کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟
سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور پہ ہی صرف پیش کیا جاتا ہے۔ اس تھیوری کو تنقیدی نگاہ سے خال خال ہی دیکھا جاتا ہے۔ اسی سبب سٹوڈنٹس مِن و عِن سگمنڈ فرائیڈ کی باتوں کو ناصرف ازبر کرلیتے ہیں بلکہ اس کا عام زندگی میں بھی اطلاق کرتے ہوئے ملتے ہیں۔
اپنے اس فیچر میں چند دلائل اور مثالوں کے ساتھ سائیکو اینالیسس کو تنقیدی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اور اس کے اندر پائی جانے والی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی سعی کی جائے گی۔ بالخصوص ادبی تھیوری کے پیشِ نظر تاں کہ آج کے مصنفین اور سٹوڈنٹس اندھی تقلید کی بجائے سوال اٹھانے کی ہمت کرسکیں۔
ان پہ پہلا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے جنسی خواہشات یعنی Libido کو بنیادی عنصر قرار دیا ہے۔ جسے ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ سادہ کر دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پہ Oedipus Complex کے مطابق اک بیٹا اپنی ماں کی طرف زیادہ کشش محسوس کرتا ہے جب کے والد کے خلاف حسد یا رقابت محسوس کرتا ہے۔ اس نظریہ کا جائزہ اگر ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے ہیملٹ کا لیا جائے تو غیر موثر معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہیملٹ کو اپنی ماں سے جذباتی کشش محسوس ہوتی تو اس کا رویہ تمام کہانی میں یکساں رہتا ہے اور کھچاؤ والا نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ وہ تو اپنے باپ کے ناحق قتل کی تلاش میں مزید خلیج محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اسی کمپلیکس کے ذریعے دیکھا جائے تو کہانی میں پیش آنے والی سیاسی اور اخلاقی الجھنیں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ صرف لاشعوری جذبات سے نہیں بلکہ فلسفہ، سیاست اور اخلاقی ذمہ داریوں سے متاثر ہے جو کہ بلاواسطہ سوپر ایگو کی طرف بھی اشارہ دیتی ہیں۔ اگر ہم اس تھیوری میں سیاسی، سماجی اور وجودی فلسفہ کو بھی زیرِ بحث رکھیں تو مزید جامعیت مل سکتی ہے۔
اس عظیم انسان کی تھیوری کا دوسرا قابلِ ذکر پہلو شخصیت کی تشکیل ہے۔ بقول فرائیڈ ہمارے بچپن کے تجربات بالخصوص والدین سے رہنے والے تعلقات ہماری شخصیت سازی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر کسی شخص کو بچپن میں سختی سے پالا گیا تو فرائیڈین تجزیہ کے مطابق وہ بچہ مستقبل میں جرائم، ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گا۔ حالاں کہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ہم بعد کی عمر میں بھی سماج سے اثرات لیتے ہیں اور ان اثرات سے ہماری شخصیت میں مثبت یا منفی رجحانات واضح ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں ہماری تعلیم میں کتب کیسی شامل ہیں یا ہم نوجوانی میں کیسے لوگوں کے ساتھ صحبت میں رہے یا مجموعی طور پہ باقاعدہ شعور ملنے پہ سوسائٹی کو کیسا پایا تھا۔ اگر ہم ادبی تجزیے والدین کے ساتھ بنے تعلقات کے ساتھ ساتھ اس وقت کی سیاست اور سماجی ماحول کو دیکھیں تو ادبی تھیوری اپلائے کرنے سے مزید بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ایک تیسرا نکتہ جنسی خواہشات کو ہر جذبے سے لنک کرنے میں ہے۔ فرائیڈین تجزیہ کے مطابق ہمارے اندر پلنے والی محبت، حسد، نفرت بلکہ تخلیقی صلاحیتیں بھی جنسی خواہشات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر کوئی انسان شعر و شاعری کر رہا ہے تو فرائیڈین تجزیہ اسے صرف رومانوی یا جنسی خواہشات میں فریم کرے گا۔ جب کہ مشرق کی شاعری میں ذکر بالا پہلوؤں کے علاوہ بھی سنجیدہ پہلو دیکھے گے ہیں۔ حافظ شیرازی، مولانا روم اور علامہ اقبال کی شاعری کا مرکز روحانی اور فلسفیانہ موشگافیوں سے بھرپور ہے۔ اگر ہم اس تھیوری کو صرف جنس کی خواہشات سے انٹرلنک کرنے کی بجائے فکری، روحانی اور علمی خیالات سے پھیلائیں تو مزید کشادگی کی امکانات پیدا ہوں گے۔
وہیں Dream Interpretation یعنی خوابوں کی تعبیر میں مشرق اور مغرب میں گہرا تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کے مطابق اگر خواب میں پانی دیکھا جائے تو وہ لاشعور کی دبی ہوئی خواہشات کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ اور پانی کی صورت میں کوئی دبی جنسی خواہش ہے۔ مگر مشرقی نکتہ نظر سے پانی اک روحانی ہدایت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
پھر باقاعدہ سائنسی طریقہ یہ ہے کہ جب بھی خیال پیش کیا جائے تو اسے تجربات سے گزار جائے۔ جب کے فرائیڈ کے بارے میں ایک اعتراض یہ بھی سامنے آتا ہے کہ وہ زیادہ تر مریضوں کے ذاتی کیس اسٹڈیز پر مشتمل ہے۔ جو کے عمومی سائنسی طریقہ کار کے مطابق نہیں بنتا ہے۔ عام سائنسی طریقے کے مطابق درج زیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں :
الف) : تجرباتی طریقوں کا استعمال کرنا: تجرباتی نفسیات میں Controlled Experiments کیے جائیں۔ جہاں یہ دیکھا جائے کہ لوگوں مختلف طرح کے نفسیاتی دباؤ میں کیسا ردِ عمل دکھاتے ہیں۔
ب) : شماریاتی تجزیہ اور ڈیٹا سائنس کا اطلاق: فرائیڈ کے اکثر نظریات ذاتی مشاہدات اور مفروضوں پہ مبنی ہیں۔ حالاں کہ اسے Large Scale Statistical Analysis پہ جانچا جائے۔ اک تجویز کے طور پہ ڈیٹا سائنس اور مشین لرننگ کو استعمال کر کے ہزاروں لوگوں کے رویوں، خوابوں اور نفسیاتی مسائل کا تجزیہ کیا جائے۔ جیسے خوابوں کی تعبیر پہ اک بڑی آبادی میں ڈیٹا اکٹھا کیا جائے کہ کیا لوگ واقعی جنسی دباؤ کی وجہ سے ہی خواب دیکھتے ہیں یا دیگر وجوہات بھی ممکنہ طور پہ پائی جائیں گی۔
ج) : ایک ایسی سٹڈی کی جائے جس میں مشرق اور مغرب کا موازنہ کیا جائے۔ یا اسے مغرب کے زیرِ اثر دیکھتے ہوئے صرف تجربات نہ ہوں اور Oedipus Complex کو سمجھا جائے کہ آیا اک بچہ اپنے ماں سے انسیت محسوس کرتا ہے اور باپ سے دوری ہوتی ہے اور اسی طرح اک بیٹی، باپ کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور ماں سے دور ہوتی ہے۔ یا اس کے علاوہ سماجی تشکیل اور ڈھانچے کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ اور ان تجربات کو Double Faced Studies کی جائیں جہاں محققین کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کن مریضوں کا تجزیہ کر رہے ہیں تاں کہ نظریاتی تعصبات سے پاک نتائج سامنے آ سکیں۔
اگر ہم پائلو کوئیلو کے ناول ’الکیمسٹ‘ پہ نفسیاتی تھیوری کا اطلاق کرنے کی سعی کریں تو اس میں جدید دنیا کے مطابق اپلائے کرنے میں خامیاں محسوس ہوتی ہیں۔ اگر آپ نے یہ ناول پڑھ رکھا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ سانتیاگو ایک خواب دیکھتا ہے اور اس کی تلاش میں سفر کرتا ہے۔ یہاں تین ایسے مواقع ملتے ہیں جو فرائیڈ کی تھیوری کو Outdated ثابت کرتے ہیں :
1) : ناول کے ہیرو کا سفر جنسی دباؤ یا لاشعوری تصورات کی بجائے Spiritual Quest اور ذاتی تقدیر سے جڑا ہوا ہے۔
2) : گو یہ کہانی خوابوں کی تقدیر پہ ہی مبنی ہے جسے سگمنڈ Dream Interpretation کا نام دیتا ہے۔ مگر یہاں لاشعوری کے ساتھ ساتھ ماورائی پیغامات یعنی Transcendental ملتے ہیں۔
3) : تھیوری کے بانی کے مطابق سانتیاگو کا سفر کرنا محض Psychological Pleasure ہونا چاہیے۔ مگر ہم ناول کو باریکی سے پڑھیں تو ہمیں خودی یعنی Self۔ actualization اور روحانی سفر کے طور پر دیکھتے ہیں۔
المختصر، ایسے بے شمار ادبی کام ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سگمنڈ فرائیڈ کی تھیوری میں عالمگیریت کے ساتھ ساتھ درج بالا کافی نقائص ہیں۔ اسے جدید نفسیات کے ساتھ ملاپ کر کے ہی اپ ڈیٹڈ بنایا جاسکتا ہے۔


