پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 10 )
آدمی زیادہ تر اپنے سے طاقتور اور با اثر آدمی کی عزت کرتا ہے مگر کمال تو جب ہے جب وہ ان لوگوں کی عزت کرے جو دنیاوی اعتبار سے اس سے رتبے اور مرتبے میں کم ہوں۔ ہمیں یہ ہی سکھایا گیا کہ انسان کی عزت کرنی چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ہمارے گھر میں شروع سے ملازمین کا گھر والوں کی طرح خیال رکھا جاتا اور ان کے اور ہمارے لئے ایک سا کھانا بنتا تھا۔ ہم اپنے ملازمین کو گھر کے فرد کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔ پرما جب میں اسکالرشپ پہ Ireland میں تھی تو وزکڈ میں بسنت کا میلہ منایا گیا تھا اور تم وہاں اڑ گئی تھیں کہ میری حیمی نانی کو بھی بریانی دیں اور تم نے حلیمہ کو بریانی دلوائی تھی۔ وہاں موجود کسی بھی ملازمہ کے لئے کھانے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
تمھاری سالگرہ میں حلیمہ بھی ہم سب کے ساتھ پرل کونٹینٹل گئی تھی۔ وہ اب بھی اکثر یاد کرتی ہے کہ ہمارے ساتھ وہ کتنا گھوما کرتی تھی۔ جب ہم پاکستان جاتے ہیں تو وہ کتنی محبت سے ہم سب سے ملنے آتی ہے۔ جب ہم اس کے گھر جاتے ہیں تو وہ ہم سب کے پسند کے کھانے بناتی ہے اور تم لوگوں کے لئے اپنے درخت سے ناریل توڑ کر رکھتی ہے۔
امداد بھائی ہمارے لئے گاؤں سے آم منگواتا ہے اور اپنے گھر بلا کر خاطر کرتا ہے یہ عزت اور محبت ہمیں اس لئے ملتی ہے کہ ہم ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ کراچی میں ان کی بدولت ہماری زندگی کتنی سہل تھی۔ انسان نہ چھوٹا ہوتا ہے اور نہ بڑا وہ صرف انسان ہوتا ہے۔ مجھے اس بات پر ناز ہے کہ میرے بچے انسان سے محبت کرتے ہیں اس کے رتبے سے نہیں۔ مجھے اچھے سے یاد ہے جب KESC میں اب سے چند برس قبل تقسیم انعامات کی تقریب تھی اور اس میں میں نے کمپیرنگ کے دوران کیم جی اور شعیب کا ذکر کیا تھا تو انہیں یقین نہیں آیا تھا کہ ان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو آپ کے آرام کے لئے نہ دن دیکھیں نہ رات انھیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔


