کیا آپ کو چائنیز کھانے پسند ہیں؟ اگر ہیں تو پیکنگ ڈک کھائی ہے کبھی؟
پاکستان سے چین پہنچے 20 دن گزر گئے تھے، کھانے کے اوقات میں انواع و اقسام کے چینی کھانے یعنی چائنیز ڈشز سے ضیافت کا اہتمام ہوتا ہے، میں یہاں پکوان کی شکل کے علاوہ خوشبو اور ڈش کو دیکھ کر اپنے لئے کچھ چنتا ہوں، کیونکہ ہمارا ذائقہ اور یہاں کے کھانوں کے ذائقوں میں 180 ڈگری کا فرق ہے۔ چکن، بیف، مٹن سب میسر ہے مگر الگ ذائقے کے ساتھ، جو سب سے پہلی چیز یہاں پسند آئی وہ تھی ”سجی“ آپ کو حیرانی ہوئی یہاں بھی سجی کا سن کر؟ مزید حیرانی کی بات یہ ہے یہاں کی سجی مرغ کی نہیں ”بطخ“ کی تھی۔ اور چین میں بطخ شاہی پکوان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اگر آپ چائنیز کھانے کے شوقین ہیں تو آپ بھی ٹرائی کر سکتے ہیں۔
آپ کو آج چین میں پکنے والی بطخ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ کب اور کیسے شروع ہوئی اور کیسے بنائی جاتی ہے؟
چینی کھانوں کی دنیا میں ایک ایسا پکوان ہے جو نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں اپنی شہرت رکھتا ہے۔ یہ پکوان ہے ”پیکنگ ڈک“ جو کہ اب ”بیجنگ ڈک“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نہ صرف ایک کھانا ہے بلکہ چینی ثقافت، تاریخ اور کھانے کے فن کا ایک اہم حصہ ہے۔
پیکنگ ڈک کی تاریخ
بیجنگ ڈک چین میں ایک روایتی گوشت ہے، اور یہ پکوان اصل میں تانگ خاندان ( 618۔ 907 ) میں ’شاؤ یازی‘ (جس کا مطلب ہے ’روسٹ ڈک‘ ) کہلاتا تھا۔ ایک تازہ بطخ کو لکڑی یا کوئلے کی آگ پر بھونا جاتا تھا۔ اس بنیاد پر بعد کی نسلوں نے پکانے کے طریقہ کار کو مسلسل بہتر بنایا۔
اس کے پکانے کے طریقہ کار کا ذکر 1330 میں ’کمپلیٹ ریسیپیز فار ڈشز اینڈ بیوریجز‘ نامی کتاب میں ہوا، جسے ہو سہوئی نے لکھا تھا، جو شاہی باورچی خانے کے انسپکٹر تھے۔ یہ اس وقت (یوان خاندان) شاہی دربار کے مینو میں شامل اہم پکوانوں میں سے ایک تھا۔
1368 میں، مِنگ خاندان کی بنیاد رکھی گئی، اور دارالحکومت نانجنگ میں دوبارہ قائم کیا گیا۔ شاہی باورچیوں نے بطخ کو کوئلے کی آگ پر لٹکا کر پکایا، جس سے وہ کراری اور خوشبودار ہو گئی، اور چربیلی ہونے کے باوجود غیر چکناہٹ والی تھی۔ شہنشاہ کو یہ پکوان بہت پسند آیا، اور اس طرح شاہی دربار نے اسے رسمی طور پر ’روسٹ ڈک‘ (کاؤ یا) کا نام دیا۔
مِنگ خاندان کے تیسرے شہنشاہ، یونگلے شہنشاہ ( 1402۔ 1424 ) کے دور میں، انہوں نے دارالحکومت کو نانجنگ سے بیجنگ منتقل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح روسٹ ڈک کی ترکیب بھی بیجنگ پہنچ گئی۔ اس کے بعد روسٹ ڈک کی مقبولیت آہستہ آہستہ عام شہریوں میں پھیل گئی۔ بیجنگ میں اس کی مقبولیت کی وجہ سے، یہ پکوان عام طور پر ’بیجنگ روسٹ ڈک‘ کے نام سے مشہور ہو گیا۔
1416 میں، بیجنگ میں روسٹ ڈک میں مہارت رکھنے والا پہلا مشہور ریستوران کھولا گیا، جس کا نام ’بیانیفانگ‘ تھا۔ وہاں وہ بطخ کو بند تنور میں پکاتے تھے، جس کی دیواروں کو پہلے جوار کے تنوں سے گرم کیا جاتا تھا تاکہ بطخ کراری ہو جائے۔
1864 میں، ایک اور مشہور ڈک ریستوران کھولا گیا، جس کا نام ’چوانجودے‘ تھا۔ وہاں وہ پکانے کا ایک مختلف طریقہ استعمال کرتے تھے : بطخ کو کھلی اینٹوں کے تنور میں شعلوں پر لٹکا کر پکایا جاتا تھا۔ ان دونوں ریستورانوں کے ورژن آج بھی موجود ہیں، اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ بیجنگ کے دورے کے دوران آپ ان میں سے کم از کم ایک کو ضرور آزمائیں۔
20 ویں صدی کے وسط تک، بیجنگ ڈک چین کے لیے ایک قومی علامت بن چکی تھی، اور غیر ملکی رہنماؤں کے استقبال کے وقت پیش کیے جانے والے پکوانوں میں سرفہرست تھی۔
بیجنگ ڈک کی تیاری کا طریقہ کار
بیجنگ ڈک کی شہرت کا ایک اہم سبب اس کی تیاری کا منفرد طریقہ کار ہے۔ بیجنگ ڈک کی تیاری کے لیے ایک خاص قسم کی بطخ کا انتخاب کیا جاتا ہے، جسے ”پیکنگ بطخ“ کہا جاتا ہے۔ یہ بطخ عام بطخوں سے قدرے بڑی ہوتی ہے اور اس کی کھال موٹی ہوتی ہے، جو پکانے کے بعد کرسپی ہو جاتی ہے، جبکہ اندر کا گوشت نرم اور رسیلا رہتا ہے۔ بیجنگ ڈک کی تیاری کا طریقہ کار بہت ہی پیچیدہ اور محنت طلب ہے۔ یہ عمل کئی مراحل پر مشتمل ہے، جن میں بطخ کو صاف کرنا، مصالحے لگانا، اور پکانا شامل ہے۔
بطخ کو صاف کرنے کے لیے اسے اچھی طرح دھویا جاتا ہے اور اس کے اندرونی حصوں کو نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بطخ کو ہوا میں لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ اس کی جلد خشک ہو سکے۔ بطخ کو صاف کرنے کے بعد اس پر مختلف مصالحے لگائے جاتے ہیں۔ ان مصالحوں میں سویا ساس، شہد، سرکہ، اور مختلف جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں۔ یہ مصالحے بطخ کے ذائقے کو بڑھاتے ہیں اور اس کی جلد کو کرسپی بناتے ہیں۔ اس کے بعد بطخ کو پکانے کے لیے ایک خاص تندور کا استعمال کیا جاتا ہے، جسے ”ہوا والا تندور“ کہا جاتا ہے۔ اس تندور میں بطخ کو لٹکا کر پکایا جاتا ہے۔ تندور کی گرم ہوا بطخ کے گرد گھومتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی جلد کرسپی ہو جاتی ہے اور اندر کا گوشت نرم اور رسیلا رہتا ہے۔
بیجنگ ڈک کو عام طور پر پتلے پتلے سلائسز میں کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہلکے پتلے پراٹھے، سبزیاں، اور ایک خاص قسم کی چٹنی دی جاتی ہے، جسے ”ہوائسن ساس“ کہا جاتا ہے۔ پراٹھے پر چٹنی لگا کر اس پر بطخ کے سلائسز رکھے جاتے ہیں اور اسے رول کی شکل میں لپیٹ کر کھایا جاتا ہے۔
بیجنگ ڈک کی ثقافتی اہمیت
بیجنگ ڈک نہ صرف ایک پکوان ہے بلکہ یہ چینی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پکوان چین کی شاہی تاریخ، کھانے کے فن، اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ بیجنگ ڈک کو چین کے قومی پکوان کے طور پر بھی جانا جاتا ہے بیجنگ ڈک کی شہرت کا ایک اہم سبب اس کی تیاری کا منفرد طریقہ کار ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ آج بھی بیجنگ میں کئی ریستوران ہیں جو صدیوں پرانے طریقوں سے بیجنگ ڈک تیار کرتے ہیں اور اسے اپنے مہمانوں کو پیش کرتے ہیں۔
بیجنگ ڈک کو 1970 کی دہائی میں وزیر اعظم ژو این لائی (عوامی جمہوریہ چین کے پہلے وزیر اعظم) کی جانب سے غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کے لیے قومی پکوانوں میں سے ایک کے طور پر مقرر کیا تھا۔ اس پکوان کی ریاستی سربراہان، حکومتی اہلکاروں، اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی طرف سے بہت زیادہ تعریف کی جاتی ہے۔
بیجنگ ڈک کی شہرت صرف چین تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا بھر کے بڑے شہروں میں بیجنگ ڈک کے ریستوران موجود ہیں، جہاں لوگ اس منفرد پکوان کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بیجنگ ڈک کی عالمی مقبولیت کا ایک اہم سبب اس کا منفرد ذائقہ اور تیاری کا طریقہ کار ہے، جو اسے دیگر کھانوں سے ممتاز کرتا ہے۔
چینی عوام کے مطابق پیکنگ ڈک نہ صرف لذیذ ہے بلکہ اس میں غذائی افادیت بھی موجود ہے۔ بطخ کا گوشت پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے، جبکہ اس میں موجود وٹامنز اور منرلز صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ تاہم، اسے اعتدال میں کھانا چاہیے، کیونکہ اس میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ پیکنگ ڈک کو خاص موقعوں پر پیش کیا جاتا ہے، جیسے شادیوں، تہواروں اور دیگر تقریبات میں۔ یہ کھانا چینی لوگوں کے لیے نہ صرف ایک کھانا ہے، بلکہ ان کی شناخت اور فخر کا بھی اظہار ہے۔
پیکنگ ڈک سے بیجنگ ڈک تک کا سفر چینی تاریخ، ثقافت، اور کھانے کے فن کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پکوان نہ صرف ایک کھانا ہے بلکہ چینی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ بیجنگ ڈک کی تیاری کا منفرد طریقہ کار، اس کا ذائقہ، اور اس کی ثقافتی اہمیت اسے دنیا بھر میں مشہور بناتی ہے۔ اگر آپ چین جائیں، تو بیجنگ ڈک کھانا نہ بھولیں، کیونکہ یہ نہ صرف ایک پکوان ہے بلکہ چینی ثقافت کا ایک ذائقہ دار تجربہ ہے۔
پاکستانی قارئین کو سادہ الفاظ میں سمجھائیں تو یہ ہماری سجی جیسا ہے، لیکن دیگر لوازمات اور بنانے کی ترکیب قدرے مختلف اور ذائقہ بھی الگ نظر آتا ہے۔



