خواب، محبت اور زندگی 6


چاند والی حویلی کے باہر اگر کانگرس اور مسلم لیگ کی انگریزوں سے آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو حویلی کے اندر اب جو اسٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اسی قسم کے ڈرامے چلتے رہتے تھے۔ برسوں پہلے جب میری دادی حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کی پھوپھیاں ہمارے دادا کے لئے نئی دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ پہلے تجربے نے انہیں بھی محتاط کر دیا تھا۔ اس لئے نئی بھابھی کے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں ہوا۔ آخر انہیں یہ بھی تو ثابت کرنا تھا کہ پہلے والے معاملے میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس کے باوجود ابی کی ذات کے حوالے سے ان خواتین کا احساس ملکیت بہت شدید تھا۔ انہیں دوسری ماں اور ان کے بچوں سے دور رکھا جاتا تھا۔ نئی ماں نے شادی کے بعد کے سات سالوں میں سات بچوں کو جنم دیا۔ مگر ابی کی دیکھ بھال پھپھیوں نے اپنے ذمے لے لی تھی۔

اس کے بعد ابی کے چچا کمال الدین کے لئے لڑکی ڈھونڈنے کا مرحلہ آ پہنچا۔ ہمارے پدرسری معاشرے کا یہ واقعہ افسوس ناک بھی تھا اور اس حقیقت کا غماز بھی کہ لڑکی کو بوجھ سمجھ کر سر سے اتارنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے جاتے ہیں مگر ابی مزاحیہ انداز میں ہمیں یہ واقعہ سناتے تھے۔ چچا کی بہنیں دہلی کے معزز مسلمان گھرانوں کے چکر لگانے لگیں۔ بالآخر ایک امیر گھرانے کی ایک بے حد خوبصورت لڑکی انہیں پسند آ گئی۔ انہوں نے گھر آ کر اپنے بھائی سے بھی اس کے حسن و جمال کی تعریفیں کیں اور دونوں گھرانے شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔

پھوپھیاں اس رشتے سے بے حد مطمئن تھیں۔ شادی دھوم دھام سے ہوئی اور دلہن میکے سے رخصت ہو کر حویلی میں پہنچ گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ کسی افسانے یا فلمی کہانی سے کم نہیں تھا۔ کمال الدین چچا نے جب حجلہ ء عروسی میں داخل ہونے کے بعد دلہن کا گھونگٹ اٹھایا تو ان کے تصورات کے برعکس ایک کم رو اور جاذبیت سے محروم لڑکی ان کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس زمانے کے سولہ سنگھار بھی اس کی مدد کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ کمال صاحب کے سامنے تو بہنوں نے ان کی ہونے والی دلہن کے حسن و جمال کے قصیدے پڑھے ہوئے تھے۔ وہ الٹے قدموں روتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے اور بہنوں کو سارا معاملہ بتایا۔ تو انہوں نے حویلی میں کہرام مچا دیا۔ ”ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ہمیں تو کوئی اور لڑکی دکھائی گئی تھی“ ۔ طے یہ ہوا کہ صبح ہوتے ہی نئی دلہن کو اس کے میکے پہنچا دیا جائے گا۔ ادھر یہ پروگرام بنایا جا رہا تھا اور ادھر لڑکی کے امیر گھر والے بھی اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ صبح ہوتے ہی ان کے ملازمین قطار بنائے سروں پر قیمتی تحائف کے تھال اٹھائے ہوئے حویلی کے دروازے پر آ کھڑے ہوئے۔ اتنے قیمتی تحائف دیکھ کر حویلی والوں خاص طور پر بہنوں کا غصہ کچھ کم ہوا۔ لڑکی والوں نے تحائف بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا اور بہنوں کا نئی دلہن کو واپس اس کے میکے بھیجنے کا منصوبہ اگلے دن پر ٹلتا رہا۔ مگر انہوں نے جلد ہی ایک اچھی شکل و صورت اور اچھے گھرانے کی لڑکی ڈھونڈ کر بھائی کی دوسری شادی ضرور کروا دی۔ یوں کمال چچا کو دو بیویاں اور ابی کو بڑی چچی اور چھوٹی چچی مل گئیں۔ حسن کی طاقت اپنی جگہ، دولت کی طاقت اپنی جگہ جیسا کہ ہمارے جون بھائی کہہ گئے ہیں :

یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی

بڑی چچی کے معاملے میں بھی دولت نے اپنی طاقت دکھائی اور انہیں واپس بھیجنے کے منصوبے کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد کمال چچا بھی اپنی دونوں بیویوں اور بچوں کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی آ گئے تھے۔ جب کہ ہمارے دادا دہلی میں ہی رہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کراچی آنے کے بعد بڑھاپے میں کمال چچا کا جھکاؤ بڑی چچی کی طرف زیادہ ہو گیا تھا۔ شروع میں چھوٹی چچی کو زیادہ پسند کرتے تھے، وہ ہر سال ایک بچے کو جنم دیتی رہیں اور تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کی ماں بن گئیں۔ بڑی چچی کی صرف ایک بیٹی تھی۔ اس لئے انہیں بچوں کی پرورش میں اتنی جان نہیں کھپانی پڑی۔ کراچی آنے کے بعد شروع میں تو دونوں بیویاں پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ایک ہی گھر میں رہیں مگر بچوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ سوتیلے پن کے مسائل اور لڑائیاں بڑھتی گئیں تو انہوں نے بڑی چچی کے لئے عزیز آباد میں ایک مکان بنوا دیا اور ایک رات بڑی چچی کے پاس اور ایک رات چھوٹی چچی کے پاس بسر کرنے لگے۔ چھوٹی چچی تو بچوں کے جھمیلوں میں
پھنسی رہتی تھیں۔ لیکن بڑی چچی شوہر کے گھر آتے ہی سفید چاندنی بچھے ہوئے فرش پر پاندان کھول کے بیٹھ جاتیں اور میاں صاحب کو گلوری بنا کے پیش کرتیں۔ ان کی اکلوتی بیٹی والد کے پسندیدہ پکوان تیار کرنے باورچی خانے میں گھس جاتی اور دونوں میاں بیوی گھٹنے سے گھٹنا ملائے بیٹھے آپس میں ہنسی ٹھٹھول کرتے رہتے اور بڑی چچی شرما شرما کے ہنستی رہتیں ”اے نوج، چلو ہٹو ”۔ جب بڑھاپے میں شوہر کو اتنی توجہ ملے تو اسے اور کیا چاہیے۔

Facebook Comments HS