این آر او کی طرف بڑھتی تحریک انصاف


پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور اور صوبائی حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی اجازت دی ہے۔ ان دونوں نے آج جیل میں عمران خان سے اڑھائی گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔ اس سے پہلے گزشتہ روز اعظم سواتی نے عمران خان سے ملاقات میں یہ تجویز پیش کی تھی لیکن بتایا گیا ہے کہ اس وقت تک عمران خان مصالحانہ طرز عمل اختیار کرنے پر راضی نہیں تھے۔

پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں اور بات چیت کی حامی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ انہی کے مشورے پر عمران خان نے آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر سیف کے ساتھ ملاقات میں بات چیت پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ کہ اس بات چیت کو خفیہ رکھا جائے گا اور بظاہر علی امین گنڈا پور براہ راست عمران خان کو اس بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ یوں پاکستان تحریک انصاف کا اس بات چیت میں کوئی کردار نہیں ہو گا اور موجودہ قیادت کو بھی اس بارے میں بریف بھی نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے سیاسی کلچر میں یہ تو عین ممکن ہے کہ ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہ ہو اور انہیں شائع کرانے کا مقصد درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام پہنچانا ہو کہ ہم اب بھی مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ تاکہ موجودہ تعطل دور ہو سکے اور عمران خان کے لیے کسی قسم کا کوئی ریلیف حاصل کیا جا سکے۔ تاہم اگر ان معلومات میں کوئی سچائی ہے تو تحریک انصاف کے لیڈروں کو ضرور اس بارے میں وضاحت کرنی چاہیے کہ سیاسی جد و جہد کے وعدوں کے بعد اب درپردہ اور خفیہ ملاقاتوں یا رابطوں کا کیا مقصد ہے۔ کیا اسے کسی قسم کے این آر او کے لیے بات چیت کا آغاز سمجھا جائے۔ عمران خان نے ہمیشہ مخالفین پر خفیہ معاہدے کرنے اور این آر او لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی ہے لیکن وہ خود اب حقیقی جمہوریت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ کسی صورت کسی خفیہ ڈیل کے ذریعے حکمت عملی طے نہیں کریں گے بلکہ جو طے ہو گا وہ کھلے میدان میں ہو گا۔

اسی موقف کی وجہ سے عمران خان نے موجودہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ کرنے اور کسی معاہدہ تک پہنچنے سے انکار کیا۔ وہ اگرچہ سیاسی آزادی اور جمہوری انتخاب کی بات کرتے رہے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ بات چیت صرف فوج سے ہی ہوگی کیوں کہ وہی ملک میں معاملات میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کبھی سیاسی رابطوں سے گریز نہیں کیا اگرچہ اس کا صاف طور سے اعتراف بھی نہیں کیا گیا۔ پاک فوج کے ترجمان کا ہمیشہ یہی موقف ہوتا ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ اسی لیے عمران خان کی طرف سے براہ راست اسٹبشلمنٹ سے بات کرنے کے سوال پر آئی ایس پی آر نے تحریک انصاف کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا کہ وہ سیاسی حکومت سے رابطہ کر کے معاملات طے کریں۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی تجویز پر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جنوری میں مذاکرات کے دو راؤنڈ ہوئے تھے۔ فریقین نے بات چیت کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر سیاسی مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کا عندیہ بھی دیا تھا لیکن تحریک انصاف نے یہ کہتے ہوئے دو ملاقاتوں کے بعد ہی بات چیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا کہ حکومت اس کی خواہش کے مطابق سانحہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی عدالتی تحقیقات پر راضی نہیں ہے۔ اس بارے میں حکومتی وفد کی خواہش پر تحریک انصاف نے تحریری مطالبات کی فہرست بھی حکومت کو پیش کی تھی تاہم حکومت کی طرف سے باقاعدہ جواب آنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی نے خود ہی مطالبات ماننے کی ڈیڈ لائن دی اور اس کے گزرنے کے بعد خود ہی بات چیت کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر حکومتی وفد کا موقف تھا کہ سرکاری وفد کو مطالبات کا جواب دینے کا موقع دینا چاہیے تھا یا تحریک انصاف کا وفد بات چیت کے تیسرے راؤنڈ میں شریک ہو کر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتا۔ البتہ دونوں فریق ایک دوسرے پر غیر سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

یہ تو درست ہے کہ حکومت 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات یا عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ البتہ تحریک انصاف بھی ان بنیادی مطالبوں سے آگے بڑھنے اور ملکی سیاسی نظام میں اصلاح، انتخابی شفافیت یا دیگر سیاسی معاملات کو زیر بحث لانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ تحریک انصاف نے کسی بھی مرحلے پر سیاسی معاملات پر بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا سارا فوکس ہمیشہ عمران خان کی رہائی پر رہا ہے لیکن وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے حکومت کو کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ نہ تو سانحہ 9 مئی کے حوالے سے کسی قسم کی غلطی کا اعتراف کرنے کا وعدہ کیا گیا اور نہ ہی حکومت کی حیثیت و اختیار کو ماننے پر آمادگی ظاہر کی گئی بلکہ جنوری کے دوران ہونے والے ان مذاکرات میں تحریک انصاف یہی کوشش کرتی رہی کہ کسی طرح فوج کے نمائندے بھی اس بات چیت میں شامل ہوں۔

فریقین کی نیک نیتی پر سوال اٹھانے کی بجائے یہ سمجھنا بہتر ہو گا کہ حکومت اور تحریک انصاف باہمی مکالمہ کے ذریعے ملکی سیاست کی اونر شپ لینے میں ناکام رہیں۔ اپنے اپنے وقت میں دونوں طرف سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ سیاسی فیصلے صرف منتخب نمائندوں کو کرنے چاہئیں اور کسی تیسرے فریق کی بالادستی تسلیم نہیں ہونی چاہیے البتہ اس اصول کو منوانے کے لیے ایک دوسرے کا احترام اور ضرورت کو ماننے کا ماحول پیدا نہیں ہوسکا۔ ایک طرف شہباز شریف کی حکومت اپنے تمام اقدامات اور پالیسیوں کا کریڈٹ آرمی چیف کو دے کر یہ واضح کرتی رہتی ہے کہ ملک میں درحقیقت بالادست کون ہے۔ تو دوسری طرف تحریک انصاف نے اسٹبشلمنٹ کو براہ راست بات چیت کی دعوت دے کر اور اسی کے ساتھ معاملات طے کرنے پر اصرار کے ذریعے آئینی انتخابی نظام کی بجائے طاقت کے ذریعے نافذ کردہ کسی ہائبرڈ نظام کی تائید کی ہے۔ فریقین اگر سیاسی بات چیت میں اصولوں پر اتفاق سے گریز کریں گے اور دو ٹوک الفاظ میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ عسکری قیادت کو سیاسی معاملات سے دور رکھ کر آئینی انتظام مستحکم کیا جائے تو نہ جمہوریت مستحکم ہوگی اور نہ ہی ملک میں سیاسی یک جہتی کے لیے کام کیا جا سکے گا۔

اسی تناظر میں عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں، بات چیت اور رعائتیں لینے کا تازہ فیصلہ جمہوری جد و جہد کے حوالے سے ایک افسوسناک خبر ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ عمران خان کے نمائندے اسٹیبلشمنٹ سے کیا حاصل کرسکیں گے جو بصورت دیگر انہیں حکومت سے بات چیت میں نہیں مل سکتا تھا۔ البتہ یہ واضح ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کا واحد مطمح نظر قید سے رہائی ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ چاہے گی کہ کہ پی ٹی آئی کسی نہ کسی صورت 9 مئی 2023 کو ہونے والے فسادات اور مظاہروں کی ذمہ داری قبول کرے اور فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم جوئی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ مقصد خواہ کسی بھی طریقے سے حاصل کیا جائے، اسے تحریک انصاف کی پسپائی ہی سمجھا جائے گا لیکن ملکی سیاست کے حوالے سے ایک بار پھر یہ طے ہو جائے گا کہ سیاسی لیڈر اپنے طور پر معاملات طے کرنے اور فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہیں بلکہ انہیں بہر صورت اسٹیبلشمنٹ کی اعانت درکار ہوتی ہے۔ یہ تاثر ملک میں جمہوریت کی خواہش رکھنے والے عناصر کے لیے تکلیف دہ تجربہ ہو گا۔

گزشتہ انتخابات کے بعد تحریک انصاف کسی سیاسی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی کیوں کہ اس نے فوج پر دباؤ ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اگر وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنی نمائندگی اور مقبولیت کی بنیاد پر بعض اصولی فیصلوں پر آمادہ کر کے کسی قسم کے میثاق جمہوریت متفق کرانے میں کامیاب ہوجاتی تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوتی۔ موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ سے مدد مانگنے کی بجائے اگر انتخابی اصلاحات، انتخابی عمل کی شفافیت اور اس کے بعد سیاسی تنازعہ ختم کرنے کے لیے وقت سے پہلے انتخابات کے موضوعات پر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اتفاق کر کے آگے بڑھنے کی کوشش ہوتی تو عمران خان بھی سرخرو رہتے اور تحریک انصاف بھی دعویٰ کر سکتی کہ اس نے جمہوری روایت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ تحریک انصاف مقبولیت، میڈیا کی توجہ اور سوشل میڈیا پر دسترس کے باوجود یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی کیوں کہ اس نے دیگر سیاسی پارٹیوں کی اہمیت و ضرورت کو ماننے اسے انکار کیا۔ اسی لیے اب کسی نہ کسی قسم کا این آر او لینے کے لیے علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر سیف اسٹیبلشمنٹ سے ’رحم‘ کی بھیک مانگیں گے اور عمران خان اس پر راضی ہوں گے۔

گزشتہ ماہ کے شروع میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر بھی تحریک انصاف دہشت گردوں کی مذمت کرنے اور قومی اتفاق رائے میں حصہ دار بننے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے پاس سیاسی طور سے آگے بڑھنے اور کسی باعزت تصفیہ تک پہنچنے کا راستہ مسدود ہو گیا تھا۔ عمران خان نے اپنی پارٹی کی ’حقیقی قیادت‘ کی بجائے مشکوک افراد کو اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھیجنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اسے مسلسل کی گئی سیاسی غلطیوں کا خمیازہ اور حالات کا جبر ہی سمجھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali