پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پرکیا کسی کو پریشانی ہے؟


ارسا پاکستان کی ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تازہ پانی کی قلت کے پیش نظر اپریل کے دوران ملک میں صرف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا اور فصلوں کے لیے پانی نہیں مل سکے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیمز میں پانی نہیں ہے، دریاؤں کا بہاؤ کم ہوا ہے اور پہاڑوں پر برف کے ذخائر قلیل ہیں۔ یہ صورت حال فصلوں کے لیے بہت سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی قلت رجسٹر کی جا رہی ہے۔

بدھ کو ارسا کے اجلاس میں ہونے والے اس فیصلے کے بارے میں اکا دکا انگریزی اخباروں کی سوا کسی میڈیا میں کوئی خبر دیکھنے میں نہیں آئی اور نہ ہی قومی ٹاک شوز کے اینکرز کو اس اہم مسئلہ کے بارے میں کوئی تشویش لاحق ہوئی جس پر دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات پریشان ہیں اور مسلسل عوام کو آئندہ برسوں میں پیدا ہونے والی افسوسناک صورت حال سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ارسا نے ملک میں ایک ماہ کے لیے صرف پینے کا پانی فراہم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ بھی اپنی نوعیت میں نیا ہے کیوں کہ اس سے پہلے ایسی سنگین صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب بھی یہی امید کی جا رہی ہے کہ پانی کے ذخائر میں اضافے سے صورت حال معمول پر آ سکے گی لیکن پانی کی کمی پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے دنیا کے متعدد ممالک پانی کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب نفوس تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں ایک سے دو فیصد تک اضافہ کا امکان ہے۔ یہ دونوں عوامل دنیا میں تازہ پانی کی صورت حال کو سنگین بنا رہے ہیں۔ اس طرح نہ صرف صنعتی مقاصد اور زراعت کے لیے پانی کی کمی دیکھنے میں آئے گی بلکہ پینے کا پانی بھی نایاب ہو سکتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک اس وقت بھی پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ گو کہ ان میں بیشتر مشرق وسطی کے ممالک ہیں جہاں تازہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور انہیں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیرون ملک ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد افریقی ممالک بھی پانی کی سب سے زیادہ قلت کا سامنا کرنے والے 25 ممالک میں شامل ہیں کیوں کہ وہاں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تازہ پانی ذخیرہ کرنے اور اس کی بچت کے طریقوں پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت میں ان پچیس ممالک میں شامل ہے جہاں اعداد و شمار کے مطابق پانی کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم پاکستان بھی اس فہرست سے دور نہیں ہے۔ دنیا میں پانی کی فراہمی کے دباؤ کا سامنا کرنے والی فہرست میں پاکستان کا نمبر 31 ہے۔

عالمی ماہرین اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کی قدر و قیمت کے بارے میں آگاہی کو فروغ دے کر، ماحولیاتی تبدیلی کا شعور پیدا کر کے اور حکومتوں کی طرف سے اس اہم مسئلہ پر توجہ دے کر دنیا میں پانی کے ذخائر کو محفوظ کرنے اور ان کے بہتر استعمال کا ایسا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ آبادی میں اضافے کے باوجود تمام لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی ملتا رہے۔ تاہم اس مقصد سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور سے ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیات کے بارے میں شعور بھی موجود ہے اور وہاں حکومتیں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کی کوشش کرتی ہیں۔ البتہ ورلڈ واٹر ریسورسز انسٹی ٹیوٹ ( ڈبلیو آر آئی) کے اعداد و شمار اور تخمینہ کے مطابق اگر عالمی طور سے کل پیداوار کا ایک فیصد مستقبل میں پانی کی بہتر فراہمی کے لیے صرف کیا جائے تو آبادی اور درجہ حرارت میں اضافہ کے باوجود پانی کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ موجودہ حالات میں پانی استعمال کے علاوہ ضائع بھی ہوتا ہے جسے بچا کر ایک اہم مشکل سے بنی نوع انسان کو بچایا جاسکتا ہے۔ البتہ ڈبلیو آر آئی کا خیال ہے کہ عالمی لیڈر اس اہم مسئلہ پر توجہ دینے اور ضروری مالی وسائل فراہم کرنے پر راضی نہیں ہیں۔

یہ صورت حال امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سنگین ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ ماحولیات کے بارے میں تحقیق اور ماہرین کے انتباہ کو درست نہیں مانتے۔ انہوں نے صدر بنتے ہی عالمی ماحولیات کی بہتری کے لیے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ درجہ حرارت میں کمی کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج جیسے متفقہ اور اہم عالمی اصول کو بھی نہیں مانتے بلکہ امریکہ میں تیل و گیس کے ذخائر کو بروئے کار لانے کے علاوہ وہ کوئلے کے استعمال کو بھی امریکہ کی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ چار سال کی مدت کے لیے ہی صدر بنے ہیں لیکن امریکہ جیسے بڑے ملک کی طرف سے ماحولیات کو درپیش خدشات سے انکار کی وجہ سے عالمی تنظیموں کا کام مشکل ہو جائے گا اور اس بارے میں کیے جانے والے متعدد اقدامات پر متفقہ طور سے عمل نہیں ہو سکے گا۔

پاکستان بھی اگرچہ دنیا کا حصہ ہے اور پوری دنیا میں رونما ہونے والے حالات، ملکی ماحولیات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن پر پاکستان کا براہ راست کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یعنی دنیا میں اگر درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یورپی ملکوں، امریکہ، چین و بھارت کی صنعتوں سے خارج ہونے والا دھؤاں ہے جسے ماحولیات کے متفقہ کوٹہ کے مطابق مینیج نہیں کیا جاتا۔ خاص طور سے امریکہ، چین اور بھارت اس حوالے سے بدترین مثال قائم کر رہے ہیں جہاں صنعتوں کو ماحول دوست بنانے پر سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ دوسری طرف پاکستان جیسے ملکوں کے لیڈر ماحول کی خرابی میں دوسرے ملکوں پر نکتہ چینی کر کے اور خود کو مظلوم اور متاثرہ ملک قرار دے کر صرف کسی نہ کسی نوع کے مالی وسائل حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان اگر درجہ حرارت میں اضافہ کے متاثرین میں نمایاں ہے تو اس کے ساتھ ہی یہاں آباد لوگ بھی ماحولیات کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ لاپروا لوگوں میں شامل ہیں۔

اس بارے میں نہ تو حکومت کوئی خاص توجہ دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور نہ ہی ملکی دانشور یا میڈیا ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ بدھ کو ارسا کے اجلاس میں پانی کی قلت کے سبب سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن اس موضوع پر کوئی عمومی گفتگو یا تبصرہ نظر سے نہیں گزرتا۔ اخبار اور ٹیلی ویژن نیوز بلیٹن سیاسی چپقلش یا بیانات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ملک کی بہتری کے لیے یقیناً سیاسی افہام و تفہیم بھی ایک اہم مسئلہ ہے لیکن زندہ رہنے اور پاکستانی آبادی کے لیے زرعی پیداوار کے مقصد سے پانی کی مسلسل اور قابل اعتبار فراہمی اہم ترین مسئلہ ہے۔ دیگر سب معاملات اس کے بعد ہی آتے ہیں۔ پاکستان کو ایک طرف سندھ طاس معاہدہ کی وجہ سے بھارت کے معاندانہ رویہ کا سامنا ہے اور کسی عالمی فورم پر پاکستان اب تک اپنا مقدمہ موثر طریقے سے پیش نہیں کر پایا تو دوسری طرف سیاسی چپقلش کی وجہ سے ملکی سطح پر کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں ہو سکتا جس سے مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے اور بروقت فصلوں کے لیے اس کی فراہمی کا مقصد پورا ہو سکے۔ کالا باغ ڈیم کے سوال پر ہونے والی سیاست اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔

اب بھی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان چولستان کے زرعی منصوبہ کے لیے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے سوال پر سیاسی لڑائی جاری ہے۔ صوبوں کے لیے کوٹے کے مسئلے پر لڑنے والے سیاست دان ملک میں پانی کی عمومی صورت حال پر کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتے۔ اسی لیے ان کی تقریروں اور بیانات میں مخالفین پر دشنام طرازی تو سنی جا سکتی ہے لیکن مسائل کے بارے میں بات کرنے کا رواج نہیں ہے۔ پاکستان میں آبادی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو ایک طرف پانی کی قلت کا سبب بن رہا ہے تو دوسری طرف جدید تعلیمی نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نسلیں ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے یا ملکی ترقی میں معاونت کرنے کے قابل نہیں بن پاتیں۔ اس کمی و کمزوری کا مقابلہ پاکستان کو خود ہی کرنا ہے لیکن اس کی قیادت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

پانی کی بچت کے لیے یورپ کے ایسے ممالک میں بھی مہمات چلائی جاتی ہیں جہاں آبادی کم اور پانی کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہاں بھی گرمیوں میں گھر کے لان کو پانی نہ دینے، گاڑیاں دھونے سے گریز کرنے یا شاور میں کم پانی استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں پانی کے استعمال پر پابندی بھی عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصول لاگو نہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ یا رضاکارانہ طور سے کام کرنے والے گروہ پانی کے ضیاع کو قومی زندگی کے لیے نقصان دہ قرار دینے کا باعث قرار دے کر اس کی حوصلہ شکنی کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ شکوہ تو کیا جاتا ہے کہ سطح زمین سے پانی نکالنے کے لیے اب کئی سو میٹر گہرا بور کرنا پڑتا ہے لیکن یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ زیر زمین پانی کی قلت کی کیا وجوہات ہیں اور ملک کی شہری زندگی یا زراعت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حالانکہ ملک میں چند سادہ طریقوں کو عام کر کے پانی بچانے کے کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ رویہ عام ہو جائے تو پانی کی بچت و فراہمی بہتر بنانے کے بڑے منصوبے شروع ہوسکتے ہیں۔

ارسا کا اجلاس پریشانی کا اظہار کر کے اور ایک ماہ تک زراعت کے لیے پانی نہ دینے کے فیصلے پر ختم ہو گیا لیکن کسی طرف سے یہ سوال اٹھانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ اس کا کون ذمہ دار ہے۔ کیوں کہ ہمارے لیڈر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے مسائل اوروں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے ہمیں خود ہی کوشش کرنا پڑے گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پرکیا کسی کو پریشانی ہے؟

  • 28/03/2025 at 6:41 صبح
    Permalink

    ایک بھیانک مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کی اچھی کوشش۔ بہت شکریہ۔
    =
    اس مسئلے سے کسان اور وہ تمام لوگ (بالخصوص شہری علاقوں سے) بخوبی آگاہ ہیں جو پانی کی کمی کو محسوس کررہے ہیں یا ان کے ماہانہ بل میں ایک بڑی رقم پانی کی مد میں خرچ ہورہی ہے۔

    جہاں تک میڈیا کا سوال ہے۔ آج رات ہی ایک ڈرامے "دل والی گلی میں” کی 26 ویں قسط دیکھی جس کے 5:27 منٹ پر جو منظر دیکھا اس نے خون کے آنسو رلادیئے۔

    جہاں اب ان ڈراموں میں اسپانسر کمپنیوں کی مشہوری کی جارہی ہوتی ہے مثلاً گاہے بگاہے جام شیریں پیا جارہا ہوتا پے کبھی سن سلک سے بال دھوئے جارہے ہوتے ہیں۔ ایک خاص چاکلیٹ کی بات کی جارہی ہوتی ہے وہیں اس منظرمیں وم بار کی مشہوری کے لئے اداکارہ کو وم بار کھول کر برتن دھوتے دکھایا گیا۔ چند لمحوں کے لئے جب کہ گندے برتن سے اس بار کے مواد نے چھونا تھا بیک گراؤنڈ میں نلکا مسلسل تیز بہاؤ سے کھلا رہا اور یقین کریں میرے دل پر جیسے چھریاں چل رہی تھیں۔

    دل چاہ رہا تھا کہ اس اسپانسر پراڈکٹ یعنی وم بار کا بائیکاٹ کردوں ساتھ اس ڈرامے کا بھی۔

    کیا اچھا ہوتا اسی منظر میں ماں اپنی بیٹی کو ڈانٹ کر کہتی کہ پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہے اسے ضائع مت کرو۔ حیرت تو ان لوگوں پر بھی ہوتی ہے جو ڈراموں کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں اور ایک سامنے کی بات جو عام سے ناظر کو سمجھ آرہی ہوتی ہے۔ ان کو نظر ہی نہیں آتی۔

    بہرحال جیسے ہمارے بے درد اور ظالم سیاستداں ہیں ویسے ہی معاشرہ اور اس کے شہری بھی (زیادہ تر)

Comments are closed.