عید، مزاحمت اور بلوچ


چاند رات کو جب فیس بک پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پیج پر پوسٹ چیک کر رہی تھی تو دیکھنے میں آیا کہ عید کے پہلے دن وہ دنیا بھر سے بالخصوص بلوچ قوم سے اپنے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جس کا عنوان انہوں نے ”عید، مزاحمت اور بلوچ“ رکھا تھا۔ اس پوسٹ کو دیکھ کر میں سوچنے لگی کہ بلوچستان تو صدیوں سے ریاستی جبر و تشدد کے آگ میں سلگ رہا ہے، انگنت بلوچ مائیں اپنے پیاروں کی دید کو ترس رہے ہیں، اپنوں کے انتظار میں کہیں عرصہ سے عید جیسی خوشیوں سے محروم ہیں۔ بہرحال بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پوسٹ کو پڑھ کر بہت اچھا لگا کہ وہ بلوچ عوام سے اس دن مزاحمت کے لیے کہہ رہے ہیں جب پوری دنیا عید الفطر کی خوشیاں منانے میں مصروفِ عمل ہوں گے۔ ویسے بھی عید خوشی کا ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ ہر انسان دوسرے سے گلے لگ کر پورے سال میں ہونے والے کوتاہیوں کی معافی مانگتا ہے، ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔ عید تو ہنسنے ہنسانے، پیار کرنے، پیاروں سے پیار بانٹنے کا تہوار ہے، جس کا حقیقی لطف کسی فرد کو تبھی ممکن ہو سکے گا جب ایک معاشرہ مجموعی طور پر امن و سکون میں ہو۔ جہاں خاندانوں کے خاندان سے افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوں، جہاں ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہوں، جہاں بہنوں کے بھائی ریاستی تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہوں، تو ان کے لیے عید محض ایک رسمی تہوار بن کر رہ جاتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم بلوچوں کے لیے عید اذیت کا دن ہے، کیونکہ اپنے پیاروں کی غیر موجودگی کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس مزاحمتی پوسٹ کو دیکھ کر اپنا مزاحمت ریکارڈ کروانے کے لیے سوچتی رہی کہ بطورِ فرد، بطور فیمینسٹ میں کیا کروں، کیوں کہ ہم کراچی میں رہنے والے شاہد ہی اس کرب سے اب تک اتنا نہیں گزرے ہیں جس کرب میں بلوچستان جل کر رہا ہے، مگر بطور بلوچ اپنے اپنوں کا درد ہم محسوس ضرور کرتے ہیں، بلکہ اس درد میں ان کے ساتھ قدم نہ ملا کر چلنے سے ہمارے ضمیر ہمیں ملامت کرتے ہیں، گویا اچھا لگا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس یکجہتی کے اظہار کے لیے صرف باہر سڑکوں پر نکل کر دھرنا دینے کی بات نہیں کی بلکہ ہر انفرادی شخص کو اپنے طریقے سے اپنا مزاحمت ریکارڈ کرنے کی درخواست کی، جو بہت ہی خوش آئند بات ہے۔

بلوچ اور ریاستی جبر

بلوچ بالخصوص بلوچستان میں بسنے والے بلوچ کہیں عشروں سے ریاستِ پاکستان میں رہ کر غم اور مزاحمت کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ریاستِ بلوچستان کا جبراً ریاستِ پاکستان میں الحاق سے لے کر آج تک بلوچستان کا بلوچ عوام ریاستی جبر کا مختلف طریقوں سے شکار رہا ہے، میری نظر میں اتنے برسوں میں بلوچ عوام کے لیے عید جیسے خوشیوں کے موقع بھی کربناک یاد بن کر رہ چکے ہیں۔ شاہد ہر عید پر ہمارے ذہنوں میں صرف یہی سوال آتا ہے کہ کیا بلوچ کو عید منانے کا حق ہے؟ اور جواب ہمیشہ ندامت کی صورت میں ملتا ہے۔ کیوں کہ جہاں جبری گمشدگیاں ہوں، جہاں ماورائے عدالت قتل ایک عام مسئلہ ہو، جہاں حق مانگنے پر آپ مار دیے جاتے ہوں، جہاں بطورِ پُرامن شہری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر آپ جیل میں ڈال دیے جاتے ہیں وہاں کے لوگوں کے لیے کیسی خوشیاں اور کون سی عید۔

اس حقیقت کو ہر بلوچ نے تسلیم کیا ہے اگر نہیں بھی کیا تو اسے کرنا چاہیے کہ حقوق نہ ملنے تک مزاحمت جاری رکھنا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ صدیوں سے بلوچ مختلف تحریکوں کے ذریعے اپنے مزاحمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پُرامن تحریک کا کردار سب سے اہم ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی: ایک تحریک

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) ایک سماجی و سیاسی مزاحمتی تنظیم ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنے کے لیے لگ بھگ 2020 ء میں قائم کی گئی۔ ویسے تو بلوچستان میں ریاستی جبر، جبری کشیدگیوں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی جیسے مسائل کے خلاف مقامی و علاقائی سطحوں پر کہیں تحریکیں چل رہی تھیں، لیکن اس عشرے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک مربوط تنظیم کے طور پر سامنے آئی۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور چند بلوچ نوجوانوں کے اتحاد سے بنی، جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی اور بلوچ قوم کی آواز کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچانے کے لیے سرگرم ہوئے۔ اس تنظیم کا مقصد پُرامن احتجاج، مہمات، دھرنے، سیمینارز، ۔ کانفرنسز کا انعقاد کر کے بلوچستان کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے مزاحمت کرنا ہے۔

اس تنظیم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی قیادت ڈاکٹر ماہرنگ، ڈاکٹر صبیحہ، سمی بلوچ، بیبو بلوچ، سیما بلوچ جیسی بلوچ نوجوان خواتین کر رہی ہیں۔ جس کے سبب ہر گھر سے بلوچ خواتین کا نکلنا ممکن ہو سکا۔ انہیں اپنی آواز مل گئی، وہ آواز جو صدیوں سے قید تھی، اپنے قائدین کے پیچھے نکل کر آواز بلند کرنے میں ہر عام عورت اپنا حصہ ڈالنے لگی، اس لیے بھی یہ تنظیم تنظیم نہیں بلکہ تحریک بن گئی، بلوچ خواتین کی تحریک جن کا ساتھ ہر بلوچ نوجوان مرد، بچے اور کماش نے دینا اپنا فرض سمجھا۔ 2020 ء سے اب تک کیے گئے اس تنظیم کے سرگرمیوں پر نظر دوڑایا جائے تو اِن کی طرف سے ریاست میں کہیں بھی کوئی دنگے فساد نہیں کیے گئے، خواہ 2023 ء میں تربت سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے اسلام آباد میں کیے جانے والا مزاحمتی لونگ مارچ ہو یا 2024 ء میں گوادر میں ہونے والا راجی مچی، دالبندین میں کیا جانے والا راجی دیوان یا اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے کیا جانے والا 2025 ء کا مظاہرہ۔ ہر عمل ایک پُرامن مزاحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن ان کے ہر عمل میں ریاستی جبر کے واضح مثال موجود ہیں جنہیں میں یہاں دہرانا نہیں چاہوں گی۔ موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو ریاست نے ان کے پر امن مظاہروں اور ریلیوں پر اب اتنا دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے کہ اگر یہ باہر نکل کر مزاحمت کی بات بھی کرتے ہیں تو فوری اٹھا لیے جاتے ہیں۔ مارچ 2025 ء کا پورا مہینہ جہاں مسلمان روزے رکھ کر عبادات میں مصروفِ عمل تھے، وہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اس قدر اضافہ کیا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو احتجاجی مظاہروں کے لیے باہر نکلنا پڑا اور ہر مظاہرے میں نہ صرف اس تنظیم بلکہ عوام کو بھی گھسیٹ گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالنا شروع کیا گیا۔ ڈاکٹر ماہرنگ جو صرف اس تحریک کی نہیں بلکہ بلوچ عوام کی قائد ہیں، ان سے لے کر سمّی دین محمد بلوچ، بیبو قمبرانی، لالا وہاب، بیبرگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور کہیں کارکنوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچایا گیا۔

جبر کی انتہا کو برداشت کرتے ہوئے آج عید کے دن بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور اب بھی اپنے تنظیم کے مقصد زندہ رکھتے ہوئے انہوں نے بلوچ عوام سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کی بازیابی کے لیے پُرامن مزاحمت کی اپیل کی ہے۔

ملیر سے لے کر لسبیلہ، لسبیلہ سے پنجگور، پنجگور سے قلات، قلات سے کوئٹہ، کوئٹہ سے بولان و تافتان تک، کون سا ایسا علاقہ نہیں تھا جہاں بلوچ عوام نے باہر نکل کر ریاست سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کو بازیاب کرانے کی پُرامن مزاحمت نہ کی ہو۔

مزاحمت کیوں ضروری ہے؟

بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، گو کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پر امن تحریک سے قبل ان مظالم کو اس قدر ریاستی و بین الاقوامی پذیرائی نہیں ملی تھی مگر اب ہر فرد ان مظالم کی گواہی دیتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی قوم کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ ان مظالم کو خاموشی سے برداشت کرنا استحصالی نظام کو مزید تقویت دینے کے مترادف ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ نوجوان اور سیاسی تنظیمیں مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مزاحمت ناگزیر ہے، خاموشی ظالم کو طاقتور بناتا ہے اور وہ انتہا کو بھی پار کر دیتا ہے، ان کا خاموش ہونا اس جبر کو ہمیشہ کا معمول بنا دے گا، غلامی سے آزادی ہر فرد کا حق ہے اور یہاں تو قوم کی بات آتی ہے۔ مزاحمت کے بغیر نہ تو انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہے اور نہ ہی قومی شناخت۔ بلوچ قوم کے لیے فخر کی بات ہے کہ آج بھی نوجوانوں نے اپنے بقا کے لیے پُرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کوئی غیر سیاسی یا غیر قانونی مزاحمت کی بات نہیں کرتا بلکہ بلوچ قوم کے حقوق کی بحالی کی بات کرتا ہے جو کہ ہر سیاسی تنظیم کا آئینی حق ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری کے آئینی حقوق کا حصہ ہے، ریاست اپنے جبری ہتھکنڈوں کو استعمال کر کے جس طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کو زنداں میں ڈال رہی ہے وہ انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین شکل ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے تمام قوموں، انسانی حقوق کے محافظوں، اور آزادی و انصاف کے علمبرداروں کو بلوچستان کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا ہو گا۔ انہیں سمجھنا پڑے گا کہ بلوچ کیوں یہ پُرامن جنگ لڑ رہا ہے، کیوں اسلامی ملک میں رہتے ہوئے عید کے دن اس موضوع کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنا تھیم بنایا؟ شاہد عید، بلوچ اور مزاحمت ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ عید کی خوشیوں کے بیچ اگر کہیں درد ہے تو وہ بلوچ کا ہے۔ یہ ایک ایسا درد ہے جو اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ مزاحمت کسی ایک فرد یا گروہ کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی بقا کی جنگ ہے۔

نہ صرف بلوچ بلکہ ہر درد رکھنے والے انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ بلوچ کے اس مزاحمت کا حصہ بنیں، بلوچ کی آواز کو دنیا تک پہنچائیں، اور ریاستی جبر کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکہ مزاحمت ہی زندگی ہے۔

Facebook Comments HS