ڈنگ ٹپاؤ پالیسی


رات کا تقریباً ڈیڑھ بج رہا تھا۔ صبح ہمارا امتحان تھا، اس لیے ہم تیاری میں مگن تھے۔ اچانک گلی سے ایک ٹرک گزرا، جس کے فوراً بعد بجلی چلی گئی اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ شاید ٹرک نے نیچے لٹکتی ہوئی کسی تار کو توڑ دیا تھا۔ وسائل کی کمی اور روشنی کا کوئی متبادل نہ ہونا، امتحان کے دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ اچانک خیال آیا کہ قریب ہی واپڈا کے دفتر میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ بڑی مشکل سے نمبر تلاش کیا، اور شکر ہے کہ رات کے اس پہر کسی نے کال اٹھا کر شکایت درج کر لی۔ تقریباً دو گھنٹے بعد عملہ بجلی کا مسئلہ حل کرنے پہنچ گیا، مگر یہ کیا؟ دو افراد سائیکل پر آئے، اور ان کے پاس بس ایک لمبی بانس نما چھڑی تھی۔ پہلے تو شبہ ہوا کہ شاید یہ واقعی واپڈا کے لوگ نہیں، مگر انہوں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ بجلی بحال کرنے آئے ہیں۔

جس جگہ تار ٹوٹی تھی، وہاں روشنی کے لیے ان کے پاس کوئی ٹارچ نہیں تھی، مگر خوش قسمتی سے ہمارے گھر سے ایک ٹارچ مل گئی، جس سے کام چلایا گیا۔ عملے نے ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی اختیار کی اور کسی طرح جگاڑ لگا کر بجلی بحال کی۔ ہمیں اس لمحے حیرت بجلی ٹھیک کرنے والے عملے کی بے سروسامانی پر ہو رہی تھی۔ ہم نے سوچا تھا کہ پیشہ ورانہ افراد اپنی سرکاری گاڑی میں ضروری ساز و سامان کے ساتھ آئیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ پھر اگلے ہی لمحے یہ خیال آیا کہ یہ کوئی امریکہ یا برطانیہ نہیں، جہاں ماہر عملہ ہر وقت عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی یہ صرف ایک مثال ہے۔ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، بلکہ ہماری پیشہ ورانہ مہارت کا بھی ہے۔ ہم کسی بھی مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور کسی نہ کسی طرح وقت گزاری کرتے ہیں۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے ہم صرف اپنی نوکریاں پوری کرنے آتے ہیں، مسائل حل کرنے نہیں۔ پیشہ ورانہ مہارت صرف سرٹیفکیٹ اور ریزیومے تک محدود ہے، اصل کام کا کوئی جنون نہیں۔

ہر فیلڈ میں عوام ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اسپتالوں میں کوئی پروفیشنلزم نہیں، ڈاکٹر ملنا ایک آزمائش بن جاتا ہے، اور اگر مل بھی جائے تو اس کی مہارت ایک الگ کہانی ہے۔ اکثر نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف بغیر کسی مناسب تربیت کے کام کر رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے، اور غلط انجیکشن یا غلط دوائیوں کے مسائل سامنے آتے ہیں۔

اگر کسی جگہ سگنل خراب ہو جائے تو وہاں ایک مکمل افراتفری کا منظر ہو گا، لیکن وہاں ٹریفک کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ ایک دفعہ دیکھا کہ ایک ٹریفک پولیس والا سگنل کے بغیر ٹریفک مینیج کر رہا تھا، لیکن اس کے ہاتھ کے اشارے لوگ سمجھنے سے قاصر تھے، اور وہ خود بھی غصے اور کنفیوژن کا شکار تھا۔

ہمارے ریسکیو ادارے بھی صرف نام کے ہیں۔ فائر بریگیڈ کا نظام دیکھو، اکثر یا تو ان کے پاس پانی نہیں ہوتا یا انجن فیل ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ بلڈنگ جل کر راکھ ہو گئی مگر فائر بریگیڈ صرف تسلی دینے کے لیے پہنچی۔ ایک مرتبہ ایک مارکیٹ میں آگ لگی، اور جب تک فائر بریگیڈ آئی، لوگ ”ڈنگ ٹپاؤ پالیسی“ سے اپنی مدد آپ کرتے رہے، بالٹیوں سے پانی پھینکتے رہے۔ جب فائر بریگیڈ آئی تو صرف پانی بھرنے کے لیے جگہ ڈھونڈتی رہی۔

ڈرائیور بغیر کسی مناسب تربیت کے سڑک پر نکل آتے ہیں، یا موبائل پر اونچی آواز میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جو اکثر حادثات کا سبب بنتا ہے۔ یہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کی کمی نہیں، بلکہ عوامی تحفظ کے لیے بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

مزدور اور مستری (مکینک، پلمبرز، الیکٹریشنز) بغیر کسی رسمی تربیت کے کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کام کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہنر مند افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے کئی تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر ان کا کام دیرپا نہیں ہوتا۔

ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز بغیر کسی مناسب تحقیق کے خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں غلط معلومات یا جانبدار رپورٹنگ عام بات ہے۔ تحقیقاتی صحافت کافی کمزور ہے، اور رپورٹرز اکثر بغیر فیکٹ چیکنگ کے مواد شائع کر دیتے ہیں، جو عوامی رائے اور شعور پر برا اثر ڈالتا ہے۔

ہوٹلوں اور سیاحت کی صنعت میں بھی مناسب تربیت اور پروفیشنلزم کی کمی ہے۔ ٹور گائیڈز اکثر دو لسانی گفتگو اور تاریخی معلومات سے محروم ہوتے ہیں، جو بین الاقوامی سیاحوں کے تجربے کو متاثر کرتی ہے۔

یہ چند مثالیں دکھاتی ہیں کہ مختلف شعبوں میں ”ڈنگ ٹپاؤ پالیسی“ ، جگاڑ لگانے اور وقت گزاری کا رجحان کیسے بڑھ رہا ہے، اور مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنانا کتنا ضروری ہے تاکہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور معیشت بہتر ہو سکے۔

ہم ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کو ایک طرف رکھ کر ترقی یافتہ ممالک سے کیوں نہیں سیکھتے؟ جہاں اگر ایک حجام نے بھی دکان کھولنی ہو تو اس کے پاس ایک مستند ادارے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے۔ یہاں تو سرٹیفکیٹ دور کی بات ہے، کوئی اخلاقی طور پر بھی کسی کام کی باقاعدہ مہارت حاصل کرنا نہیں چاہتا۔

یاد آیا کہ سرکاری نوکری کے آغاز میں ریسکیو 1122 کی جانب سے ایک تربیتی سیشن کرایا گیا تھا، مگر ملازمین کی عدم دلچسپی نے اسے مذاق بنا کر رکھ دیا۔ ہمارا عام رویہ اس قسم کی تربیت کو سنجیدگی سے لینے کا نہیں، نہ ہی ہم اسے سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور یہی وہ المیہ ہے جس کا خمیازہ ہم بار بار بھگتتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، بلکہ سوچنے کے انداز کا بھی ہے۔ جب تک پیشہ ورانہ مہارت اور کام کو سنجیدگی سے لینے کی عادت پیدا نہیں ہوگی، تب تک ہر نظام اسی طرح ”دھکا اسٹارٹ“ چلتا رہے گا۔ ہر کوئی ”ڈنگ ٹپاؤ“ کی پالیسی پر کام کر رہا ہے۔ اگر ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی چھوڑ کر باقاعدہ مہارت اور سلیقے سے کام کیا جائے، تو ہمارے روزمرہ کے آدھے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔ لیکن کون سیکھے اور کون مسائل پر قابو پائے؟ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ٹھیک ہے، چلتی ہے، اور چلتی رہے گی۔

Facebook Comments HS