رمضان المبارک کا مہینہ اور لہولہان فلسطین
جنگ بندی کے مختصر وقفے کے بعد اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر غزہ پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ نہایت دکھ اور تکلیف کی بات ہے کہ یہ حملہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عین سحری کے وقت ہوا۔ اٹھارہ مہینوں پر محیط اسرائیلی ظلم و بربریت نے غزہ کو ملبے کا ایک ڈھیر بنا دیا ہے۔ ہزاروں مرد، خواتین، بچے، بوڑھے اسرائیل کے ظلم کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے ہیں۔ کم و بیش دو ماہ پہلے ہونے والی جنگ بندی کے بعد فلسطینیوں کو تھوڑا سا سکھ کا سانس نصیب ہوا تھا۔ انہیں بمباری سے نجات ملی تھی۔ انہیں اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں اٹھانا پڑ رہی تھیں۔ تاہم یہ سکون وقتی ثابت ہوا۔ اسرائیل نے سحری کے وقت درجنوں فضائی حملے کر کے ایک مرتبہ پھر جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے 413 فلسطینی شہید جبکہ 560 زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں غزہ کی اعلیٰ قیادت کے افراد بھی شامل ہیں۔
حسب معمول اقوام متحدہ نے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ چین، روس، فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ایران، ترکیہ، اردن اور دیگر مسلمان ممالک نے بھی احتجاجی اور مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ ان ممالک کی طرف سے آنے والے مذمتی بیانات یا اظہار ہمدردی کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ تاہم حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس زبانی جمع خرچ سے فلسطینیوں کی حالت زار میں عملی طور پر کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ وہ قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہیں خوراک میسر ہے، نہ ادویات اور دیگر طبی سہولیات۔ ان کے گھر بار تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔ ان کے خاندان کے لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ہیں یا زخمی ہو کر عمر بھر کے لئے جسمانی معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کا جب دل چاہتا ہے وہ غزہ پر بمباری کرتا ہے۔ بلا تفریق رہائشی علاقوں، ہسپتالوں، سکولوں، مہاجر کیمپوں، ایمبولینسوں، قافلوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ہونے والے ہر وحشیانہ حملے کے بعد مرنے والوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ لگتا ہے۔ اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں۔ ہمدردی اور مذمت کے بیانات جاری ہوتے ہیں۔ اور بس۔ پورے پندرہ مہینے یہ سلسلہ اسی ترتیب کے ساتھ جاری رہا۔ اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ اقوام متحدہ، مغربی اور مسلمان ممالک مل کر بھی اسرائیل کا ہاتھ روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اسرائیل ہر قسم کے دباؤ اور جواب طلبی سے بے نیاز اپنی مرضی اور منشا کے مطابق فلسطینیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے۔
آج کل رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے اور عبادات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ عمومی طور پر ہم سب کے معمولات حیات میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ یہ سوچ کر بے حد دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے فلسطینی بہن بھائی کس طرح رمضان کا یہ مہینہ گزاررہے ہوں گے۔ معلوم نہیں کہ انہیں سحری اور افطاری میں کھانے کے لئے کچھ میسر بھی ہوتا ہو گا یا نہیں۔ اسرائیل جب خوراک وغیرہ کی ترسیل روکتا ہے تو غزہ میں فاقوں کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس جنگ کے دوران یوں بھی 18 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ یہ بھی غور کیجئے کہ آج کی دنیا میں ہم حقوق انسانی کا کس قدر شور سنتے ہیں۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کے حقوق کے حق میں کتنے رنگ برنگے قوانین اور ضابطے وضع کیے گئے ہیں۔ دوسرے مذاہب اور ان کے تہواروں کے احترام پر کتنے بھاشن دیے جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اسرائیل پر ان سب کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ عورتوں اور بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔ سحری کے وقت بمباری کرتا ہے اور سینکڑوں افراد کو شہید اور زخمی کر دیتا ہے۔ چند دن کے بعد تمام مسلمان ممالک عید کی خوشیاں منائیں گے۔ ذرا سوچیئے کہ فلسطینی مسلمانوں کی عید کیسے گزرے گی؟ وہ ملبے کا ڈھیر بن جانے والے اپنے گلی محلوں اور گھروں کے سرہانے بیٹھ کر کیسے خوش ہو سکیں گے۔ ان کے 1 لاکھ 60 ہزار رہائشی یونٹ تباہ ہو گئے ہیں۔ جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ انہیں 46 ہزار سے زیادہ جاں بحق ہونے والے اپنے پیارے یاد آئیں گے۔ کیا ان کے بچوں کو، جنہیں عام حالات میں پیٹ بھر کر کھانا بھی دستیاب نہیں ہوتا، عید کے کپڑے میسر ہوں گے؟ کیا غزہ میں رہنے والے عید کی خوشیاں منا سکیں گے۔ یقیناً عید کے دن بھی انہیں اس بات کا خطرہ رہے گا کہ ابھی کہیں سے کوئی اسرائیلی طیارہ دندناتا ہوا آئے اور ان کے گھروں اور پیاروں پر بمباری کر کے چلتا بنے گا۔
15 ماہ کی جنگ کے بعد جنوری 2025 کے وسط میں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اب رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیل نے سیز فائز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں کو نشانے پر دھر لیا ہے۔ اس صورتحال میں سمجھ نہیں آتا کہ اسرائیل کا راستہ کون روکے گا؟ فلسطین کا تذکرہ ہوتا ہے تو ہمارا دھیان کشمیر کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔ وہ بھی کئی دہائیوں سے بھارتی فوج کے ظلم کا شکار ہیں۔ وہ بھی کسی عالمی امداد اور حمایت کے بغیر نہایت مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بھی شہادتیں ہو رہی ہیں اور خواتین کی عصمت دری بھی۔
اس صورتحال کو دیکھ کر بس بے بسی کی حالت میں اللہ پاک سے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ فلسطینیوں، کشمیریوں اور مسلم امہ پر رحم فرمائے۔


