نئی کہانی ”گلا کاٹ ڈالو“


پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے چلنے والی ایک طویل دورانیہ کی ڈرامہ سیریل جو مختلف ناموں مثلاً مذہبی عدم رواداری، نفرت کی آبیاری، جلاؤ گھیراؤ اور مار ڈالو جیسے ناموں سے جانی جاتی تھی، کی فہرست میں چند روز قبل ایک اور قسط بعنوان ”گلا کاٹ ڈالو“ کا اضافہ ہوا ہے۔ آئیے آپ کو اس تازہ ترین قسط کی کہانی اور اُس کے کرداروں سے مُلاقات اِسے فلمائے جانے کے سیٹ پر لے جا کر سُناتے اور کرواتے ہیں۔

یہ صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے شہر شرقپور شریف میں وسیع رقبہ پر مشتمل سُبحان پیپر مِل کا منظر ہے۔ فیکٹری میں مزدوروں اور اہلکاروں کی روزمرہ سی چہل پہل نظر آ رہی ہے۔ معمول کی زندگی کے معاملات، کاروباری لین دین اور تاجروں کی آمد و رفت بھی جاری ہے۔ فیکٹری کی انتظامیہ حسبِ معمول تمام تر کام کی نگرانی کر رہی اور عملے کو کام سے متعلق مزید ہدایات دی جا رہی ہیں۔ فیکٹری کے مالکان، فیکٹری کا اکثریتی عملہ اور کہانی ”گلا کاٹ ڈالو“ کے مرکزی کردار زوہیب ولد افتخار کا تعلق اکثریتی مذہب سے ہے۔ زوہیب فیکٹری میں شفٹ انچارج کا رول نبھا رہا ہے۔ کہانی میں معاون کا کردار 22 سالہ وقاص نامی مسیحی نوجوان ادا کر رہا ہے جو یسوع المسیح کا پیروکار ہے۔

وقاص مسیح کو اس کہانی میں فیکٹری سے ردی کوڑا اُٹھانے کا ٹھیکیدار دکھایا گیا ہے۔ اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی آس پاس کی فیکٹریوں میں اسی پیشہ سے منسلک ہیں۔ وقاص میٹرک پاس غیر شادی شدہ نوجوان ہے جو محنت مزدوری کر کے زندگی کی مشکلات کو مات دینا اور ہر ممکن آسائش کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ مگر اس سلسلے میں وہ اپنے مسیحی ایمان پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

فیکٹری کے تقریباً سبھی ملازمین اپنے اپنے خاندان کی کفالت اور بچوں کے لئے رزقِ حلال کمانے کی فکر میں سرگرداں ہیں۔ وہ سماجی اور مذہبی ذمہ داریوں کو الگ الگ رکھنا جانتے ہیں مگر کہانی کا مرکزی کردار زوہیب ولد افتخار جائے روزگار پر بھی اپنے عقیدے کی تبلیغ کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے، اپنے قول و فعل پر نظرِ ثانی کرنے اور ماہِ رمضان میں پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے وقتاً فوقتاً دوسروں کے کاموں میں دخل اندازی کرتا ہے۔ وقاص مسیح تو زوہیب کے خصوصی نشانہ پر ہے اور وہ اُسے مسیحت سے ”تائب“ ہو کر مذہب تبدیلی کی نہ صرف صلاح دیتا ہے بلکہ وہ باوجود اس کے کہ ”دین میں جبر نہیں“ جیسی تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہوئے بسا اوقات وقاص مسیح پر دھونس دھمکی پر بھی اُتر آتا ہے۔

گزشتہ واقعات سے پیوستہ اس کہانی میں بھی زوہیب ولد افتخار ذاتی عناد کی بنیاد پر وقاص مسیح پر تکفیر کا بے بنیاد الزام لگاتا ہے اور تبدیلیِ مذہب کی دعوت قبول کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالتا ہے یہاں تک کہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے وہ ایک روز دیگر ملازمین کی موجودگی میں ایک تیز دھار آلہ کے ساتھ وقاص پر حملہ آور ہوتا اور اس کا گلا کاٹ کر اسے قتل کرنے کوشش کرتا ہے۔

زوہیب اپنے ارادے اور کام میں اس قدر سنجیدہ ہے کہ وہ یہ سین ایک ہی بار میں مکمل کروا دیتا ہے۔ دیگر تمام کرداروں کے روبرو زوہیب بڑی اپنائیت سے وقاص کے کندھے پر ہاتھ رکھتا، چند ڈایئلاگ ادا کرتا اور تیز دھار بلیڈ کے ساتھ وقاص کی شہ رگ کاٹنے کے لئے حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اس اچانک اور غیر متوقع حملے کے نتیجہ میں وقاص مسیح کی گردن پر گہرے زخم آتے ہیں۔ جواباً وقاص بہت ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے زوہیب کو زد و کوب کرتا اور اپنی ہی شرٹ اُتار کر اپنی گردن سے بہتے لہو کو قابو کرنے کو کوشش کرتا ہے۔ فیکٹری میں موجود عملہ اُسے نزدیکی ہسپتال پہنچا دیتا ہے اور زوہیب ولد افتخار کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے۔

کہانی دلچسپ پہلووں سے خالی نہیں اور اس کے چند نکات نہ صرف قابلِ غور ہیں بلکہ مزاحمت اور مذمت کا پیغام بھی پیش کرتے ہیں مثلاً وقاص کا جبراً تبدیلی مذہب سے انکار، جرات مندی اور مزاحمت کی مثال ہے۔ گردن سے خون جاری ہونے کے باوجود وقاص کا خود کو سنبھالنا اور زوہیب کو دبوچ رکھنا نیز عارضی طور پر قوتِ گویائی سے محروم ہونا اور ساری صورتِحال کو سپردِ قلم کرنا اور تاریخ کا حصہ بنانا مثالی جرات ہے۔ ایک جانب فیکٹری کے عملہ کا حوصلہ افزا تعاون قابلِ ستائش ہے تو دوسری جانب پولیس کے کردار اور روایتی رویے پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔

سماج میں اس طرز کی کہانیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں پسماندہ طبقات کی سرے سے کوئی شنوائی ہی نہیں یا جہاں تمام فیصلے مذہب کی آنکھ اور بنیاد پر ہوتے ہوں، جہاں صلاحیتوں کو مذہب کے ترازو میں تولا جاتا ہو اور جہاں مذہبی جبر کی کہانیاں زبانِ زد عام ہوں وہاں وقاص مسیح کی کہانی ”گلا کاٹ ڈالو“ کو کوئی کتنا وزن دے گا؟ یا زوہیب جیسے کرداروں کی سرکوبی کرنے کی کون ہمت کرے گا؟ مذہبی اقلیتوں کی سیاسی اور سماجی طور پر زباں بندی کرنے کی روایت موجود ہے اور حقوق کے لئے آواز اُٹھانے پر بھی اُن کا گلا دبانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کیا جاتا اور اب نوبت پسماندہ اور اقلیتی افراد کی گردنیں کاٹنے تک آن پہنچی ہے۔

وقاص اور زوہیب کی کہانی ”گلا کاٹ ڈالو“ انسانی حقوق کے کارکن سُہیل ہابل کی پیشکش ہے، جسے انہوں نے عمدہ طریقے سے قانونی راہداریوں کا تجربہ رکھتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر پیش کر کے جبراً تبدیلی مذہب کے رجحانات اور مذہبی اقلیتوں کی مظلومیت کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔

اسی سے ملتی جُلتی ایک کہانی دسمبر 2020 میں بھی منظرِ عام پر آئی تھی جس میں شیخوپورہ ہی کی ایک فیکٹری میں مسیحی نوجوان ارشد مسیح کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی پاداش میں چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ ایسی کہانیاں کس رجحان کی طرف نشاندہی کر رہی ہیں یہ نقطہ صاحبان اور سماج کے کرتا دھرتاؤں کے لئے غور طلب ہے۔

Facebook Comments HS