لاعلمی کا تکبر: مجھے سب پتا ہے
ویسے تو ہمارے اندر بہت سی تہذیبی برائیاں ہیں لیکن وہ برائی جسے بہت معمولی سمجھا جاتا ہے وہ ہے، ”میں سب جانتا ہوں“ یا ”مجھے سب معلوم ہے“ کا رویہ۔
مجھے بہت حیرانی ہوتی ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے سامنے جسم کی کسی تکلیف کا ذکر کر دیا جائے تو وہ بلا تاخیر معالج بن کر چند نسخے تجویز کر دیتا ہے۔ قوموں کے باہمی تعلقات کی بات ہو تو وہ خارجہ پالیسی میکر بن جاتا ہے۔ کوئی مذہبی مسئلہ ہو تو وہ بغیر کسی باقاعدہ، باضابطہ تعلیم کے دینی عالم بن جاتا ہے، فتوے پہ فتویٰ صادر کرتا ہے اور ذرا خوف نہیں کھاتا۔ معیشت کی بات ہو تو وہ بتاتا ہے در اصل غلطیاں کہاں کہاں ہو رہی ہیں، اس موضوع پر تو ایک چائے خانہ بھی کسی تھنک ٹینک سے کم درجہ قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ کرکٹ سیزن ہو تو وہ کرکٹ اینالسٹ بھی بنا ہوتا ہے۔ معاشرے میں جرائم کی شرح زیادہ ہو رہی ہو تو بھی وجہ اسے معلوم ہوتی ہے۔ الغرض ہر چیز میں اس نے اپنا علم جھاڑنا ہے، وہ کسی جگہ زبان کو رکنے اور دماغ کو چلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسے سب پتا ہے۔ وہ یہ مان ہی نہیں سکتا کہ مجھے اس کا علم نہیں، کسی ماہر سے مشورہ یا استفسار کریں۔
کیا نا جاننے کا احساس اور اعتراف کوئی بہت مشکل کام ہے؟
آخر ہمیں ہر معاملے میں رائے زنی کی عادت کیوں ہے؟ ہمیں کیوں لگتا ہے کہ ہماری رائے کسی بھی ماہر سے زیادہ معتبر، اہم اور مؤقر ہے؟
Dunning۔ Kruger Effect نامی نفسیاتی عارضے کے متعلق سنا ہے کبھی؟ (یہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس میں کم علم افراد اپنے علم کو زیادہ سمجھتے ہیں جب کہ حقیقی علم والے اپنے علم کی حدود اور کمزوری سے آگاہ ہوتے ہیں ) ہمارے معاشرے میں بھاری اکثریت کو یہی بیماری ہے، جتنی کم علمی اتنا ہی شور۔
ہمارے ہاں شادی بیاہ سے لے کر چاند پر جانے اور سول ہسپتال سے لے کر اقوام متحدہ تک ہر معاملے میں ہر فرد خاص ماہر ہوتا ہے۔ کیا نجی محفلیں، بیٹھکیں اور کیا سوشل میڈیا، ہر ایک نے اپنا میوزیم کھول رکھا ہے اور دانائی تقسیم ہو رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس نے اپنی زبان پر قابو پایا، وہ نجات پا گیا۔“ بھلا ہماری کیا مجبوری ہے کہ ہم نے ہر موقع پر اپنے نکتے پیش کرنے ہیں؟ ہمیں ہر معاملے میں علم جھاڑنے کا شوق کیوں ہے؟
کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کسی بھی شعبے کے معاملات اس شعبے کے ٹیکنوکریٹس کے لیے چھوڑ دیں اور خود اپنا کام کریں؟ اپنی ذاتی زندگی، اپنی جاب، اپنے رشتوں اور معاملات پر دھیان دیں؟ ہم جس بھی شعبے سے وابستہ ہوں گے یقیناً ہمارے لیے اس کے اندر کئی پہلو ہم سے مزید تحقیق اور مہارت کا تقاضا کرتے ہوں گے۔ یہ اچھا نہیں کہ ہم اپنے شعبے میں ایسی شخصیت بنیں جسے ایک اکیڈمی یا ایک سکول آف تھاٹ کی حیثیت حاصل ہو بجائے یہ کہ ہم دوسروں کے شعبوں میں بے حاصل قسم کا دھیان دیں؟
جب آپ کے سامنے کوئی بات بیان ہو تو صرف سامع بنیں۔ ناصح اس وقت بنیں جب کہنے والا نصیحت چاہے، جب کہ مشورہ تو بغیر مانگے دینا ہی نہیں۔ اور سب سے اہم، جن چیزوں کا آپ کو مکمل یا اچھا خاصا علم نہیں ہے ان سے اپنا ہاتھ اٹھا دیا کریں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کمنٹری کریں۔ اکثر اوقات محض سامع بننا ہی کافی ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم الفاظ کو روک کر ذہن کو آگے بڑھائیں۔
آخر ہم نے کب سیکھنا ہے کہ علم دکھانے سے زیادہ سننے اور سیکھنے میں ہے؟ اور یہ کہ کسی معاملے میں رائے نہ دینا ہی دانش مندی ہے۔ ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اصل میں حقائق نہیں جانتے، محض جاننے کا اظہار اور دعوٰی کرنے کی بیماری کا شکار ہیں۔
علم ایک سمندر ہے اور ہم اس کے کنارے کھڑے محض قطرے سمیٹ رہے ہیں یا پلّو بھگو رہے ہیں۔ اگر ہم ہر معاملے میں ماہر بننے کی بے چینی کو سچائی سے بدل دیں تو شاید ہمیں کچھ علم حاصل ہو جائے۔
آپ اپنی عمر کے جس حصے میں ہیں اگر آپ نے یہ جملہ نہیں سیکھا تو اب سیکھ لیں ”مجھے اس کا علم نہیں، کسی ماہر سے معلوم کرتے ہیں“ ۔



شاندار ۔۔۔۔شکریہ