اس نسل کو روایتی مذہبی تہوار بیزار کن کیوں لگ رہے ہیں؟


ہماری اس نسل میں ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ”عید“ بہت بور اور بیزار کن سا تہوار ہے، انہیں عید کا دن سو کر گزارنا پڑتا ہے۔ ایسی اجتماعی سطح کی ناشکری کی گفتگو کائنات کے کانوں نے شاید ہی کبھی سنی ہو۔

انہیں ہالووین تک اکسائٹنگ لگتا ہے لیکن عید پر ان کا مزاج ایسا ہوتا ہے جیسے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ ڈوب گیا ہو۔ عام دنوں میں اچھے خاصے ہوں گے، عید والے دن نادیدہ غموں کا ہار گلے میں ڈال لیتے ہیں۔

انہیں دو تین باتیں سمجھنی چاہیے۔ پہلی یہ کہ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ زندگی میں سب سیٹ ہو گا تو ہی عید کی خوشی منانا ٹھیک ہے؟ اور آپ کو ایسا بھی کیوں لگتا ہے کہ اپنا مذہبی، تاریخی اور روایتی تہوار کسی بھی امپورٹڈ ایونٹ یا دن کے مقابلے میں بہت کم مسرت خیز ہے؟ کچھ کو عید منانا اس وجہ سے بھی مشکل لگتا ہے کہ یہ نعمت بھرا دن انہیں مانگے بنا دیا گیا۔ اور انہیں نعمتوں کی ناقدری کی عادت پڑ چکی ہے۔

جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ”کس کے لیے تیار ہونا ہے؟“ ایسوں کو مجھے کچھ بھی نہیں کہنا۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ دنیا میں ”کسی کے لیے“ نہیں بھیجے گئے، اپنے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اپنی زندگی کی لیڈ وہی ہیں۔ باقی سپورٹنگ رولز ہیں، آنے جانے والے۔

اٹھیں، تیار ہو جائیں۔ اپنے آپ کو تھوڑا پروٹوکول دیں۔ انسانی مزاج پر تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ ”خوشی“ چھوت ہوتی ہے، ایک سے دوسرے کے پاس جاتی ہے (اگر دل صاف رکھا جائے تو) خوش باش شخص سے مل کر انسان کا اپنا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ آپ ڈاؤن محسوس کر رہے ہیں تو کسی خوش مزاج، خوش گفتار کے پاس بیٹھ جائیں یا اسے کال کر لیں۔ اور اگر آپ خود ہی اچھے مزاج کے ہیں تو کسی اداس روح سے مل آئیں۔ کوئی نیکی کریں۔

نیا جوڑا ہے تو وہ پہن لیں، نہیں ہے تو کوئی بھی سوٹ جو پسند ہو وہ نکال کر پہن لیں۔ خوش ہونے کے لیے دل ہونا چاہیے، جرات ہونی چاہیے۔ ڈریسز کو اتنا سیریس لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اور یہ نا سوچیں کہ یہ یہ ہوتا تو عید کی خوشی ہوتی۔ عید کا مطلب ہی خوشی ہے، تو ایک دن کے لیے دماغ اور اس کی فکروں کو ایک طرف کر دیں اور خوش ہو جائیں۔

کوئی بامعنی عمل کریں، کسی کو فیور دیں خوشی میں دوسرا تیسرا چاند لگ جائے گا۔

کسی نے تصاویر نہیں مانگیں تو بھی بنا لیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے آپ کا سراپا سراہنا ہے تو ہی آپ خوش ہو سکیں گے۔ اور اگر کچھ زیادہ ہی دل چاہ رہا ہے کہ کوئی تعریف کرے تو بے شک مجھے ای میل کر دیں اپنی فوٹوز، میں کر دوں گی ”تریفیں“ ، اور میں بالکل سنجیدہ ہوں )

پھر سے عید مبارک

Facebook Comments HS