اوسط درجے کی پینٹنگ
”یہ لو تمہاری فائل،“ میری بہن نے کالج سے آنے کے بعد مجھے ایک سفید رنگ کی فائل پکڑاتے ہوئے کہا۔ ”یہ کیا ہے؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اس سے پوچھا۔ ”تمہاری پینٹنگ،“ اس نے معمول کے سے انداز میں جواب دیا۔ ”میری پینٹنگ؟“ میرے دماغ میں موجود بہت سے سوالوں میں سے ایک میری زبان سے چھوٹ گیا۔ میری بہن کو وہ پینٹنگ کہاں سے ملی؟ اس نے اسے کیوں پاس رکھ لیا؟ وہ اسے کہاں لے کر گئی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کاغذات کے لیے استعمال ہونے والی اس فائل میں کون سی پینٹنگ تھی؟
”بیٹھک کی الماری صاف کرتے ہوئے تمہاری شیلف سے یہ پینٹنگ نیچے گر گئی تھی۔ تم نے بے احتیاطی سے وہاں رکھی ہوئی تھی۔ مجھے پینٹنگ اچھی لگی۔ میں اپنے ساتھ اسے کالج لے گئی تھی۔ میں نے وہ پینٹنگ اپنے انگلش کے پروفیسر کو دکھائی تو انہوں نے اسے نہ صرف پسند کیا بلکہ آج ہمارا لیکچر اسی پینٹنگ کے موضوع پر ہوا کہ آرٹسٹ اس پینٹنگ میں کیا کہنا چاہتا ہے؟“ میری بہن نے سارے معاملے کی فوراً وضاحت کر دی۔
جب سوالوں کی دھند چھٹ گئی تو استعجاب کی تمازت روح گدگدانے لگی۔ لیکن ایک معمہ حل کرنا ابھی باقی تھا۔ آخر وہ پینٹنگ کون سی تھی جسے اتنی پذیرائی ملی؟ میں نے سفید فائل میں جھانکا۔ اندر کاغذ پر بنی ایک واٹر کلر پینٹنگ نظر آئی۔ میں نے احتیاط سے اسے باہر کی طرف کھینچ لیا۔ اب سورج پوری طرح بادلوں سے باہر آ چکا تھا۔ اس کی تپش مجھے اپنے وجود میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”یہ تو ایک اوسط درجے کی پینٹنگ ہے!“ میں احتجاجاً بولا۔ لیکن اب فریاد کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ میری بہن نے مجھے لاکھ سمجھایا کہ نہیں وہ ایک اچھی پینٹنگ تھی۔ تبھی تو سب نے اسے اتنا پسند کیا۔ مجھ پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ افسردگی کی دھوپ میری رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ ملال کے قطرے میری پیشانی سے چھوٹنے لگے۔ پژمردہ میں پینٹنگ کو اس کی جگہ پر واپس رکھنے کے لیے آگے بڑھا۔ تب ایک یاد کی چھاؤں نے مجھے پناہ دی۔
کچھ برس قبل میں نے پرانے گھر کی بیٹھک میں ایک کاغذ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کے گرد پینسل پھیر کر ایک سکیچ بنایا تھا۔ اس میں خمیدہ شاخوں کی مانند ہاتھوں کی لکیریں بنائیں تھیں۔ ان کے اوپر تلے پھلوں کے لیے کچھ دائرے کھینچے تھے۔ اس کے بعد اسکیچ میں رنگ بھرنا شروع کیے۔ ہتھیلی کی حدود سے باہر سبزے کے لیے ہرے رنگ کے سٹروک لگائے۔ کتھئی رنگ سے رگوں کی سی باریک شاخیں بنائیں۔ بازو کو مضبوط تنے کی مانند بنایا۔ پھلوں میں سرخ رنگ بھرے۔ پس منظر آسمانی رنگ کا تھا۔
دراصل پینٹنگ میں میں نے اپنی ایک مختصر نظم کو مصور کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ نظم کچھ یوں تھی:
نرم گداز ہاتھوں کی
چڑھتی ہوئی شاخیں
پھل ضرور دیتی ہیں
ہاتھوں کے آئینے کی
پاش پاش کرچیاں
اپنا ہی عکس لیتی ہیں
امتحان مکمل ہو چکا تھا۔ اب فیصلے کا انتظار تھا۔ امیدوار بھی میں خود تھا اور ممتحن بھی۔ میں نے بازو پھیلا کر پینٹنگ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اس کی طرف تنقیدی نظروں سے دیکھنے لگا۔ پینٹنگ میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔ لیکن کیا کمی یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کیا میں نظم کے ساتھ پورا انصاف نہیں کر پایا تھا؟ کیا رنگوں کے استعمال میں کوئی غفلت رہ گئی تھی؟ کیا سکیچ پختہ نہیں تھا؟ یا سب عوامل شامل تھے؟
اور واٹر کلر ایک ایسا امتحان تھا جس کی سعی صرف ایک بار ہوتی تھی۔ اس کے بعد ترمیم بہت مشکل تھی۔ وہ پینٹنگ شاہکار تو ہرگز نہیں تھی۔ سو وہ میرے آرٹ البم کا حصہ نہیں بن سکتی تھی۔ کیا پینٹنگ فیل تھی؟ اس صورت میں میں ایک بے رحم جلاد کی مانند اسے پرزے پرزے کر دیتا تھا۔ وہ ایک اوسط درجے کی پینٹنگ تھی! ایسی پینٹنگ جس کا مقام نئے گھر کی بیٹھک کی الماری تھا۔ جہاں میں اسے پرانی کتابوں کے نیچے چھپا کر اس سے غافل ہو چکا تھا۔
ماضی کی اس یاد نے میری خوب آؤ بھگت کی۔ اور پھر میں حال میں واپس آ گیا۔ میں بہن کو درمیان والے کمرے میں چھوڑ کر ہال کمرے سے گزرتا ہوا بیٹھک کی طرف بڑھنے لگا۔ مجھے اپنے قدم اچانک رکتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ”انگلش کے پروفیسر نے پینٹنگ کو پسند کیا۔“ یہ پیچھے کھڑی بہن کے کچھ دیر پہلے بولے گئے الفاظ تھے۔ میں نے خود کو نوے کے درجے سے بائیں جانب امی کے کمرے کی طرف گھومتا ہوا محسوس کیا۔
”آج ہمارا لیکچر اسی پینٹنگ کے موضوع پر ہوا۔“ کیا واقعی اس پینٹنگ نے پروفیسر کو اتنا متاثر کیا کہ اس نے اس دن کا سبق چھوڑ کر پینٹنگ کو اپنے لیکچر کا موضوع بنایا؟ مجھے اپنے قدم امی کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ”آرٹسٹ اس پینٹنگ میں کیا کہنا چاہتا ہے؟“ کیا کہنا چاہتا تھا؟ آرٹسٹ فقط ایک نظم کو مصور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
لیکن اس کوشش کا نتیجہ اوسط درجے کی پینٹنگ کی صورت میں نکلا۔ وہ پرزے ہونے سے بال بال بچ گئی۔ آرٹسٹ نے خود اس کی جانچ پڑتال کی تھی۔ لیکن کیا ایک فن پارے کے لیے صرف اس کے تخلیق کرنے والے کی نگاہ وقعت رکھتی تھی؟ وہ پروفیسر خود بھی تو ایک ممتحن تھا۔ کیا اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی؟ اور پھر وہ سارے طلبا! کیا معلوم انہوں نے پینٹنگ سے کیا کیا معنی اخذ کیے ہوں گے۔ ممکن ہے کوئی ”ریورس انجینئرنگ“ کر کے اس کے اصل ماخذ تک پہنچ گیا ہو۔ یعنی وہ نظم۔ یقیناً ان سب باتوں کی اپنی قدر و قیمت تھی۔
اب میں امی کی الماری تک پہنچ چکا تھا۔ میں نے الماری سے اپنی آرٹ البم نکالی اور اس اوسط درجے کی پینٹنگ کو باقی شاہکاروں کے بیچ رکھ دیا۔


