آئیں ایک تجربہ کر لیں


ہماری کئی نسلیں بچپن، نوجوانی، جوانی اور بڑھاپے میں غربت، افلاس محرومیوں، بھوک پیاس اور لاعلاجی کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مرتے رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں خودکشیاں کر کر کے اور اپنے معصوم بچوں کو محض اس لیے مار کر خود کو بھی مارتے رہے ہیں کہ بھوک اور بیماریاں ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔

اب تو کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی ایسے عفریت کا سامنا ہے۔ جس نے نہ کسی ادارے، نہ کسی مکتبہ فکر، نہ عبادت گاہوں نہ مذہبی شخصیات نہ بچوں نہ بوڑھوں نہ جوانوں اور نہ ہی عورتوں کو چھوڑا۔ جبکہ دہشتگردی ایسی گتھی بن چکی ہے کہ کسی کو بھی اس کے سلجھانے کی راہ دکھائی نہیں دے رہی۔ جتنا سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے اتنا ہی الجھتی جاتی ہے۔

حکومت خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو اس کی بنیادی ذمہ داری عوام کو بنیادی حقوق اور امن و امان کی فراہمی اس کی اولین اور ناقابل گریز ذمہ داری ہوتی ہے۔ خیر سے پاکستان گزشتہ 77 سال سے تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ ہم نے دوقومی نظریہ پر اپنا ملک حاصل کر کے حکومت کر لی، کسی نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تو کسی نے نظام مصطفیٰ کا، کسی نے پاکستانی قومیت کا تو کسی نے ترقی کا اور کسی نے تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ ہر بار اپنے ہی حکومت اور نظام حکمرانی سے بیزار عوام نے کچھ بھلا ہونے کی امید میں ان کو مسند اقتدار پر بٹھایا۔ مگر ہر بار ان کی مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہی ہوتا رہا اور لوگوں کا غربت کی لکیر سے نیچے چلے جانے کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ اور تو اور ہم نے اس وقت کے مطابق کچھ رہنماؤں کے تحفظات کے ساتھ اکثریت سے سال 1973 میں آئین بھی پارلیمان سے منظور کرایا۔ یہ الگ بات ہے کہ سب ہی اسے متفقہ آئین کہتے چلے آرہے ہیں۔ مگر آئین کی منظوری دینے کے باوجود اسی وقت سے ایسے ایسے مطالبے کرتے چلے آ رہے ہیں جس کا تعلق خالصتاً آئین سے ہے اور معلوم نہیں کہ ان کو اس وقت اس کا ادراک نہیں تھا یا

”تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا“

بعد میں کسی نے آئین کو پاؤں تلے روند ڈالا تو کسی نے یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیا کہ یہ کوئی آسمانی صحیفہ تھوڑی ہے۔ ساتھ ہی ہم ہی نے اس میں اتنی ترامیم کر دیں اور منسوخ کر دیں کہ اس کی شکل ہی بگاڑ دی۔ چنانچہ اب نئے سرے سے معروضی، سماجی، قومی اور انسانی بنیادوں پر ایک ایسے نئے اور متفقہ آئین کی ضرورت ہے جس میں ملک کے ہر مکتبہ فکر، قوم بشمول ناراض لوگوں کو اکٹھا کیا جائے، ان سب کے جائز اور حقیقی مطالبات پر غور و فکر کیا جائے اور اسے آئینی تحفظ دیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بننے سے پہلے بہت سوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔ جس کے لیے ان کا اپنا اپنا موقف رہا تھا۔ مگر پاکستان بننے کے بعد ایسی مخالفت کرنے والے بڑے بڑے اور عظیم رہنما نہ صرف اس کی اسمبلی کے ممبران بنے بلکہ پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اٹھا لیا۔ اس کے باوجود ہم میں سے اکثر سیاسی بونوں اور یتیموں نے ان پر غداری کے فتوے لگائے۔ آج بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ اور الیکشن کمیشن کا معرض وجود میں آنے سے قبل ایسی مشتبہ یا مبینہ طور پر غدار سیاسی جماعتوں کے آئین اور منشور کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ایک شق ایک لفظ بھی اس میں ایسا شامل نہیں ملے گا جو پاکستان کی مخالفت یا دشمنی پر مبنی ہو گا۔ اس کے باوجود ہم ترقی اور خوشحالی کا حصول تو کیا اپنے وجود تک کو بھی برقرار نہ رکھ سکے۔

بہت ہو چکا اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ڈھونڈنا ہو گا۔ اس کا کوئی علاج کرنا ہو گا۔ اور یہ چھوٹی بڑی بیماریاں جو ہمیں اور ہمارے ملک کو چاٹ رہی ہیں اس سے بخیر و عافیت چھٹکارا پانے کے لیے مل جل کے کچھ کرنا ہو گا۔ ہم تجربے تو مسلسل کرتے چلے آرہے ہیں۔ چلیں ایک یہ تجربہ بھی کر لیں۔

اپنے ذاتی، سیاسی، ادارہ جاتی اور ہر قسم کے خود غرضی، مفاد پرستانا اور ہر قسم کے استحصالی، بدنیتی وغیرہ کے سوچ و جذبات کو اس تجربے کے دوران ہی پس پشت ڈالیں۔ اور ملک کے تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر ان کی آئینی امداد کے ساتھ ہر ہر مکتبہ فکر، قوم اور ادارے کے مشورے اور رضامندی سے ایک وسیع تر قومی حکومت بنائیں۔ جو نئے آئین کے بننے تک موجودہ آئین کی اصل روح کے مطابق خود بھی کام کرے اور دوسروں سے بھی کروائے۔ جن جن کے جو جو بھی جائز مسئلے گلے شکوے ہوں ان کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرائیں۔ اور تمام تر محرومیوں اور استحصال سے پاک معاشرہ کی تشکیل کے لیے خلوص نیت سے کام کریں۔ اور ملک کو تمام وفاقی یونٹوں کے تعاون سے ان کی تسلی کے ساتھ ایک حقیقی وفاقی اسلامی مملکت بنائیں۔ ٹائم فریم بھی باہمی رضامندی کے ساتھ مقرر کریں۔ یقین ہے کہ نیت صاف ہو اور خلوص شامل حال ہو تو ایسا تجربہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اور ملک سیدھی پٹڑی پر چلنا شروع کر دے گا۔

Facebook Comments HS