سائبر ورلڈ اور آپ کے جگر گوشے


تصور کریں کہ آپ کا گھر شہر کے ایک محفوظ ترین علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے داخلی و خارجی دروازوں پر مستعد بیدار مغز پہرے دار تعینات ہیں۔ آپ نے گھر میں سیکورٹی الارم اور گھر سے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر رکھے ہیں۔ ایسے محفوظ علاقے میں واقع محفوظ گھر میں جب آپ اپنے بچے کی حفاظت کے متعلق سوچتے ہیں، جو اس وقت اپنے کمرے میں موجود ہے، تو آپ اطمینان و سکون سے بھرپور سانس بھرتے ہیں کہ میرا بچہ محفوظ ہے۔ لیکن ذرا ٹھہریں! کیا اس وقت بند کمرے میں آپ کے بچے کی تحویل میں کمپیوٹر یا اینڈرائیڈ موبائل فون ہے؟ اگر ہے، تو پھر پہرے داری سی سی ٹی وی کیمروں اور سیکورٹی الارموں کو ہوا میں تحلیل سمجھیں، کیونکہ آپ خود اپنے بچے کی انگلی پکڑ کر سائبر ورلڈ کی اسی دنیا میں تنہا چھوڑ آئے ہیں جو ایمازون کے گہرے گھنے جنگلوں سے کہیں زیادہ پرخطر ہے۔

آپ کا بچہ اب ایسی دنیا میں ہے جہاں چپے چپے پر راہزن گھات لگا کر بیٹھے ہیں کہ کب بچہ یہاں سے گزرے اور وہ آپ کی اچھی تربیت و پرورش کو بجے کے ذہن سے نوچ کھائیں۔ یہاں قدم قدم پر خوفناک پھندے منتظر ہیں۔ جب شکار دام میں پھنس جاتا ہے، تب کونوں کھدروں سے سائبراتی حشرات نکلتے ہیں جو پھندے میں جھولتے شکار کی شخصیت کو ازسر نو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حشرات السائبر کا سب سے آسان پسندیدہ اور مزے دار شکار ٹین ایج لڑکے اور لڑکیاں ہوتے ہیں۔

جب سوشل میڈیا کمپنیوں کے پھندے اور جنسی مواد کے خرابے بچے پر اپنا رنگ جمانا شروع کرتے ہیں، تو والدین ایک دوسرے کی طرف حیرانی سے دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ پتہ نہیں اسے (بچے کو ) کیا ہو گیا ہے؟ پہلے تو یہ اس طرح نہیں کرتا تھا۔ دراصل جب والدین بچوں کو انٹرنیٹ، کمپیوٹر، اور موبائل تک مکمل رسائی دے دیتے ہیں اور پھر پلٹ کر ان کی طرف نہیں دیکھتے، تو گویا وہ پرنٹنگ کے فرض سے الگ ہو جاتے ہیں۔ پھر بند کمروں میں بچے کی پرورش سوشل میڈیا کمپنیاں کرنے لگتی ہیں، جن کا اول و آخری مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے۔ والدین بچوں سے دور ہوتے جاتے ہیں، اور یہ کمپنیاں قریب تر ہو جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیاں الگورتھم اور پرسنالٹی ماڈل سسٹم کے ذریعے بچے کی نفسیات کو سمجھ کر پھر اسی کو بچے کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ اس کی پسند ناپسند، اس کی دوستیاں دشمنیاں کمزوریاں، جذبات و احساسات، خواہشات سب کمپنیوں کے سپرد ہو جاتا ہے، اور پھر اس ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف دلکش و دیدہ زیب تکنیکوں کی مدد سے بچے کو غیر محسوس (تحت الشعور کی سطح پر ) کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس سارے کھیل کو رچانے کا مقصد صارف کی توجہ (attention) کو قابو کرنا ہوتا ہے، پھر کمپنیاں صارف کی توجہ کو سرمائے (capital) میں بدل دیتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ ان کمپنیوں کے پاس صارف کی شخصیت کا خاکہ (عادات، خصوصیات، پسند ناپسند، کمزوریاں، احساس کمتریاں، خواہشیں، احساس و جذبات وغیرہ) محفوظ ہوتا ہے، اور پھر اس ڈیٹا کو سوشل میڈیا کمپنیاں مختلف مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو بیچ کر بے پناہ پیسہ کماتی ہیں۔ یوں آپ کا بچہ اپنے محفوظ بند کمرے میں بیٹھے وسیع سائبر مارکیٹ کی ایک پروڈکٹ بن جاتا ہے۔

والدین لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ مارکیٹ کے کس کس دھڑے پر بک رہا ہے۔ اس کی محرومیوں سے بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہوتا ہے، اس کی کمزوریوں، نا آسودہ خواہشوں، اور حسرتوں کو ڈالر میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ غرض آپ کے بچے کی نفسیات سر بازار بکتی ہے، اور ناشتے کی ٹیبل پر آپ اپنے بچے کی طرف فخریہ انداز میں دیکھ کر دل میں خود اپنے آپ کو داد دیتے ہیں کہ ہم نے کمال سمجھداری سے بچے کو جدید زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہوا ہے۔

بچہ سائبر ورلڈ میں کس نوعیت کے ذہنی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ کن جذبات کی چنگاریاں اب ابلتے ہوئے آتش فشاؤں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کون سے comments، مناظر، اور دوستیاں وغیرہ بچے میں تغیر پیدا کر رہی ہیں۔ والدین بچے کی اس مخفی دنیا سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اس مخفی دنیا میں بچے میں چاہے جانے کی تڑپ شدت اختیار کر جاتی ہے۔ وہ like کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے، مثبت comment اور اچھی رائے کے لیے بھکاری بن جاتا ہے، وہ thumbups کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ یہ الگورتھم اور کوڈ پر چلنے والی جعلی دنیا اس کے لیے حقیقی بن جاتی ہے، اور حقیقی دنیا گم گشتہ جزیرہ بن جاتی ہے۔ اس دلدل میں دھنستے ہیں تو دھنستے چلے جاتے ہیں۔ چاہے جانے کی تڑپ خبط بن جاتی ہے، اور جب dislike یا منفی رائے یا پھر cyber bully (سوشل میڈیا پر ہونے والی تعذیب و تذلیل و تمسخر و بے عزتی) کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو بچے ذہنی تناؤ، خوف، احساس کمتری، اور گہری اداسی جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں خودکشی کا رجحان بڑھ جاتا ہے، یا پھر جارحیت کی صورت میں یہ ردعمل دیتے ہیں۔

سائبر ورلڈ سے جو ذہنی تناؤ، دباؤ، خوف، انجان اندیشے، بے بسی، بے چارگی، تعذیب و تذلیل وغیرہ بچہ سمیٹتا ہے، ان خرابوں کا اثر وہ حقیقی دنیا میں دکھاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ناٹک بچے کا ذوق بگاڑ دیتے ہیں۔ اس کی توجہ کی صلاحیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ اس کی فہم و سمجھ و عقل کو کیڑا لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے جذبات منہ زور بے قابو سر پٹ پاگل گھوڑے کی مانند ہو جاتے ہیں۔ وہ اسی دنیا میں سوتا ہے، اسی دنیا میں جاگتا ہے، اسی دنیا کے مزار کا دیا بن کر رہ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور فحش مواد مہلک ترین نشہ ہے۔ یہ آپ کی آنکھوں اور کانوں سے گزر کر آپ کی سمجھ بوجھ، فہم و فراست کے تار پود ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ دنیا بے شک سکرین کی دنیا ہے، لیکن یہ حقیقی دنیا کو تہہ و بالا کرنے کا مادہ رکھتی ہے، اور اسی دنیا میں جہاں قدم قدم پر ایٹم بم بچھے ہیں۔

والدین اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ آتے ہیں۔ اس فرضی دنیا میں قبولیت و چاہت کا جنون بچے کو زندگی کی حقیقتوں سے دور لے جاتا ہے۔ وہ غیر منطقی توقعات اور لغو سرگرمیوں میں محو ہو کر جب حقیقی دنیا میں واپس لوٹتا ہے، تو گویا اس کا نیا جنم ہوتا ہے۔ یہ کایا کلپ والدین کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ طویل رت جگوں میں ان کی اولاد کن کثیف و غلیظ پانیوں سے غسل کر کے نکلی ہے۔ والدین لاعلم رہتے ہیں۔ سائبر ورلڈ کی تاروں سے خود پرستی شدت پسندی، نفرت و تعصب کا کتنا زہر بچے میں سرایت کر گیا ہے، والدین بے خبر رہتے ہیں۔ جس دنیا کے دروازے آپ نے بچے پر خوشی خوشی کھولے ہیں، یہ دنیا سفاک و بے رحم ہے۔ یہ دنیا بچے کی معصومیت کو چھین کر اسے rape fantasy میں غرق کر سکتی ہے۔ یہ دنیا اسے قاتل اور ڈرگ کا عادی بنا سکتی ہے۔ اس دنیا کا چسکا اسے ڈپریشن اور انگزائٹی کا مریض بنا سکتا ہے۔ غرض یہ ممکن ہے کہ حقیقی زندگی سے بھرپور بچہ سائبر ورلڈ میں اٹک کر حقیقی دنیا کے لیے بیکار و خطرناک وجود بن جائے۔

نو بالغ صارف جو کرنسی فرضی دنیا کے خرابوں سے جمع کرتا ہے، وہ حقیقی دنیا میں لا کر خرچ کر دیتا ہے۔ انٹرنیٹ پر cyberbullying اور cyberfighting کے نتائج حقیقی دنیا میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ غلط دوستیوں کے غلط نتائج کے چاند اصل دنیا میں چڑھتے ہیں۔ سائبر ورلڈ کا کچرا جب گھروں پر آ گرتا ہے، تب والدین کی آنکھیں کھلتی ہیں (بشرط اگر وہ گہری نظر سے بچے میں برپا تغیرات کے عوامل پر غور کریں ) ۔

ٹین ایج لڑکے لڑکیوں کے ہاتھوں میں سمارٹ فون تھمانے کا یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ سے تعلیم کے حصول میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے، اور بچے ان جدید ڈیوائسز کے ذریعے نئی نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنے بچوں کو سمارٹ فون وغیرہ استعمال کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہ بھونڈا فضول جواز خود فریبی کی اعلیٰ مثال ہے۔ اگر واقعتاً تعلیم میں آسانی مقصود ہے، تو والدین اپنا موبائل یا لیپ ٹاپ کچھ دیر کے لیے دے سکتے ہیں۔ بچے سارا دن تو تعلیم حاصل نہیں کرتے۔

اگر بچے نے دور مارکیٹ سے کچھ خریدنا ہے، اور آپ صاحب کار ہیں، تو آپ بچے کے ہاتھ میں کار کی چابی نہیں پکڑا دیں گے کہ جا بیٹا، وہ جو اتنی دور مارکیٹ ہے، وہاں خود گاڑی چلا کر پہنچ جا (کچھ خبطی والدین چابی دے بھی دیتے ہیں ) ۔ آپ بچے کو خود مارکیٹ لے کر جاتے ہیں۔ اسی طرح سائبر ورلڈ میں بھی بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ جائیں۔ اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں سمارٹ موبائل فون دے کر انہیں بند کمروں کے پیچھے نہ دھکیلیں۔ اپنی ناک کے لیے اپنی ناک مت کٹوائیں کہ فلاں فلاں کے بچوں کے پاس بھی تو اپنا ذاتی موبائل فون ہے۔ فلاں فلاں کا بچہ آپ کی ذمے داری نہیں ہے، آپ کا بچہ آپ کی ذمے داری ہے۔

اب پھر تصور کریں کہ شہر کے عام سے علاقے میں، جہاں حفاظت کے لیے کوئی پہرے دار نہیں پھرتے، جہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے ہوئے، وہاں کے ایک چھوٹے سے گھر میں مقیم بچے کے پاس اپنا کوئی ذاتی موبائل نہیں ہے، نہ کوئی ذاتی لیپ ٹاپ ہے۔ اس گھر میں موبائل بینی سے زیادہ کتاب بینی کا رواج ہے۔ یہاں چہرے موبائلوں کی سکرینوں میں نہیں دھنسے ہوتے، بلکہ یہاں گفتگو کے دور چلتے ہیں۔ یہاں سکرین کے بدلتے رنگوں سے زیادہ اپنوں کے چہروں کے تاثرات کی اہمیت ہے۔ یہاں والدین بچے کے دوست ہیں۔ یہاں بچہ محفوظ ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “سائبر ورلڈ اور آپ کے جگر گوشے

  • 29/03/2025 at 12:28 شام
    Permalink

    GREAT

Comments are closed.