یہ شہرت بھی لے لو، یہ دولت بھی لے لو


شہرت اور مقبولیت کچھ اور شے ہے۔ مانگے اور کوشش کا کھیل نہیں۔ شہرت دراصل گمنامی کا خوف ہے۔ ایسا سیدنا واصف علی واصف کا بھی ماننا تھا۔

اب جب سے سیل فون اور انٹرنیٹ تک سب کی رسائی عام ہو گئی ہے اور انسٹا گرام، ٹک ٹاک فیس بک پر لائیکس دیکھ کر شہرت اور مال کمانے کا شوق کا ایسا عام ہوا ہے کہ مت پوچھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میڈیا کے دوش پر سوار ہو کر کوئی احمد فراز، لتا، شریا گسال تو نہ بن پایا مگر مفتی قوی، حریم شاہ، مہک ملک اور رجب بٹ جیسے کچھ گھریلو نام بن گئے ہیں۔

لیونارڈو ڈاونچی، مائیکل اینجلو، خسرو، کالی داس، شیکسپیئر، ارسطو، سعدی، رومی، عطار، میر، غالب کو لے لیں۔ بغیر وزیر اطلاعات اور لابی فرم کے اللہ اللہ کیا شہرت ہے۔ جب پکاسو زندہ تھا، لوگ پیرس مونالیزا، ایفل ٹاور اور پکاسو کے دیکھنے آتے تھے اب پکاسو نہیں تو گزارہ صرف دو پر ہے۔ ڈاؤنچی پر تو شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ”گے“ تھا۔ اس کی نوٹ بک میں کسی خاتون کا تذکرہ نہیں البتہ ایک شاگرد کو وہ بابر کے انداز میں بہت چاؤ سے یاد کرتا ہے۔ پینٹنگز بھی کل پندرہ بنائیں مگر مونا لیزا فروخت کے دائرے میں نہیں اور اس کی مشہور پینٹنگ Salvator Mundi جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے ذخیرے میں موجود ہے چالیس کروڑ ڈالر کی خریدی گئی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ عمر میں بیس برس چھوٹا مائیکل اینجلو جسے کے اس زمانے کی گیٹ نمبر چار والی اسٹیبلشمنٹ یعنی کیتھولک پوپ اور بادشاہ سے بہت گہرے تعلقات تھے اسے سرے سے مصور مانتا ہی نہ تھا اور خود سنگ تراشی کو مصوری سے بڑا آرٹ مانتا تھا۔ یہ تمام افراد کسی سرکاری ادارے سے جڑے تھے نہ ہی فیس بک اور سوشل میڈیا سے نتھی تھے۔

پریس تو سنہ 1556ء میں پرتگالی لے کر بھارت آ گئے اور گوا کے ایک کالج میں زیادہ تر موت کے بعد کا منظر جیسی مذہبی کتابوں کی اشاعت بھی ہونے لگی تھی۔ اردو زبان کی پہلی شائع شدہ کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کا ناول ”مراة العروس“ جسے کلکتہ بنگال میں ”دلہن کا آئینہ“ کہتے تھے۔ وہ پہلی کتاب تھی جسے زیور طباعت سے آراستہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی دس ہزار کاپیاں برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئیں۔ سن تھا 1869ء۔

یہاں ایک جھگڑا یہ ہے کہ ایک مولوی عبدالکریم ہوا کرتے تھے۔ ان کے ناول ”خطِ۔ تقدیر“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مراة العروس سے بھی سات سال قبل شائع ہوا۔ اس سے بھی پہلے غالب کے ایک دوست جانی بہاری بابو صاحب کا دیوان کچھ۔ بھج گجرات میں شائع ہو گیا تھا۔ یہ کم معروف فیکٹ ہے۔ میر تقی میر بے چارے یوں بدنصیب رہے کہ ان کا کلام 1811ء میں وفات کے ایک برس بعد فورٹ ولیئم کالج کلکتہ سے شائع ہوا۔ غالب یوں خوش نصیب رہے کہ ان کا کلام ان کی وفات حسرت آیات سے چوتھائی صدی لگ بھگ پہلے شائع ہو گیا۔

اس کے باوجود غالب کو اس شہرت سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ حالات پاکستانی معیشت جیسے رہے۔ مے بھی قرض کی پیتے رہے۔ اللہ سے گلہ مند بھی رہے کہ

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

امیر خسرو کے کلام اور شہرت کا تو لطف یہ ہے کہ ہماری نو برس کی نواسی کی کورین وائس ٹریننگ ٹیچر اس سے انگلش میں لکھوا کر امریکہ میں چھاپ تلک سب چھین لی رے مو سے نیناں ملا کے، کی مشق کراتی ہے۔

شہرت کا مگر خود کو بہت کم فائدہ ہوتا ہے۔ اس پر ہم بعد میں آتے ہیں۔ شہرت کی جڑواں پہلے دولت کی طرف رخ کریں۔ کبھی سوچا دولت کیا دیتی ہے۔ ہمارے سامنے جب ہمارے مربی ڈاکٹر ظفر الطاف نے پوچھا کہ کتنی دولت ہے تو ایک میمن ٹائیکون جن کی جنرل ایوب اور ضیا سے بہت یاد اللہ تھی، جن کا ستر کے عشرے میں پاکستان کے بائیس مالدار ترین گھرانوں میں ٹاپ پانچ میں شمار ہوتا تھا، ان سے جب پوچھا گیا کہ کتنی دولت ہے تو منمنا کر کہنے لگے ”مشکل سے دال روٹی چلتی ہے“ ۔

اس کے برعکس بلا کے ذہین، نسبتاً غیر معروف مگر اپنی ذات میں انجمن اور بے باکی میں بے مثال لیری ایلی سن جن کی کمپیوٹر لین گیویج جاوا اور جن کی ملٹائی نیشنل کمپنی اوریکل کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ جو امریکہ کے چوتھے یا پانچویں نمبر کے مالدار ترین فرد ہیں۔ ان کی شبیہ بھارت کے ایک درجہ دوم کے اداکار ہیں۔ نام نہیں بتائیں گے۔ ایسی ہی کھوج ہے تو چیٹ جی پی ٹی یا ایلان مسک کا گروک تلاش کر کے بتا دے گا کہ وہ کون ہیں۔ ان کی شکل لیری ایلی سن سے بہت ملتی ہے۔ ماں جائے لگتے ہیں۔ بیوی نے شادی بھی اسی دھوکے میں کی تھی کہ لیری کی آدھی دولت ہوئی تو امبانی والی لائن میں جگہ مل جائے گی۔ زوجۂ مایوس کہنے لگی میری بدنصیبی یہ ہے کہ صبح بیدار ہوتی ہوں تو لگتا ہے میں رات بھر لیری ایلی سن کے بسترِ آسودہ میں تھی مگر آنکھ کھول، بیدار ہو، باتھ روم سے کچن تک جب اپنے پتی پرمیشور کا سوچتی ہوں تو لگتا ہے میرا ہر سپنا کرچی کرچی ہو چکا ہے۔ شاعر رضی حیدر یاد آ گئے رات کو بیرن نگوڑی برہا کی چاندنی کی ڈسی ایسی ہی کسی سوگوار نامراد کا دکھ محسوس کر کے فرماتے تھے کہ

ہائے وہ شخص کہ نیند کی وادی میں کہیں
تیری آواز سے بیدار ہو، اور تو نہ ملے

لیری ایلی سن کی حق گوئی اور منافقین دانائی سے بد لحاظی کا یہ عالم ہے کہ کولمبیا یونی ورسٹی کے کونوکیشن میں مہمان خصوصی اس شرط پر بن کر گئے تھے کہ ان کی تقریر سے کسی کی دل آزاری ہو تو انہیں اسٹیج پر سے اردگرد کھڑے باؤنسرز دھکے دے کر پنڈال سے باہر نکال دیں۔

ایسا ہی ہوا جب انہوں نے یونی ورسٹی کی فیکلٹی اور گریجویٹس کو لوزر کا ایک بہت بڑا اجتماع کہا اور ان کی ڈگریوں کو ان کی ترقی تخلیقی نشو و نما اور اوریجنلٹی کی راہ کے کانٹے گردانا تو باؤنسرز نے انہیں دھکے دے کونوکیشن سے باہر نکال کیا۔ یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے برسوں قبل پڑھا تھا کہ دیکھا تھا مگر ان سے کی گئی گفتگو کہ چند نکات دل و دماغ پر نقش ہو کر، یاد رہ گئے۔ کسی ’پروگرام میں لیری ایلسن سے دولت اور لطف ملکیت پر چار پانچ بہت عمدہ سوال پوچھے گئے تھے۔

پاکستان کے تیسرے دولت مند ترین میمن ٹائیکون کا جواب تو یاد ہے نا۔ ”مشکل سے دال روٹی چلتی ہے“ ان سے پوچھا گیا ”آپ کے پاس کتنی دولت ہے؟“ ۔ تو انہوں نے آئیں بائیں شائیں کرنے کی بجائے اپنی دولت جو اربوں ڈالر تھی ڈالر سینٹ کی جزئیات میں کھلے عام ٹی وی پر بتا دی۔ یہاں ان سے اسی باب میں بہت دل چسپ دو ضمنی سوال بھی کیے گئے۔

سوال :اس قدر مال و زر کا کا مطلب کیا؟

جواب: دولت کمزور اور بے سمت افراد اور اداروں پر ایک تاثر چھوڑتی ہے۔ آپ کا خیال ہے اور آپ نے تعریف بھی کی کہ میرا سوٹ بہت خوبصورت اس لیے ہے کہ میں نے اسے کسی بہت بڑے ڈیزائنر سے بہت قیمت دے کر بنوایا ہو گا۔

آپ نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ تراش خراش سے تو یہ آرمانی کا لگتا ہے جب کہ میں نے یہ Flea Market (اتوار بازار) سے خریدا ہے مگر چونکہ اسے میں نے زیب تن کر رکھا ہے اس لیے اس کے بارے میں آپ کا ذہن ہر منفی تاثر قائم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ہے دولت کی پرکاری۔

سوال:اگر آپ سے یہ دولت چھن جائے؟

جواب: میری دولت میرے غلط کاروباری فیصلوں کی وجہ سے چلی جائے تو اس کا الزام میں خود کو دوں گا۔ یہ دھندے کا وے وار (گجراتی میمنی میں چال چلن) ہے۔ کاروبار میں ایسا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ لیکن اگر سرکار میری اس دولت کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے تو میں اس سرکار سے جنگ کا ابھی اور اسی وقت اعلان کرتا ہوں۔

اس موقع پر ان سے ایک بہت گمبھیر اور پیچ دار سوال پوچھا گیا۔ ان کے نزدیک دولت کا مطلب کیا ہے؟

ہم نے یہ سوال بہت مال دار لوگوں سے کئی دفعہ پوچھا مگر سوچ کا یہ نکھار اور جواب کی یہ سچائی ہر سو یکسر مفقود دکھائی دی۔ سوال یہ تھا کہ ”دولت کیا دیتی ہے؟“ ۔ لیری ایلی سن نے جانو ایک شربت حکمت سے بھرا دریا اپنے جواب میں پوری طغیانی سے بہا دیا۔ فرمانے لگے ’۔‘ دولت آپ کو تین چیزیں دیتی ہے :

1۔ انتخاب کی سہولت، ۔
2۔ بدن کا آرام اور آسودگی۔
3۔ اور قوت رسائی۔ جسے انہوں نے انگریزی میں Access کا نام دیا۔

اس پر وضاحت مانگی گئی تو کہنے لگے یہ ممکن ہے میں فون کروں تو صدر اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر مصروف ہوں اور جواب فوری نہ ملے مگر یقین رکھیں مجھے کال بیک لازماً کیا جائے گا۔ میرا فون ایسا نہ ہو گا جس کا جواب نہ دینا ان کے اختیار میں ہو۔ یہ ہے Access

اب جب سے سوشل میڈیا کے ذریعے سستی وقتی فوری اور بے تحاشا شہرت عام ہوئی ہے۔
لوگ اپنا جو بھی فن ہے اس کی ویلیو فوراً اور کیش میں پکڑنا چاہتے ہیں۔

ہم نے بہت سے افسر اور سیاست دان دیکھے۔ سن 1973 کی انتظامی اصلاحات کے بعد سول سروس سے سیاست دونوں سے خاندانی کلاس جاتی رہی۔ شکستہ دیہاتی اور معاشی پس منظر کے ایسے لوگ چھوٹی بڑی مسند ہائے اقتدار پر دکھائی دینے لگے۔ جن کے لیے سول سروس مادر پدر آزاد غریبیٔ ہٹاؤ پروگرام تھی۔ ڈاکٹر یونس کا گرامین بینک۔

ان دنوں او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر تہلکہ خیز اور دماغ کے بخیے ادھیڑ دینے والی سیریزAdolescence دکھائی جا رہی ہے۔ ضرور دیکھیے گا۔ ایسے فکر انگیز فن پارے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس سیریز نے بچوں کو بڑا کرنے میں والدین کی مجبوری۔ مردانہ اشتعال میں سوشل میڈیا کا کردار اور جیل میں نو عمر ملزم کی نفسیاتی پروفائلنگ کے بارے میں ایک گلوبل مکالمہ کی چنگاریاں بھڑکا دی ہیں

آپ چاہیں تو اس کڑوے کسیلے مشاہدے پر ہمیں انہیں الفاظ میں یاد کر سکتے ہیں جو اس میں ماہر نفسیات کو ملزم جیمی چند الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال پر چھیڑتے ہوئے کہتا ہے ”Oh you are posh“ (ارے آپ تو امارت پرست ہیں)۔

پاکستان میں یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ سب سے زیادہ میلا آدمی سفید شلوار قمیص میں خصوصیت سے دکھائی دے گا۔ ہم نے بہت ارب پتی افسروں دیکھے۔ دوست بھی تھے اور ہمارے ویری بھی۔ ان کے بارے میں آپ کو اندر کی بات بتا دیں۔ دولت اور خوش حالی کی چار علامات ہوتی ہین۔

سواری۔ گھر۔ لباس اور عورت۔

نوکری کی کمائی گئی لوٹ مار کی دولت سے مالدار ارب پتی افسروں کی ایک بڑی تعداد، نام کیا لیں، لباس میں بہت تیر ماریں گے تو کمالیہ کی کھدر یا گل احمد کے چئیرمن لٹھے کا سوٹ ان کی انتہا ہے۔ سوٹ ان میں سے کوئی کوئی پہنتا ہے۔ اس پر سستی بد رنگ ”گے“ مردوں والی گلابی جامنی ٹائی لگا کر بیڑا غرق کر لیتا ہے۔ بڑے سے بڑے افسر کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ سرکاری گھر میں رہے سو آپ کو بیشتر افسر سرکاری گھروں میں زیر حراست دکھائی دیں گے۔ ان کی نفسیات یہ ہے کہ ان کی طاقت سرکاری عہدے کی محتاج ہے۔ عہدہ ختم، ہوا تو ایک احساس عدم تحفظ کا احساس چمٹ گیا۔ بیشتر کی دولت دوست اور کاروباری پارٹنرز کھا گئے۔ ساٹھ سال بعد بدن بھی ویسا نہیں رہتا کہ کسی ڈسکو میں جائیں کسی ہوٹل میں جائیں چلو عشق لڑائیں۔ بیشتر کا بدن کمزور، اولاد جوان اور نافرمان، چنگچی رکشے جیسی بیوی بے زار اور بدزبان۔

یہی عالم ان کی سواری کا ہے ذاتی بگاٹی یا میساراٹی میں کوئی نہ ملا، نہ یہاں نہ دوبئی میں۔ سرکاری نمبر پلیٹ چمکتے ستارے مومن کی کل متاع ملازمت یہی دکھائی دی۔ اب ایک دکھ بھرا ذکرِ ناؤ نوش۔ شراب کے معاملے میں سب ہی مفتی ہیں۔ بالخصوص سرکاری ملازمین۔ شام کو اپنی پیاس بجھانے کے لیے مفت کے مے کدے ڈھونڈتے ہیں۔ کرسٹینا لیمب نے کہا تھا کہ پاکستان کی اشرافیہ بلیک لیبل کی وہسکی پر دین اور دنیا دونوں کی سدھ بدھ کھو دیتی ہے۔ اس سے آگے کا نہ انہیں پتہ ہے نہ طلب ہے۔

اب چونکہ خوف محاسبہ غائب اور لوٹ مار میں بہت آسانی ہو گئی ہے تو بیشتر بڑے گریڈ والے بیشتر افسر ان کے بچوں کی اور نوجوان افسروں کی اکثریت ناک سے لکیریں لگانے والے نشے کے حصول میں سرگرداں رہتی ہے۔

عورت آہا آہا۔ کسی کی دوستی عالیہ بھٹ یا شسمیتا سین سے نہ تھی۔ دن میں کھیپیوں کی آغوش میں مچلنے والی کم دام والی سیکس ورکر رات کو افسران عالی مقام کے دل کی دھڑکن بن جاتی تھیں۔ جان رکھیں کہ سیکس ورکر کے مال کمانے کی ایک عمر ہوتی ہے۔ شوگر اور جننگ فیکٹری کی طرح ان کے کاروبار کی ایک بینڈ وڈتھ ہوتی ہے۔ سولہ سترہ برس تا تیس۔ شام کو یہ منڈی کی سبزی ہوتی ہیں وہ بھاؤ نہیں ملتا۔

بیشتر افسران جو وٹوں سٹوں کی سنگ باری اور کزن وائف کے چنگل میں پھنس کر نکاح شرعی کر بیٹھے تھے گریڈ اٹھارہ انیس کے بعد مڈ لائف بلیو (وسطی عمر کا بحران عرف کامیابی کا نشہ) کے زیر اثر پہلے کمزور دفتروں کے ذریعے دستیاب خواتین سے عشق لڑاتے ہیں تہذیب حافی کے اشعار یاد کرتے ہیں اور پھر ان میں سے کسی چالاکو کے دام فریب میں الجھ کر دوسرا بیاہ رچا لیتے ہیں۔ ان کی دوسری بیگم بھی اتنے ہی کمزور معاشی اور خاندانی پس منظر کی عورت ہوتی ہے جتنے وہ ملازمت میں داخلے سے پہلے خود تھے۔ آپ چاہیں تو ایک دفعہ پھر ہمیں ملزم جیمی کے الفاظ میں ”Oh you are posh“ (ارے آپ تو امارت پرست ہیں ) کہہ سکتے ہیں۔

ہمارا ماننا ہے کہ شہرت اور بہت سی دولت بھی کوشش سے نہیں آتی۔ یہ عطائے ربانی کے مرحلے ہیں۔ ایں سعادت بہ زور باز و نیست

مارلن منرو جس کا درجہ امریکی ثقافت اور جان لیوا جنسی ترغیب کی ایک ایسے آئیکون یعنی منارۂ نور کا ہے جسے ساری عمر محرومیاں، دوسروں کی بد اندیشی اور غلط فہمیاں گلے سے لگائے رکھتی تھی۔ درجہ دوم کی اداکارہ شکستہ پس منظر کی عورت جس کا اپنے بارے میں یہ حسرت بھرا بیان یہ ہوتا تھا کہ ”ہائے وہ لڑکی جو اس راز سے آگاہ تھی کہ انتہائی غم ناک لمحات میں بھی کیسے خوش رہنا ہے۔ اس کے نزدیک یہ بہت اہم تھا“ ۔ شہرت میں آج بھی اس کا کوئی پاسنگ نہیں۔ دنیا سے رخصت ہوئے اب اسے ساٹھ برس سے زائد ہوئے۔ یوں تو سب ہی اسے سیکس سمبل اور امریکہ میں سنہری بالوں کی طرح روایتی تعصب کے حساب سے dumb blonde، مگر وہ ایک بہترین لائبریری کی مالک تھی اور کتابیں بہت پڑھتی تھی۔ ایک دفعہ کسی نے چیلنج کیا کہ اس کا حسن قیمتی لباس اور کیمرے کا چمتکار ہے تو اس نے آلو سے بھری بوری خالی کرا کے زیب تن کی اور فوٹو شوٹ کرایا تو سندھ کے شہر کوٹری کے شاعر قابل اجمیری مرحوم کا وہ شعر سب کو یاد آ گیا کہ

زیرِ پا چاند ستاروں کی رِدا ہو جیسے
حسن اس شان سے چلتا ہے خدا ہو جیسے۔

دن گزرے کہ حساب کتاب کے ماہرین نے تخمینہ جوڑا کہ کس خاتون کی تصاویر سب سے زیادہ شائع ہوئیں۔ مارلن منرو کا زمانہ روایتی کیمرے اور پریس کا زمانہ تھا۔ اختلاف جاری ہے کہ پرنسس ڈائنا یا مارلن منرو۔ مارلن کی پرانی تصاویر اب بھی لوگ دل سے لگائے رکھتے ہیں۔ پرنسس ڈائنا کو فلپائن دکھیاری خواتین جو خود تو دھوبی کے پرنٹ والے شلوار سوٹ اور فرشی پاجامے پہنتے والی ملتان اور کراچی کی اردو میڈیم بیبیوں میں فوقیت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ دونوں کے درمیان زمانے کا فرق ہے مارلن کا زمانہ کاغذ پوسٹر سینما پوسٹر کا دور تھا اور پرنسس ڈائنا کے زمانے میں ٹی وی اور سوشل میڈیا آن چکا تھا۔ یوں شائع شدہ تصاویر کا مقابلہ بہ لحاظ تعداد برابر ہے۔ مارلن کے زمانے میں چھ اور ایسی اداکارائیں تھی جن کی شہرت اور فنکاری کا ڈنکا بجتا تھا یعنی آڈرے ہیپ برن، ایلزبتھ ٹیلر، صوفیہ لارین، جینا لولو برجیڈا، ایوا گارڈنر، اور شہزادی گریس کیلی مگر شہرت میں کوئی مارلن کا دامن بھی نہیں چھوتی گو صوفیہ لارین ان سب سے زیادہ باکمال اداکارہ ہونے کے علاوہ اطالوی سینما کی آئیکون بھی تھی اور ایوا گارڈنر اور ایلزبتھ ٹیلر یہ دونوں امریکن اداکارئیں بھی بے حد حسین تھیِں مگر ان سب کو شہرت کے وہ مزے نہ ملے جو اپنے تابوت مرگ میں سمائی مارلن منرو آج بھی لوٹ رہی ہے۔

کبھی سوچیں تو سہی۔ یہ جو شہرت اور مقبولیت ہے یہ دراصل کس غیر یقینی اضطراب اور بے فیض طلب کا نام ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ شہرت کے طلب گار یہ مانتے ہیں کہ مقبولیت اور نام ہو گا تو ایک ایسا تفاخر ان سے جڑ جائے گا جس سے وہ انفرادی درجہ بندی کے حصول میں تو کچھ دیر کو کامیاب ہوں گے مگر یہ ایک ایسی بھیانک، اندرونی تنہائی پیدا کرے گا جس کی محرومی بہت مہلک ہوگی۔ مشہور ہوتے ہی آپ کو ہر رشتہ غیر حقیقی لگے گا۔ امریکی صدر سے جب پوچھا گیا کہ واٹر گیٹ اسکینڈل نے آپ کو کیا سکھایا تو صدر نکسن کہنے لگے کہ ”کامیابی اور شہرت آپ کا رشتہ جھوٹے دوستوں اور سچے دشمنوں سے جوڑ دیتی ہے“ ۔ شہرت کے ہر طلب گار کا المیہ ہے کہ وہ اسے مستقل انعام مان کر اسے اپنا حق مانتا ہے۔

ہم ایک مرتبہ پولینڈ کے ایک شہر گڈانسک سے وارسا آئے تو جہاز میں فضائی میزبان پوچھنے لگی ”کیا ارادہ ہے۔ چھ گھنٹے ہیں دوبئی کی اڑان میں۔ شہر میں جاؤ گے؟“ ۔ ہم نے کہا ”لے چلو گی تو کیوں نہیں۔ کہنے لگی“ عملے کو بھی حکم ہے کہ کنسرٹ ختم ہونے کے تین گھنٹے تک ہم بھی عمارت کے اندر رہیں۔ مائیکل جیکسن شہر میں آیا ہوا ہے۔ وارسا پاگل ہو رہا ہے۔ کوئی سگنل سڑک اصولوں کے تابع نہیں رہی ”۔ ہم نے کہا“ تیرے پولینڈ میں تو لوگ بہت کم انگریزی بولتے سمجھتے ہیں پھر یہ جنون کاہے کو۔ ایک بے زاری اور ناخوشگواری چہرے پر بطور نقاب اوڑھ کر کہنے لگی ”So What“

آج کل جس طرح شاہ رخ خان کے چرچے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے انہیں ہانگ کانگ کے ائرپورٹ پر ایسی کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ کوئی ان کا نام پوچھتا کہیں روکتا۔

شاہ رخ کے زمانے میں تو مقابلہ بہت ہے مگر سنہ 1955 میں حیدرآباد شہر میں میجسٹک سنیما میں دلیپ کمار کی فلم آن لگی تھی۔ اس زمانے میں بگھی یا تانگے پر فلم کے پوسٹر لٹکا کر شہر بھر گھومتے۔ مشتاقان میں فرسٹ ڈے فسٹ شو دیکھنے کا بہت جنوں رہتا۔ سب سے نچلی ٹکٹ چھ آنے کی ہوتی ان دنوں روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ لمبی لائن لگتی۔ چھوٹی بڑی کچھ ٹکٹیں سنیما کا عملہ اور کچھ لوگ بلیک کرتے۔ ٹکٹیں بلیک کرنے والے زیادہ تر مکرانی شیدی دادا گیر ہوتے۔ جب پہلے دن ٹکٹ کھلی تو ایسا فساد ہوا کہ پٹھان خریدار نے شیدی دادا گیر کا چاقو سے پیٹ کھول دیا۔ بعد میں وہ دور بھی آیا جب دلیپ کمار جیسا نستعلیق اس فلم کا ہیرو تنہا اپنے گھر پر ہوتا۔ بہت کم مزاج پرسی کو جاتے حالانکہ ایوب دور میں اس زمانے کا آئی ایس پی آر لگا رہتا تھا کہ جنرل ایوب کے نام اور کام کا ہر جگہ ڈنکا بجے ہر نائی کی دکان میں اس کی تصویر لازم ہوتی۔ اس کے باوجود دلیپ کمار کی پیشانی پر گری زلف والی تصویر ہر ہیر سیلون کا طرہ امتیاز ہوتی تھی۔ ہر جگہ جنرل ایوب سے زیادہ دلیپ کی تصاویر دکھائی دیتیں۔

ایسا ہی کچھ انڈونیشیا میں ہوا۔ انڈونیشیا کے ہر دل عزیز صدر عبدالرحیم سوئیکارنو جنہیں آپ انڈونیشیا کے جناح صاحب مان لین قطع نظر اس کے عورتوں کے معاملے میں سوئیکارنو اس حد تک دل پھینک تھے کہ مارلن منرو کو شادی اور شہریت دونوں کی پیشکش کی تھی۔ وہ ان دنوں کسی طلاق سے دکھی تھی۔ ایسا ہوتا ہے۔ پہاڑوں میں بھی لینڈ سلائیڈ ہوتی ہے۔ عورت بھی آخر انسان ہے۔

صدر سوئیکارنو کو جنہوں نے اپنے ملک کو ہالینڈ سے آزادی دلائی ان کو بھی تاریخ میں امر ہونے کا بہت ہڑکا تھا۔ ان کی تصویر بھی ان کا شعبہ اطلاعات ہر جگہ چسپاں کر دیتا۔ ایک دن کسی واقف حال نے صدر کو خفیہ پولیس کی ارسال کردہ مقبولیت کی رپورٹوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے خبر دی کہ وہ اب پہلے جیسے مقبول نہیں رہے۔ انہیں جو رپورٹس بھیجی جاتی ہیں وہ چاپلوسی اور جھوٹ کا پلندا ہیں۔

شام کو جب خفیہ ایجنسی کے چیف آئے تو سوئیکارنو نے شکایت کی کہ ان کے عملے کی رپورٹیں فراڈ ہیں۔ وہ ہرگز مقبول نہیں۔ اس پر چیف کہنے لگے کہ ”دشمن ان کی مقبولیت سے خائف ہیں کل ہی ان کا ایک افسر جکارتا کی ہیرا منڈی میں کسی طوائف کے بالا خانہ پر گیا۔ اس کے بستر کارزار پر آپ کا پورٹریٹ آویزاں تھا“ ۔ اتنا سننا تھا کہ صدر صاحب طیش میں آ گئے کہ ”میرا پورٹریٹ وہ بھی کسی طوائف کے بستر پر!“ ۔ جس وقت یہ مکالمہ ہو رہا تھا صدر کی دوست سنڈی ایڈم امریکی صحافی وہاں موجود تھی۔ چیف نے اپنی خطائے عظیم کا احساس کرتے ہوئے پیشکش کی کہ ’’دفتر جا کر اپنے دستے بھیج کر فوراً ہٹوا دیتا ہوں‘‘ صدر مسکرا کر کہنے لگے

”Let the old eyes enjoy“ ( ارے نہیں اس چشم عمر رسیدہ کو مزے لینے دو، رہنے دو۔)

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “یہ شہرت بھی لے لو، یہ دولت بھی لے لو

  • 03/04/2025 at 6:16 صبح
    Permalink

    چلئے ان گنت الفاظ کی قیود سے آزاد بلاگ سے 1500 الفاظ والے کالم میں منتقلی مبارک۔ یہ اور بات کہ گنتی کی قیود یہاں بھی نہیں۔

    آج سے کوئی سوا دو سو برس پہلے پیدا ہونے والے ایک عظیم شاعر مصطفی خان شیفتہ نے اس وقت ایک شعر کہا تھا جس کی تعریف آج کی عارضی شہرت والوں کے لئے ایک پیش گوئی تھی۔

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

    بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

    کوئی اپنے باتھ روم میں الف مادر پدر آزاد ویڈیو بناتی ہیں کوئی بطل رشید اپنی شلوار میں ہاتھ ڈالے بیٹھ کر ویڈیو بنوارہا ہوتا ہے اور بعد میں من چاہی شہرت پارہا ہوتا ہے۔

    سو شہرت کے بھوکے آج تن من نیل و نیل کرکے شہرت کی کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار بیٹھے ہیں۔

    جس طرح ہمارے بچپن میں ایک وبا بنام آشوب چشم ہوتی تھیں یا گرمیوں میں انہوری کی پھنسیاں نکلتی تھیں جو ہرجا کہ مریض کو ادھیڑ کر رکھ دیتی تھیں مگر کوئی ان کو بیماری نہیں مانتا تھا کہ سب کو علم تھا کہ اج ہے کل نہیں ہوگی ۔سن 80 کے آس پاس پوری دنیا میں ہاہا کار مچی ہوئی تھی اسکائی لیب زمین ہر گرنے والا ہے اس سے زیادہ کیا کوئی خبر ہوگی اج کسی کو یاد بھی نہیں۔ یہی کرونا کو لے لیں۔ 4 سال گزرگئے اب کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ مرض اور وبا میں یہی فرق ہے۔

    ان وبائی امراض کی طرح آج کی وائرل والی شہرت المعروف وبائی شہرت کی حیثیت بھی یکساں ہے بہ نسبت دائمی شہرت کی جیسے مارلن منرو، خسرو، سعدی یا ڈاونچی کی ہے۔

    آج کی عارضی یا وبائی شہرت کا دورانیہ بھی چند گھنٹوں یا دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔

    حریم شاہ جیسوں کو ہی دیکھ لیں۔ ان کی جس تصویر یا کرتوت کو وائرل کہہ کر پکارا جاتا ہے اسے سوشل میڈیا پر دیکھیں تو بمشکل دو سے ڈھائی ہزار لوگوں نے دیکھا ہوتا ہے۔ اللہ جانے یہ کونسا وائرل ہے ۔

    ویسے ماضی کی چھ عشوہ طراز گوریوں میں ایک نام شاید رہ گیا۔ راکیل ویلچ۔

    بقول ہمارے مرحوم دوست جواد کاظمی جب یورپ اور امریکہ میں غذائی قحط پڑا اس وقت گوشت سے محروم یار لوگ لحم خنزیر یا لحم بقرہ سے پیٹ نہ بھی بھرسکیں تو راکیل ویلچ کے گوشت سے انکھیں سینک لیتے تھے۔

Comments are closed.