وہ کہیں بھی مایوس نظر نہیں آتیں۔ بلکہ جو باتیں وہ خود سوچتی ہیں اگر کوئی اور کہے تو وہ اس کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دیتی ہیں یہ وطن پر ستی کا جذبہ پوری تحریر پر حاوی نظر آتا ہے۔
دوسری اہم بات جس کے بغیر ان کے سفر ناموں پر بات مکمل نہیں ہو سکتی وہ ان کے ادبی حوالے ہیں جن سے وہ ملک کے مجموعی مزاج کو پرکھتی ہیں۔ ان کے سفر ناموں میں مذکور ملک کے تمام لکھنے والوں کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ کسی بھی معاشرے کو جاننے اور تہذیب کو سمجھنے کے لیے وہاں کے تخلیق کاروں اور فنون لطیفہ کے علمبرداروں کو سمجھنا اور جاننا بے حد ضروری ہوتا ہے۔
سلمیٰ اعوان چین گئیں تو ان کے داماد وہاں ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور انہیں وہاں وی پی آئی سیر کا موقع ملا مگر سلمیٰ اعوان جیسی شخصیت جو ہر چیز کی تہہ تک پہنچنا جانتی ہوں ان کے لئے کتنا مشکل تھا کہ وہ وی پی آئی سیر کرتیں اس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔
”ایک فوجی کی زندگی میں جس قائدے کلیے اور نظم و ضبط کا رکھ رکھاؤ نظر آنا چاہیے وہ اس کاغذ سے عیاں تھا اس پروگرام میں کہیں میری مرضی شامل نہیں تھی میرے خیال میں میری بونگیوں، بدحواسیوں، بھولنے، خجل ہونے اور ذلیل ہونے کے حسین تجربات سب کے بیڑا غرق ہونے کے امکانات بڑے روشن اور واضح تھے۔“
”حیرت بھری آنکھ میں چین“ میں ایک جگہ لکھتی ہیں
”جیسے کہا جائے بندے کی سوئی کہیں اٹک سی جاتی ہے، کچھ ایسا ہی سیاپا میرے ساتھ بھی تھا۔ تشنگی تھی میرے اندر، اکیلے گھومنے پھرنے کی، پابندیوں سے آزاد ہونے کی۔ اس صبح میں نے سعدیہ کے ہاتھ پکڑ لیے تھے کہ وہ میرے پنجرے کو کھول دے، مجھے آزاد کر دے، بھرنے دے قلانچیں مجھے، میرے اندر کی بے چینی اور اضطراب کو تسکین پانے دے۔“
وطن سے تقابلی جائزہ، وطن کی محبت کا غالب آنا اور پھر اپنی حالت پر کڑھنا اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرنا سلمیٰ اعوان کی تحریروں میں جابجا ان خیالات کا اظہار ملتا ہے کسی بھیک منگے مسلمان کو دیکھا تو سوچا۔
”کچھ دینے سے قبل کھڑی سوچتی رہی، یہ مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کی ریت آخر ہم مسلمانوں سے ہی کیوں جڑی ہوئی ہے؟ یہ مانگنے والے یقیناً صورت سے چینی ہی لگتے تھے، ان چند دنوں میں اس قوم کا جو مجموعی مزاج اور رویہ نظر آیا، سعدیہ اور عمران سے جو جو باتیں سنی تھی، اس سے یہی جانا تھا کہ ہاتھ پھیلانا تو اس قوم نے اپنے مزاج سے ہی نکال دیا ہے، تو پھر یہ گندی عادت مسلمانیت سے کاہے کو جڑ گئی“ ۔
سلمیٰ اعوان مزاجاً حسن پرست اور رومان پسند ہیں ایک تخلیق کار میں اگر یہ خوبیاں نہ ہوں تو وہ اچھی تخلیق پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ جہاں چین کی ترقی اور حیرتوں میں ڈوبی نظریں گرد و پیش کو دیکھ کر حیران ہو جاتی ہیں وہاں چینی مزاج کی ایک جھلک کچھ ہلکے پھلکے انداز میں یوں بیان کرتی ہیں۔
”سامنے ایک وسیع و عریض جھیل پھیلی ہوئی تھی مگر کشتیاں کہیں نہیں تھیں بھلا یونیورسٹی کی جھیل اور کشتیوں کے بغیر رومانس کہاں ہوتا ہو گا؟ چینی کیا اتنے روکھے پھیکے سے ہیں پنجاب یونیورسٹی کی نہر اور اس میں چلتی من چلوں کی کشتیاں بھلا کیوں نہ یاد آتیں۔ آئیں مگر دکھی بھی کر گئیں کہیں مذہبی انتہا پسندی، کہیں دہشتگردی کے خوف اس کے حسن کا بیڑا غرق ہوا پڑا تھا“ ۔
ادبی نگار خانے میں وہ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، سفر نامہ نگار، کالم نگار، اور مضمون نگار اپنی مُستند پہچان کے ساتھ زندہ و پائیندہ ہیں۔ وہ اپنے اندر دریا نہیں، سمندر ہیں۔ اور آج اُن کے گلے کا ہار سنگھار بنا ستارہ امتیاز ہم سب تخلیق کاروں کے لیے اطمینان، خوشی اور فخر کا باعث ہے۔

