سرکاری اعزازات کی سیاست
ہر سال کی طرح اس سال بھی 23 مارچ کو حکومت پاکستان نے مختلف شخصیات کو اعزازات و خطابات سے نوازا۔ سوشل میڈیا پر ان اعزازات حاصل کرنے والی بعض شخصیات کا نہ صرف مذاق اُڑایا گیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ حکومت ایسی شخصیات کو کیوں اتنے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازتی ہے جن کا بظاہر کوئی بھی حقیقی کردار یا سماجی خدمات نظر نہیں آتیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ یہ اعزازات صرف اور صرف حکومتی مفادات کی تکمیل کے لیے ایک اسٹریٹجی کے طور پر دیے جاتے ہیں تاکہ اپنے من پسند افراد اور شخصیات کو عزت و احترام کا سرکاری لبادہ پہنایا جا سکے۔ یقیناً ان میں کچھ جینوئن لوگ بھی ہوں گے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوگی۔ یہ اعزازات اور خطابات دراصل حکومتوں کے وفادار اور چاپلوسی کرنے والے طبقے کو نوازنے کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ ان کے ذریعے حکومتوں کے حامی دانشوروں، لکھاریوں، صحافیوں، سیاست دانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک مصنوعی سماجی مرتبہ (Social Status) بنایا جا سکے۔ ان کو سرکاری سطح پر عزت دے کر انہیں سماجی طور پر باعزت اور اہم بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے حکومت کے مفادات کو آگے بڑھا سکیں۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو حکومت کی ہر جھوٹی بات کو بغیر کسی اعتراض کے تسلیم کرتے ہیں اور ہر عوام دشمن فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔
ان اعزازات اور خطابات کا مقصد صرف ان افراد کو عزت دینا نہیں ہے بلکہ حکومتوں کی طرف سے ان کی وفاداری خریدنا بھی ہے۔ حکومتیں اپنے مفادات کو فروغ دینے کے لیے ان افراد کو خرید لیتی ہیں تاکہ مستقبل میں وہ ان سے اپنے ہر کام میں ہاں میں ہاں ملوا سکیں، مفادات پر مبنی قومی بیانیوں کی تبلیغ کریں، اور حکومتی خیالات و افکار کو عوام پر غیر شعوری انداز میں تھوپ سکیں۔ یہ دراصل ایک بدترین مفاد پرستی ہے جس میں اقتدار کی خواہش رکھنے والے افراد اور حکومتیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے پورے معاشرے کو بے وقوف بناتی ہیں۔ اس کھیل میں عوام کو صرف جھوٹ اور دھوکہ دیا جاتا ہے جبکہ اقتدار کے خواہش مند افراد اپنے ذاتی مفادات کے لیے کھل کر کھیلتے ہیں۔ یہ اعزاز یافتہ سرکاری درباری شخصیات سماج میں معتبر نام بن کر سامنے آتے ہیں اور انہیں اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ ہر شخص ان کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہیں بڑے شوق سے یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کے لیے بلایا جاتا ہے گویا یہ لوگ ہی علم، دانش اور سچائی کے نمائندے ہیں۔ ان اعزازات و خطابات کے ذریعے حکومتیں اپنے وفاداروں کو اس قدر اہمیت دیتی ہیں کہ وہ نہ صرف سرکاری مفادات کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے حکومت اپنی پالیسیوں کو عوام تک پہنچاتی ہے۔
یہ اعزازات اور خطابات محض ایک ایسا طریقہ ہیں تاکہ یہ درباری معززین اپنے اثر و رسوخ کا ایک وسیع دائرہ (Area of Influence) قائم کرسکیں اور حکومتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کے ذہنوں میں حکومتی بیانیے کو پیوست کریں۔ ان افراد کو ”دانشور“ یا ”رہنما“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ صرف چاپلوس، ابن الوقت، مفاد پرست اور حکومت کے آلہ کار ہوتے ہیں جو مختلف منافع بخش پوزیشن حاصل کر کے عوام کو سرکاری مفادات کی طرف موڑتے ہیں۔ یہ افراد اپنی تمام تر مہارتوں کو کسی اصول یا ضمیر کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکومت کی سرپرستی حاصل کرنے اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


