وائٹ کوٹ


جب ہم جوان ہو رہے تھے تو وائٹ کوٹ معاشرے میں انتہائی رشک اور وقار کی اہمیت کا حامل تھا۔ وقت کے ساتھ یہ وائٹ کوٹ زبوں حالی کا شکار ہوتا رہا ہے اور اب اس کا وجود خطرات کی زد میں ہے اور بہت سے عناصر اس پہ حملہ آور ہیں۔ آپ جان تو گئے ہیں لیکن پھر بھی میں بتاتا چلوں کہ یہ وائٹ کوٹ وہی ڈاکٹروں والا جنہیں ہماری مائیں مسیحا بتایا کرتی تھیں۔

ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے طلباء کی بات کریں تو ان کے ساتھ جس طرح کا ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ بہت کم ہے۔ امتحانی نظام میں جس طرح کی بے ضابطگی اور بد نظمی دیکھنے کو مل رہی ہے وہ اس بات کی شاہد ہے کہ پیشہ ورانہ اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ امتحان مشکل ہونا قابل قبول ہے لیکن غیر معیاری اور پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کرنے والے امتحان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امتحان صرف طلباء کی قابلیت کو جانچنے کے لیے نہیں بلکہ ان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے مقاصد پر قائم کر دیا گیا ہے۔

اگر ہم میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے ماحول کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی پر سوز حالات ہیں۔ شعبہ جات کی طرف سی انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

کالجز میں حاضری کا تناسب 90 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ کیا پاکستان میں کوئی اور ایسا ادارہ ہے جہاں اتنی حاضری لازم ہو؟ کیا فیکلٹی کی حاضری 90 فیصد ہے؟

ہر تیر کا رخ طلباء کی جانب ہے۔ جو بھی سختیاں ہیں وہ طلباء پر مسلط کی جا رہی ہیں۔ یہ کیسی پالیسی ہے جو یک طرفہ طور پر طلباء کو ہی دیوار میں چن دیتی ہے اور باقی سب آزاد گھوم رہے ہیں۔

کالج اور ہوسٹل کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں آتی ہے۔ طلباء کو کس طرح کا ماحول دیا جائے اس پر تو کسی کی توجہ نہیں ہے۔ کہیں لائبریری کی توسیع کا منصوبہ تو نہیں نظر آتا ہے۔ طلبا کے لیے پریکٹیکل کے آلات کی فراہمی کا تو کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور تدریس کے نظام میں تو کچھ اصطلاحات نہیں ہو رہی ہیں۔ طلباء کے ہوسٹل پر تو کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ طلباء کو میس کی فراہمی اور اس کے معیار پر تو کوئی نظر نہیں پڑتی ہے۔ زور صرف امتحان نصاب اور حاضری پر لگایا جاتا ہے۔ یہ طلباء کوئی روبوٹس ہیں کہ ساری پالیسی صرف ان پر مرکوز کر دی جائے اور سب بہتر ہو جائے گا۔

طلباء کی صحت پر توجہ کسی کی نہیں پڑتی ہے۔ طلباء میں خود کشی کے رجحان بڑھنے سے کسی کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا ہے۔ دھڑا دھڑ ڈاکٹر ہارٹ اٹیک سے مر رہے ہیں اور کسی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ یہ مسیحا کیسے آپ کے دکھ کم کریں گے جن کی اپنی زندگی جہنم بنا دی گئی ہے۔ اگر ان کی جان لینے کا اتنا ہی شوق ہے تو ویسے ہی سزائے موت سنا دی جائے۔ وہ اس گھٹ گھٹ کے مرنے سے تو بہتر ہو گا۔

اس پالیسی سازی میں ایک مسخ شدہ چہرہ تو حکومت کا ہے جس کے ظلمات وائٹ کوٹ پر برس رہے ہیں۔ کون سی دشمنی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی ہے۔ حکومت کبھی بھی نظام کی بہتری نہیں چاہتی ہے وہ بربریت سے عوام کو بددلی پہ مجبور کرتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت عہدے دار منہ اٹھا کر اسپتال چلا جاتا ہے اور ڈاکٹر کی تذلیل کر کے واپس چلا جاتا ہے اور عوام کو یہ پیغام دے جاتا ہے کہ آپ لوگ بھی ان سے یہی سلوک کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو آئے روز ڈاکٹر کی مریض کے اہل خانہ کے ہاتھوں پٹائی اور تذلیل کی خبر سننے کو ملتی ہے۔

اس سب کے بہت حد تک ذمہ دار خود طلباء ہیں۔ اس وقت ایک بھی تنظیم ایسی نہیں ہے جو میڈیکل کے طلباء یا ڈاکٹروں کے اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ لوگ منظم اور متحد بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔ ہر طلباء دشمن قوت اور پالیسی کے سامنے یہ لوگ آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔ یہ قوالی نائٹ اور فن فیئر کے پہرے دار ہیں مگر اپنے حقوق کے نہیں ہیں۔ دراصل ان میں شعور اور آزاد سوچ ہی نہیں ہے۔

ان کے آپس کے اختلافات اور دشمنی ان کو کمزور کر رہی ہے۔ جب تک ایک مزاحمتی اور سیاسی قیادت نہیں ہوگی یہ لوگ اس طرح پستے رہیں گے۔ یہ قیادت فطری اور حقیقی ہونی چاہیے نہ کہ کسی مافیا کو مختاری دی جائے۔ اگر وائٹ کوٹ کو اپنی پرانی شان چاہیے تو تم میڈیکل کے طلباء اور ڈاکٹروں کو سب سے پہلے ایک پلیٹ فارم بنایا چاہیے جس کو اعتماد اور حمایت حاصل ہونی چاہیے اور ایک پھر ایک جدوجہد شروع کرنی چاہیے اور اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے حصول تک میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ آسان نہیں ہے لیکن اس تذلیل اور تحقیر سے نکلنے کا رستہ یہی ہے

Facebook Comments HS