دی کائٹ رنر: دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات پر مبنی ایک اثر انگیز ناول
دی کائٹ رنر خالد حُسینی کا پہلا ناول ہے۔ اس کی کہانی دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات سے بُنی گئی ہے۔ یہ کئی دہائیوں اور براعظموں پر محیط ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات، تفرقوں میں بٹی معاشرت، سیاسی بحرانوں اور بین الاقوامی مداخلت جیسے موضوعات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔
پہلے ناول نگار کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ خالد حُسینی معروف افغان نژاد امریکی ادیب اور انسانی حقوق کے سرگرم رُکن ہیں۔ وہ پُراثر اور دل میں گھر کرنے والی کہانیوں کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ 4 مارچ 1965 کو کابل، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد وزارت خارجہ میں سفارت کار تھے جب کہ والدہ کابل کے ایک مشہور سکول میں فارسی اور تاریخ پڑھاتی تھیں۔ 1976 میں ان کا خاندان سفارتی خدمات انجام دینے کی غرض سے پیرس منتقل ہو گیا۔ 1980 میں وہ کابل واپس آنا چاہتے تھے تاہم بغاوت اور سوویت یونین کے کابل پر قبضے کی وجہ سے انہوں نے امریکہ میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا اور کیلی فورنیا منتقل ہو گئے۔ بنیادی طور پر وہ ایک ڈاکٹر ہیں تاہم وہ شروع سے ہی فکشن نگاری کی طرف مائل تھے، چنانچہ انہوں نے اپنے شوق کو ہی پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
پہلی بار یہ ناول 2003 میں انگریزی زبان میں چھپا۔ ہم جس ترجمے سے مُستفید ہوئے ہیں وہ ابوالفراج ہمایوں نے کیا ہے۔ اس ترجمے کے 304 صفحات ہیں اور یہ 25 ابواب پر مشتمل ہے۔ ترجمہ بامحاورہ اور رواں ہے جو قاری کی کتاب بینی کی رفتار میں حائل نہیں ہوتا۔ اُن کے دیگر ناولوں میں ’ہزار حوصلے کی مثالیں‘ اور ’پہاڑ کی فریاد‘ شامل ہیں۔
ناول کا پلاٹ بچپن کے دو دوستوں عامر اور حسن کے گرد گھومتا ہے۔ عامر امیر باپ کا بیٹا ہے جس کی والدہ اسے پیدا کرتے وقت فوت ہو جاتی ہے۔ وہ بچپن سے ہی عدم تحفظ کا شکار ہے اور اپنے والد کی توجہ حاصل کرنے کی جستجو اسے ایک سنگین غلطی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ناول کا دوسرا اہم کردار حسن ان کے ملازم علی کا بیٹا ہے جو نہایت ہی سلیقہ مند اور وفادار دوست ہے۔ ایک موقع پر محلے کے اوباش نوجوان حسن کو گھیر لیتے ہیں اور اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں عامر بھی وہیں موجود ہے مگر وہ چھپ کر کھڑا رہتا ہے اور اپنی بزدلی اور خود غرضی کے باعث خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی یہ حرکت اسے ساری زندگی کے لیے ندامت میں مبتلا کر دیتی ہے۔
ایک دن جب عامر حسن پر رقم اور گھڑی کی چوری کا الزام لگاتا ہے تو حسن اپنے والد سمیت گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پھر جب سوویت یونین افغانستان پر قابض ہو جاتا ہے تو عامر والد سمیت امریکہ ہجرت کر جاتا ہے۔ وہاں وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہمیشہ پچھتاوے کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔
بالآخر کئی سالوں بعد عامر کو ایک موقع میسر آ جاتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکے۔ اس تک ایک پیغام پہنچتا ہے کہ افغانستان میں حسن کو بیوی سمیت قتل کر دیا گیا ہے اور ان کا بیٹا سہراب طالبان کے قبضے میں ہے۔ اسی دوران اس پر ایک اور پہاڑ ٹوٹتا ہے کہ حسن اس کے باپ کی ناجائز اولاد تھا اور اس تعلق سے سہراب اس کا بھتیجا ہے۔ شدید خطرے کے باوجود بالآخر وہ اپنی بزدلی پر قابو پاتا ہے اور افغانستان کا سفر کرتا ہے اور مشکلوں اور تکلیفوں کے باوجود سہراب کو امریکہ لے آتا ہے۔
اگر ناول کے عوامل کی بات کی جائے تو وہ بے شمار ہیں مگر ہم اہم ترین پر ہی روشنی ڈالیں گے۔ سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں ضمیر پر بوجھ اور کفارے کے لیے کی گئی جدوجہد کی۔ حسن سے کی گئی غداری عامر کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے، اور وہ سالوں تک اس بے وفائی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ سہراب کو بچانے کا فیصلہ اس کی غلطیوں کی تلافی کی علامت ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نجات ممکن ہے، چاہے ماضی کتنا ہی سیاہ کیوں نہ ہو۔
دوسرا اہم ترین موضوع غداری یا بے وفائی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عامر اور حسن میں گہری دوستی ہے جو محبت اور قربت کے باوجود عدم توازن کا شکار ہے۔ حسن کی بے لوث وفاداری کے باوجود عامر کی حسد اور عدم تحفظ کی کیفیت اُسے دوستی سے انحراف پر مجبور کر دیتی ہے۔ خاص طور پر یہ پہلو طبقاتی اور سماجی فرق کے اثرات کو اُجاگر کرتا ہے۔
تیسرا اہم ترین پہلو باپ اور بیٹے کے آپسی تعلق کی کمزوری کے بارے میں ہے۔ عامر اپنے والد کی اکلوتی اولاد ہے اس کے باوجود وہ باپ کی محبت اور توجہ سے محروم ہے۔ اس کی یہ خواہش تب پوری ہوتی ہے جب وہ امریکہ منتقل ہو جاتے ہیں اور ان کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ عام انسانوں کی طرح اس کے باپ کے بھی کچھ راز تھے اور کمزوریاں تھیں۔
ایک اور موضوع جس پر مصنف نے خصوصی توجہ دی ہے وہ ہے بہادری اور بزدلی کا شخصیتوں پر اثر انداز ہونا۔ عامر کو بچپن سے سے ہی بزدل دکھایا گیا ہے۔ جب کے حسن جہاں وفادار ہے وہیں بہادری میں بھی ثابت قدم ہے۔ جب عامر اُس پر گھڑی اور نقدی کی چوری کا الزام لگاتا ہے تو وہ ناکردہ جرم کو قبول کر لیتا ہے۔ ایک بار جب محلے کے آوارہ لڑکوں سے جھڑپ کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے تو حسن عامر کا دفاع کرتا ہے جب کہ وقت پڑھنے پر عامر اپنی بزدلی کی وجہ سے وفاداری کے امتحان میں فیل ہو جاتا ہے۔
ہمیں اس ناول کے جس پہلو نے جھنجھوڑا ہے وہ ہے نسل کُشی اور مذہبی منافرت۔ حسن کے والد ہزارہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ اثناعشری ہے۔ چونکہ وہ اقلیت میں ہیں اس لیے حنفی مسلک پر مبنی معاشرہ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور جب طالبان برسراقتدار آتے ہیں تو ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں مصنف نے اغلام بازی جیسے ناسور کی طرف بھی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے اپنے فکشن کے ذریعے معصوم بچوں کو ہوس کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
ناول میں پتنگ بازی بطور علامت استعمال ہوئی ہے جو بے وفائی اور معصومیت کی مشترکہ علامت ہے۔ کٹی پتنگ کا پیچھا کرنا عامر اور حسن کی دوستی کی عکاسی ہے۔ جب کہ ناول کے اختتام پر عامر کا حسن کے بیٹے کے لیے پتنگ اُڑانا اُمید اور ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔
خالد حُسینی نے جمالیات اور منظر نگاری پر خصوصی توجہ دی ہے۔ وہ کابل کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ جو تخیل کو حقیقت کا لمس بخشتی ہے۔ ابتدائی مناظر میں نیلے گگن تلے رنگ برنگی پتنگیں اُڑتی ہیں، باغات خوشبو پھیلاتے ہیں، گلیوں میں گونجتی ہنسی اور سرسبز و شاداب مناظر ایک حسین خواب کا سماں باندھتے ہیں۔ تاہم بے رحم وقت اور جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث یہی شہر خاموشی، ویرانی اور شکستہ دیواروں میں بدل جاتا ہے جہاں دھول میں لپٹے راستے اور اجڑی گلیاں کسی المیے کی گواہ بن جاتی ہیں۔ پتنگ بازی، جو ابتدا میں معصومیت اور خوشیوں کی علامت تھی، بعد میں عامر کی غداری اور ضمیر کی خلش کا استعارہ بن جاتی ہے۔ مگر جب اختتام پر عامر سہراب کے لیے پتنگ اڑاتا ہے تو یہ منظر نجات کفارے اور اُمید کے ایک نئے سورج کی نوید سنانے لگتا ہے، جو دکھوں کے اندھیرے میں روشنی کی کرن ثابت ہوتا ہے۔
گفتگو کے اختتام پر ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ’دی کائٹ رنر‘ ایک کہانی نہیں بلکہ جذبات سے بھرپور ایک سفر ہے جو قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کیا غلطیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا کفارہ ممکن ہے؟ اور کیا وقت کے زخم واقعی بھر سکتے ہیں؟ یہ ناول فرد کی اندرونی کشمکش اور ضمیر کے بوجھ کو انتہائی اثر انگیز انداز میں بیان کرتا ہے۔ عامر کا سفر درحقیقت ایک ایسی جستجو ہے جو اسے بالآخر نجات اور روحانی سکون کی طرف لے جاتا ہے۔ خالد حُسینی کی سادہ مگر گہری نثر اور افغانستان کی دل خراش تاریخ کا امتزاج اس کہانی کو ایک ناقابل فراموش تجربہ بنا دیتا ہے۔



