امریکہ کو بوجھ محسوس ہوتا یورپ


معاملہ اگر امریکہ کے ”قومی سلامتی امور“ تک ہی محدود ہوتا تو یہ کالم لکھنے کی مجھے ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ امریکی نائب صدر کی ایک ایسے گروپ میں (اب برسرِعام) ہوئی گفتگو جس کے شرکاء میں امریکہ ہی کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے چیف اور دفاعی اور سلامتی امور کے دیگر اعلیٰ ترین عہدے دار بھی شامل تھے درحقیقت دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتے ملک کے حتمی فیصلہ سازوں کی حقیقی سوچ کا اظہار ہے۔ مذکورہ سوچ کے مطابق امریکہ اب یورپ کو اپنا ”اتحادی“ نہیں بلکہ ”بوجھ“ محسوس کرنا شروع ہو گیا ہے۔ یورپ کے بارے میں یہ سوچ بھی شاید مجھے پریشان نہ کرتی۔ پاکستان جیسے ملکوں کو مذکورہ گفتگو کی بدولت بالآخر جان لینا چاہیے کہ امریکہ کسی کا بھی ”یار“ نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اگر سوویت یونین کو ”افغان جہاد“ کی بدولت تاریخ کے کوڑے دان میں دھکیلا تو ٹرمپ اور اس کے ساتھ اقتدار میں آئے لوگ اس کے بارے میں احسان مند محسوس نہیں کرتے۔ امریکہ میں مقیم عاشقانِ عمران کو بھی یہ توقع بھلا دینا چاہیے کہ ان کے محبوب رہ نما کو وائٹ ہاؤس کے ”گھریلو حصہ“ کی سیر کروانے والا ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کا صدر بن کر عمران خان کو جیل سے رہا کروانا چاہے گا۔ مزید لکھنے سے قبل مگر مجھے وہ کہانی بیان کرنا ہوگی جو یہ کالم لکھنے کا سبب ہوئی۔

واٹس ایپ جیسی ایک اور ایپ بھی ہے۔ نام ہے اس کا ”سگنل“ ۔ اسے ایجاد کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ اس ایپ کو اپنے فون پر نصب کر لیں تو اس کے ذریعے ہوئی گفتگو دنیا کی کوئی انٹیلی جنس ایجنسی بھی سن نہیں سکتی۔ مذکورہ ایپ کے تخلیق کاروں کے دعویٰ کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ منگل کی شام امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے سی آئی اے کے ٹرمپ کی جانب سے لگائے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ اسے دفتری امور کے لئے جو دفتر و سامان ملا ہے اس میں ”سگنل“ نامی ایپ استعمال کرنے والے آلات بھی شامل ہیں۔ ”سگنل“ کو گویا سی آئی اے بھی ”محفوظ“ سمجھتی ہے۔

بہرحال ٹرمپ کے لگائے مشیر برائے قومی سلامتی امور نے مذکورہ ایپ پر ”آپس کی گفتگو“ کے لئے ایک گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ مذکورہ گروپ نے فیصلہ یہ کرنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکہ فضائی حملے کرے یا نہیں۔ اگر کرنا ہیں تو یہ فضائی حملے کن محفوظ ٹھکانوں پر کس روز کیے جائیں۔ حوثی، یاد رہے کہ ان دنوں یمن پر قابض ہیں۔ ان کے قبضے کو مگر سوائے ایران کے دنیا کا کوئی اور ملک تسلیم نہیں کرتا۔ ”حوثیوں“ کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے یمن میں غربت و قحط سالی اپنے عروج پر ہے۔ وہ مگر یمن کی دفاعی اہمیت کو کمتر نہیں بنا سکے۔ آبنائے ہرمز کے تقریباً سر پر واقع یمن سے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو میزائل پھینک کر تباہ کر دیا جائے تو سمندری تجارت میں قیامت خیز تعطل آ سکتا ہے۔ اس تعطل سے فقط پاکستان اور بھارت جیسے ممالک ہی اپنی درآمدات و برآمدات سے کئی دنوں تک محروم نہیں رہیں گے۔ یورپ کے بے تحاشا ممالک بھی ایسے ہی عذاب سے دو چار ہوجائیں گے۔ جو قیامت برپا ہو سکتی ہے اس کے امکانات کو حوثی حکمران وقتاً فوقتاً سمندر میں چلتے جہازوں پر میزائل پھینکتے ہوئے عیاں کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے نہتے شہریوں کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنانا شروع کیا تو حوثیوں نے یورپ جانے والے جہازوں پر تواتر سے میزائل پھینکنا شروع کر دئے۔ اسرائیل حوثیوں کی ”دیدہ دلیری“ کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا رہا۔ کئی بار اس کا وزیر اعظم حوثیوں ہی کو نہیں بلکہ ایران کو بھی سبق سکھانے کی بڑھک لگا چکا ہے۔

ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد فیصلہ کیا کہ بحیرہ احمر سے یورپ کے ساتھ تجارت کو ”محفوظ“ بنانے کے لئے امریکہ آگے بڑھے اور حوثیوں کے ان ٹھکانوں کا پتہ لگا کر تباہ کردے جہاں سے بحری جہازوں پر میزائل پھینکے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اس نے اپنے مشیر برائے قومی سلامتی کو حکم دیا کہ وہ اس کی سوچ پر عمل درآمد کے لئے متعلقہ اداروں سے رجوع کرے۔ مائیکل والٹز اس مشیر کا نام ہے۔ اس نے مذکورہ موضوع کے لئے ”حساس اداروں“ کے اعلیٰ ترین سطح پر فائز لوگوں کے مابین یمن کے خلاف کارروائی کو زیر بحث لانے کے لئے ”سگنل“ نامی ایپ پر جو گروپ تشکیل دیا اس میں ایک صحافی کو بھی شامل کر لیا۔ جس صحافی کا نام اس گروپ میں نظر بظاہر ”غلطی“ سے ڈالا گیا ہے اس کا نام ہے جیفری گولڈ برگ۔ وہ امریکہ کے مشہور ماہنامے ”انٹلانٹک“ کا ایڈیٹر ہے۔ یہ رسالہ ٹرمپ کا شدید نقاد بھی ہے۔

ابتداً جیفری نے یہ فرض کر لیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اسے ”گمراہ“ کرنے کے لئے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کا روپ دھار کر ایک ایسے گروپ میں شامل کر لیا ہے جس کا مقصد یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں کا فیصلہ ہی نہیں بلکہ اس کی تفصیلات بھی طے کرنا ہیں۔ مارچ کے وسط میں لیکن یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے فضائی حملوں کے بعد احساس ہوا کہ اسے جس گروپ میں شامل کیا گیا تھا وہ جعلی نہیں بلکہ امریکہ کے حساس ترین اداروں کے سربراہان پر مشتمل تھا۔ ان کے مابین یمن پر فضائی حملوں سے قبل جو بحث ہوئی وہ بھی گولڈ برگ کے پاس موجود ہے۔ اس کے چند ”نمونے“ اس نے سوشل میڈیا پر بھی دکھا دیے ہیں۔

جو ”ٹوٹے“ گولڈ برگ دنیا کے سامنے لایا ہے ان کی بدولت امریکہ کا نائب صدر بارہا یہ سوال اٹھاتا رہا کہ امریکہ یمن کے حوثیوں پر حملے کیوں کرے۔ اس کی دانست میں مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں پر امریکی تجارت کا فقط 4 فی صد تک انحصار ہے۔ یورپ کی 40 فی صد تجارت البتہ ان راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اپنی تجارت کی حفاظت لہٰذا یورپ کے ممالک اپنے طور پر کریں۔ امریکہ ان کی آسانی کے لئے اپنی فوج اور اسلحہ کیوں استعمال کرے۔ اس نے یہ سوال اٹھائے تو نہایت حقارت سے یہ اطلاع دی گئی کہ یورپی ممالک کی بحری افواج اپنی تجارت محفوظ بنانے کے قابل نہیں ہیں۔ اپنے ”نیٹو“ اتحادیوں کی آسانی کے لئے امریکہ ہی کو فوجی قوت استعمال کرنا ہوگی۔

امریکی نائب صدر۔ جے ڈی وینس۔ نے برسرعام ہوئی گفتگو کے دوران یورپ کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ انتہائی ہتک آمیز ہیں۔ یورپ کے جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں میں یہ قومی جذبات بھڑکائیں گے۔ فرانس پہلے ہی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اپنی زبان و تہذیب پر بہت نازاں محسوس کرتا ہے۔ جرمنی نے دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں سے شکست کھانے کے بعد اپنے ملک کے دفاعی بجٹ کو محدود رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے ایٹم بم کے حصول سے بھی گریز کیا اور خود کو امریکہ کی دفاعی چھتری تلے محفوظ محسوس کرنا شروع کر دیا۔ امریکی نائب صدر کی عیاں ہوئی گفتگو مگر جرمنی کو اب بہت کچھ سوچنے کو مجبور کر رہی ہے۔

Facebook Comments HS