خواب، محبت اور زندگی 5
ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو اپنی پھوپھیوں کی باتیں سن سن کر انہیں اندازہ ہونے لگا کہ ان کی ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا اور انہیں کیسے ماں کی محبت بھری آغوش سے محروم کر دیا گیا تھا۔
میں صرف تصور ہی کر سکتی ہوں کہ ایک چھوٹے سے بچے کے ذہن پر ان باتوں کے کیا نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے شعور سنبھالنے سے پہلے ہی یہ صدمہ ان کے ذہن کے نہاں خانوں میں بس گیا ہو۔ گیبر میٹ جیسے ذہنی صحت کے جدید ماہرین کے بقول شیر خوار بچے بھی ذہنی صدمے سے گزرتے ہیں اور اس کے اثرات زندگی بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ امی نے ہم بچوں کو بارہا یہ کہانی سنائی اور ہر مرتبہ آخر میں وہ یہ ضرور کہتی تھیں ”ننھا سا بچہ ماں سے بچھڑ کر کتنا رویا ہو گا۔
ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ماں بیٹا کبھی مل نہیں پائے ”۔ ابی کو اس کا علم نہیں تھا کہ امی ہمیں ان کے بچپن کے ٹراما کے بارے میں بتا چکی ہیں۔ ہم ان کے بچپن کے دکھ کو محسوس کر سکتے تھے شاید اسی لئے میں ان سے بے تحاشا محبت کرتی تھی۔ ابی بچپن سے ہی تہیہ کیے بیٹھے تھے کہ جیسے ہی وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوئے، وہ الگ گھر لے کر ماں کو اپنے پاس لے آئیں گے۔ اس لئے وہ لڑکپن سے ہی معاشی خود مختاری کے لئے کوشاں تھے۔
اسکول ختم کرتے ہی انہوں نے شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ میں مہارت حاصل کر لی اور 1945 میں سترہ سال کی عمر میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اقتصادی طور پر خود کفیل ہونے کے بعد انہوں نے پہلا کام وہ کیا جس کا خواب وہ بچپن سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔ وہ اپنی ماں کو لینے کے لئے سیدھے اپنے ماموں کے گھر جا پہنچے۔ ماں اور بیٹے کی سالوں بعد پہلی ملاقات ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے، برسوں کی جدائی کا دکھ آنسوؤں کی شکل میں بہہ نکلا۔
لیکن اس طرح کی کہانیوں کا خوشگوار انجام شاید صرف فلموں میں ہی ہوتا ہے۔ ابی کے ماموؤں کی انا کو جو ٹھیس پہنچی تھی، ان کی بہن کے ساتھ سسرال والوں نے جو کچھ کیا تھا، وہ اسے بھولنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی بہن کو اس کے بیٹے یعنی ابی کے ساتھ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ لیکن ابی بھی اپنی ہٹ کے پکے تھے، وہ ماموں کے گھر کے چکر لگاتے رہے اور ماں کو اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرتے رہے۔ آخر ماموؤں کو ایک ترکیب سوجھی۔
انہوں نے ابی سے کہا کہ ان کی والدہ کو جہیز میں جو زیورات کی صندوقچی دی گئی تھی، اگر وہ اپنے والد سے مانگ کر لے آتے ہیں تو وہ ان کی ماں کو ان کے ساتھ جانے دیں گے۔ ابی سیدھے اپنے گھر واپس گئے اور اپنے والد یعنی ہمارے دادا سے اپنی ماں کے زیورات کی صندوقچی مانگی۔ دادا نے انہیں سمجھایا کہ ”یہ زیورات واپس لینے کا ایک حربہ ہے۔ اگر میں تمہیں زیورات دے بھی دیتا ہوں تب بھی تمہارے ماموں کبھی بھی اپنی بہن کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجیں گے۔
کیا تمہیں علم نہیں کہ جب وہ واپس آنا چاہتی تھیں تو انہیں روکنے کے لئے بھائیوں نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا تھا۔ تمہارے بڑے ماموں انتہائی بد مزاج اور انانیت پسند ہیں۔ وہ کبھی بھی تمہاری ماں کو تمہارے ساتھ نہیں آنے دیں گے ” ابی سترہ سال کے ایک نو عمر لڑکے ہی تو تھے۔ وہ زبردستی تو زیورات نہیں لے سکتے تھے اور پھر یہ بھی تھا کہ اگر باپ کی بات سچ ثابت ہو جاتی تو وہ کیا کرتے۔ چنانچہ سترہ سال کی کچی پکی عمر میں اس لڑکے کو جس نے بچپن سے اپنی ماں کے ساتھ رہنے کے خواب دیکھے تھے، اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ خواہشیں اور آئیڈیلز ایک چیز ہیں اور زندگی کے حالات اور سنگین حقیقتیں بالکل دوسری چیز ہیں۔
لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکی ہوں، ابی کی فطرت میں قنوطیت کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ ماں سے جدائی کا غم بچپن سے ان کے ساتھ تھا اور رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کو سنوارنے اور نکھارنے میں بھی لگے رہے۔ اس لئے جلد ہی انہیں پاکستان اور ہندوستان کے مشہور بیوروکریٹ مسرت حسین زبیری کے پاس اسٹینو گرافر کی ملازمت مل گئی۔ ابی زبیری صاحب کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ انسان متحرک، پر عزم اور حوصلہ مند انسانوں سے بہت متاثر ہوتا ہے۔
اسی لئے اس عہد کے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی اکثریت محمد علی جناح سے متاثر تھی۔ وہ ان ہی طرح فر فر انگریزی بولنا، مغربی طرز کے سوٹ پہننا، اور زندگی کی ساری جمالیات اور آسائشات کو اپنے وجود میں سمونا چاہتے تھے۔ اردو ادب کی دیو قامت شخصیت قرۃ العین حیدر نے اپنی بہت سی تحریروں میں ان مسلم نوجوانوں کا ذکر کیا ہے۔


