صحافی اور صحافت
صحافت کے طالب علم ہونے کے ناتے اساتذہ نے ایسے ایسے اسباق یاد کرا دیے کہ صحافت کرنا ہمارے بس کی بات نا تھا۔ صحافت مزاحمت کا دوسرا نام ہے۔ پر سوال یہ ہے کہ مزاحمت کس کے خلاف کرنی ہے؟ پھر مزاحمت کرنی کیوں ہے؟ اگر گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہو تو ٹیڑھی کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ تو جناب بات یہ ہے کہ گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہی نہیں ہے، جہاں موسم ہی گرم رہتا ہو وہاں سے تو بالکل ہی نہیں نکلتا ہے۔ مزاحمت صاحب اقتدار لوگوں کے خلاف کرنا ہوتی ہے صاحب اقتدار صرف وہ نہیں جو مسند اقتدار پر براجمان ہیں۔ ہر وہ شخص صاحب اقتدار ہے جو کسی نا کسی صورت طاقت کا منبع بنا ہوا ہے۔ یہ مزاحمت سوال کی صورت ہوتی ہے سوال کرنا ہوتا ہے۔ عوام کا سوال، عوام کے لیے سوال۔ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کا نام صحافت ہے۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام صحافت ہے۔ گویا یوں سمجھئے کہ میدان کار زار میں لڑنا آسان ہے مگر صحافت اس سے کہیں مشکل کام ہے۔
خبر کی تلاش کرنا خبر لے کر آنا عوام کو اس خبر سے آگاہ کرنا صحافت ہے۔ کیا خبر کی تلاش اور خبر لے کر آنا بہت آسان کام ہے یعنی کسی پریس کانفرنس کا احوال بتا دینا، اسی معلومات کو آگے پیچھے کر کے پیش کر دینا جو کانفرنس والے کا مطمح نظر ہے۔ یا کسی ہینڈ آؤٹ کو چھاپ دینا، کسی پریس ریلیز کو چھاپ دینا یا دکھا دینا یا پھر بتا دینا کہ یہ خبر ہے؟ کسی جلسے جلوس کا احوال پیش کر دینا کہ یہ خبر ہے؟ کیا اس معلومات میں خبریت موجود ہے؟ یہ معلومات اخبار کا پیٹ بھرنے اور سکرین کا وقت ٹپانے کے لیے تو کافی ہے مگر خبر کہاں ہے؟ خبر تو دور فائلوں میں پڑی ہوتی ہے بلکہ بوسیدہ الماریوں میں دفن ہوتی ہے جسے نکال کر لانا ہوتا ہے، ان فائلوں تک پہنچنا ہوتا ہے۔ یہ تو بڑا صبر آزما کام ہے، جان خطرے میں ڈال کر مافیا میں رہنا پڑتا ہے ان کی سرگرمیوں، ان کی میل ملاقاتوں کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ مرحوم ریاض بٹالوی کے بارے میں قبلہ ڈاکٹر احسن اختر ناز بتایا کرتے تھے کہ وہ دو دو تین تین ماہ منظر سے غائب ہو جایا کرتے ان کے متعلق کسی کو کچھ معلوم نا ہوتا کہ وہ کہاں غائب ہو گئے ہیں؟ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ سوچیئے ان کے گھر والوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ مگر جب وہ اپنا فیچر، اپنی معلومات، اپنی رپوٹ میگزین کی زینت بناتے تو تہلکہ مچ جایا کرتا تھا۔
اساتذہ بتاتے ہیں کہ پاکستان ٹیلی ویژن کا افتتاح دو مختلف صورتوں میں ہوا، ایک حکومتِ وقت کے دستِ مبارک سے اور دوسرا اس ادارے کی انتظامیہ کے ہاتھوں جس میں کہنہ مشق صحافی شامل تھے جن کا کہنا یہ تھا کہ یہ حکومتی لائوڈ سپیکر نہیں ہے بلکہ یہاں سے عوامی مفاد کا تحفظ کیا جائے گا یہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ رہے گا۔ اب اِس وقت درجنوں نجی چینل موجود ہیں سینکڑوں اخبارات موجود ہیں سبھی یکسانیت کا شکار ہیں، تمام چینل پر ایک سا مواد ایک سے لوگ اپنی رام لیلا الاپ رہے ہوتے ہیں اور یہی حالات اخبارات کے ہیں، رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جہاں ہر فرد ایک صحافی کی صورت رو نما ہو رہا ہے۔ اور صحافت غنڈوں میں گھری پڑی ہے۔ یعنی غریب کی جورو سب کی بھابھی کے مثل پاکستان کی صحافت لا وارثہو چکی ہے۔ جو اکا دکا صحافی موجود ہیں وہ اب پیکا کا شکار ہو رہے ہیں، نا رہے گا بانس نا بجے گی بانسری۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ صحافی اور صحافت بحرِ ابلاغیات میں برد ہو چکے ہیں۔ مطلب ماس کمیونیکیشن میں صحافت کہاں ہے؟ اب تو پاکستانی کلیات و جامعات میں بس ابلاغیات ہی ابلاغیات ہے۔ مگر وہاں صحافت کا شعبہ موجود نہیں ہے، جہاں صحافت کی تعلیم و تربیت ہو۔ صحافت ابلاغیات کا صرف ایک جز ایک عنصر ہے جس کو ابلاغیات کے نام پر پڑھا دیا جاتا ہے۔ وہ جو خبروں کے حصول کے ذرائع، خبر بنانے کا طریقہ، خبر میں خبریت اجاگر کرنا اور ہارڈ نیوز اور سافٹ نیوز کا تصور ان میں استعمال کی جانے والی اصطلاحات اور الفاظ، یہی الفاظ اور اصطلاحات اخبار کے لیے مختلف ریڈیو کے لیے مختلف ٹی وی کے لیے اور، اور ان کی اہمیت، وغیرہ وغیرہ اب سب ناپید ہے۔ ابلاغیات میں کتابی ابلاغ تو بالکل موقوف ہو چکا ہے۔ فکشن اور نان فکشن کتاب کا ابلاغ اور اس کی اہمیت، کتاب پڑھنے کا طریقہ اور کتاب لکھنا یہ تو خیر ہمیں بھی علوم ابلاغیات میں نہیں پڑھایا اور بتایا گیا۔ حالانکہ کتاب کتنا اہم ستون ہے ابلاغ کا، پتہ نہیں اسے کیوں نظر انداز کر دیا گیا۔ مطلب یہ ہوا کہ صحافت اور کتاب ابلاغیات سے رخصت ہوئے، خارج ہو گئے۔ باقی جو کچھ ہے وہ پتہ نہیں کیا ہے، کم از کم صحافت تو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صحافت صحافت سے عاری ہے۔ اور صحافی صحافی نہیں رہا کچھ اور ہی ہو گیا ہے۔ قبلہ مجیب الرحمٰن شامی صاحب فرماتے ہیں کہ صحافی اور مکھی میں کچھ فرق نہیں مکھیاں گندگی کی نشاندہی کرتی ہیں اور صحافی بھی یہی کچھ کرتا ہے۔ مطلب صحافی گند، گناہ اور جرائم کو عیاں کرتا ہے۔
ہمیں اساتذہ نے سکھایا کہ جب مشکل دور ہو جب خبر شائع کرنا خبر نشر کرنا ممکن نا ہو، تو اس وقت آپ خبر دیں تو یہ صحافت ہے یعنی گگلی بال کرانی ہے یعنی ایسی ابلاغی حکمت عملی اختیار کرنی ہے کہ آپ بھی محفوظ رہیں اور آپ کا میڈیم بھی۔ اور خبر بھی ہو جائے۔ جب صحافتی تربیت نا ہو تو پھر ویگو ڈالا آ جاتا ہے۔ صحافتی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بشرطیکہ معلوم ہوں، مائیک بندے کے منہ میں گھسیڑے جا رہے ہوتے ہیں اور بار بار لیڈنگ سوالات کی بوچھاڑ ہو رہی ہوتی ہے، بھائی سوال بنانا اور کرنا بھی تو فن ہے لیڈنگ سوال تو صحافت میں فاول ہے۔ اگر ہمارے یہاں صحافت ہوتی تو شاید ہم پیکا سے بھی محفوظ رہتے ہاں صحافت ہوتی تو پیکا جیسے کالے قانون میں بھی صحافی محفوظ رہتے فی زمانہ صحافت سیٹھ کی رکھیل اور مسند اقتدار کی لونڈی بن چکی ہے۔ سیٹھ نے میڈیا کو اپنے کاروباری مفاد کے تحفظ کے لیے بطور سیکیورٹی گارڈ رکھ لیا ہے۔ وہ اخبار کا بھی مالک ہے اور چینل کا بھی، کوئی صحافی اس کی خبر کیسے نکالے گا اور لگائے گا اور سیٹھ ہی تو حکومت کا اصلی مالک ہوتا ہے۔ خیر اب تو صحافت بھی پلاٹوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی طور اس پریس کلب کا ممبر بن جاؤں جس کا سنگ بنیاد ہی آمر کے ہاتھ کا رکھا ہے۔ یہاں صحافتی اخلاقیات کی بات ہی کیا کریں۔ قبلہ ناز صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک صحافی تو کسی سے چائے کے کپ کا بھی روا دار نہیں ہو سکتا۔ ضیا الدین مرحوم نے تو حکومتی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ لینا صحافیوں کا کام نہیں۔ کچھ روز قبل رؤف کلاسرا صاحب نے بھی اس بات کا تذکرہ اپنے کالم میں کیا ہے۔ صحافت بھی اب عطائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ جیسے طب کے عطائی ہوتے ہیں ویسے ہی اس شعبہ میں بھی عطائیوں کی بھر مار ہے۔
جو بندی یا بندہ صحافت کرنا چاہتا ہے اور صحافی بننا چاہتا ہے وہ کم از کم یہ دو کتابیں ضرور زیر مطالعہ لائے میڈیا منڈی جو پیارے بھائی اکمل شہزاد گھمن نے تحریر کی ہے اور دوسری کتاب پوری کہانی صحافیوں کی زبانی نضیرا اعظم اور اخلاق احمد نے مرتب کی ہے شاید اس سے کوئی افاقہ ہو سکے۔


