خواب، محبت اور زندگی 7


خالہ کی طرح ابی بھی سرکاری ملازم تھے اور انہیں بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے۔ ابی نے تنہا پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس فیصلے کی تین وجوہات رہی ہوں گی: اول یہ کہ دادا نیشنلسٹ تھے اور قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ ویسے بھی وہ چاند والی حویلی کو چھوڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے، امیتابھ بچن کی مشہور فلم دیوار کی طرح ابی کا بھی ماں کے ساتھ رہنے کا خواب چکنا چور ہو چکا تھا۔

(ماں ان کے پاس ہوتی تو شاید اس کی خاطر وہ ہندوستان میں رک جاتے ) مگر آخری اور سب سے بڑی وجہ محمد علی جناح تھے جو دیگر لاکھوں مسلمانوں کی طرح ابی کے قائد اعظم تھے۔ پاکستان بننے کے بعد سے تو ہر کوئی بانیٔ پاکستان کے لئے قائد اعظم کا القاب استعمال کرنے کا عادی ہو گیا ہے جیسے ہندوستان میں گاندھی کے لئے ’باپو‘ یا ’مہاتما‘ کے القابات استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس دور میں ابی اور ان جیسے بہت سے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے لئے محمد علی جناح صحیح معنوں میں قائد اعظم تھے۔

ایک ایسا لیڈر جس نے انہیں ایک نئے ملک میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے اور ترقی کرنے کے خواب دکھائے تھے۔ (یہاں مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ ابی کے برعکس اپنے بائیں بازو کے پس منظر کی وجہ سے میں جناح کی ہر بات کی آنکھیں بند کر کے حمایت نہیں کر سکتی) ۔ بہر حال اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنا پر ابی نے تنہا کراچی آنے کا فیصلہ کیا لیکن ان کی پھپھیوں کی زنبیل میں ان کے لئے ابھی ایک اور شعبدہ باقی تھا۔ ان کی ایک بڑی پھپھو جو بہت عرصہ پہلے شادی کے بعد لاہور جا بسی تھیں، ان کی بڑی بیٹی ’ایس‘ ابی کی ہم عمر تھی۔

چنانچہ دہلی والی پھوپھیوں نے ابی کے کراچی آنے سے پہلے ان کا رشتہ لاہور والی کزن سے پکا کر دیا۔ خاندان بھر کو اس کی اطلاع کر دی گئی اور طے یہ پایا کہ کچھ عرصہ بعد لاہور والی پھوپھی اپنی بیٹی کو لے کر دہلی آئیں گی، ابی کراچی سے آئیں گے اور دہلی میں شادی کرنے کے بعد اپنی دلہن کو واپس لے کر کراچی چلے جائیں گے۔ ہائے آنے والے دنوں میں ہونے والی خون ریزی کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا۔ خود قائد اعظم دونوں ملکوں کے درمیان امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات کی بات کرتے تھے۔

انہوں نے اپنی بمبئی والی کوٹھی اسی لئے نہیں بیچی تھی کہ چھٹیاں گزارنے وہاں آیا کریں گے۔ فسادات سے پہلے عام لوگ بھی یہی سمجھتے تھے کہ دونوں ملکوں میں تعلقات اچھے رہیں گے اور وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آتے رہیں گے۔ کچھ لوگ تو اپنے گھروں کی چابیاں بھی اپنے پڑوسیوں کے پاس رکھوا کے آئے تھے۔ شاید اسی لئے ہماری نسل قرۃ العین کی تحریروں کی دیوانی تھی کیونکہ وہ اس دور کے نوجوانوں یعنی ہمارے والدین کی نسل کے خوابوں او ر پارٹیشن اور اس کے ٹراما کے بارے میں لکھتی تھیں۔ خود ان کا تعلق بھی اسی نسل سے تھا۔ اور اب یہ حال ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیمیں بھی ایک دوسرے کے ملک میں جا کر کھیل نہیں سکتیں اور کوئی نیوٹرل گراؤنڈ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں 2025 بی سی سی آئی نے چیمپئن شپ ٹرافی کے لئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا۔ چند سال پہلے جب میں اپنے بیٹے سے ملنے برسلز گئی تو بلجیم، جرمنی اور نیدر لینڈ کے درمیان آزادانہ گھومتے ہوئے میں یہی سوچتی رہی کہ کاش ہم جنوبی ایشیا کے باسی بھی اسی طرح آزادانہ ایک دوسرے کے ملکوں میں جا سکتے۔

آئی اے رحمان، عاصمہ جہانگیر، کرامت علی، ڈاکٹر ہارون، انیس ہارون اور سول سوسائٹی کے دیگر ایکٹوسٹس نے پاک انڈیا پیپلز فورم کے پلیٹ فارم سے اس حوالے سے کافی کوششیں کیں مگر اب تو آگے بڑھنے کی بجائے ہم اور پیچھے چلے گئے ہیں۔ سارک بھی ایک عرصہ سے غیر فعال ہو چکا ہے۔ ایک بینا سرور ہیں جو آج بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ امن کی آشا کا دیپ جلائے بیٹھی ہیں۔ عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب

انیس سال کی عمر میں ابی نے کراچی ہجرت کی۔ ادھر خالہ کو خاتون سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے کراچی آتے ہی جیٹ لائن میں سرکاری کواٹر الاٹ ہو گیا تھا۔ نانی، امی اور خالہ اس کواٹر میں رہنے لگیں۔ ابی کو مرد ہونے کی وجہ سے ایسی کوئی مراعات نہیں ملیں۔ انہیں اپنی رہائش کا انتظام خود کرنا تھا۔ یہاں تقدیر نے اپنا کرشمہ دکھایا۔ کراچی کے دفتر میں ابی کے باس، میر صاحب ہماری نانی کے رشتے کے بھائی یعنی امی کے ماموں نکلے۔ انہوں نے ہماری نانی جنہیں سارا خاندان ’آپا‘ کہتا تھا سے ابی کی سفارش کچھ یوں کی: ”زین ایک ایماندار اور محنتی نوجوان ہے۔ اسے پے انگ گیسٹ کے طور پر رکھ لو۔ اسے رہنے کی جگہ مل جائے گی اور تمہیں فاضل آمدنی مل جائے گی۔ اس میں دونوں کا ہی فائدہ ہے ”۔ آج بھی سوچتی ہوں تو یہ ایک غیر معمولی بات لگتی ہے لیکن پارٹیشن کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت نے بہت کچھ بدل کے رکھ دیا تھا۔ آج بھی کنوارے نوجوانوں کو کرائے پر مکان ملنے میں مشکل پیش آتی ہے تو ایک نئے ملک میں تین خواتین پر مشتمل گھرانے نے ایک کنوارے نوجوان کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت کیسے دی ہو گی۔

آپا ہماری نانی اتنی پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں۔ جوان بیٹے کی موت کے بعد دو جوان بیٹیوں کے ساتھ ہجرت کے تجربے نے یقیناً انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہو گا۔ وہ معاشی طور پر بھی عدم تحفظ کا شکار رہی ہوں گی۔ وہ راضی ہو گئیں اور ابی ان کے پے انگ گیسٹ بن گئے تو جناب اس طرح میرے والد اور میری امی کی ملاقات ہوئی۔

Facebook Comments HS