افغان پنا گزینوں کی بے دخلی: ایک انسانی بحران


پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ان لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو ملک سے نکالا جائے جو جنگ اور عدم استحکام کے باعث کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ یہ اقدام ان کی زندگیوں پر شدید اثر ڈال رہا ہے اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ہزاروں افغان پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی، جن کے سفری کاغذات مکمل تھے اور جو روانگی کے لیے تیار تھے۔ ان میں زیادہ تر وہ افراد شامل تھے جو طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل امریکی فوج یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ طالبان کی واپسی کے بعد ، جان کے خوف سے وہ افغانستان سے فرار ہو گئے تھے۔ اب ان میں سے کئی پاکستان میں موجود ہیں اور امریکہ جانے کے انتظار میں ہیں، لیکن ان کے مستقبل پر غیریقینی کے بادل چھا چکے ہیں۔

دنیا بھر میں جبری بے دخلی اور پناہ گزینی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، اس وقت دنیا میں 120 ملین سے زائد افراد جنگ، تنازعات، سیاسی تشدد اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال ایک بڑے انسانی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے۔

پناہ گزین خود سے پیدا نہیں ہوتے، بلکہ عالمی طاقتوں اور علاقائی سیاست کے نتیجے میں انہیں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ افغان مہاجرین کا معاملہ بھی بین الاقوامی طاقتوں کی چپقلش اور علاقائی مفادات کی وجہ سے پیدا ہوا۔ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف امریکہ، یورپ، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ طور پر افغانستان کو میدانِ جنگ بنایا۔ اس تنازعے نے لاکھوں افغانوں کو ملک بدر ہونے پر مجبور کیا، جن میں سے تقریباً چار ملین پناہ گزین پاکستان آ گئے۔ جب تک سوویت یونین افغانستان میں موجود تھا، مغربی ممالک اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کو ان مہاجرین کی مدد کے لیے مالی امداد فراہم کرتے رہے۔ تاہم، سوویت یونین کے انہدام کے بعد ، مغربی دنیا کی دلچسپی افغانستان میں کم ہو گئی، اور ملک خانہ جنگی اور عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ نتیجتاً، افغان مہاجرین کی بڑی تعداد واپس نہیں جا سکی اور جو واپس گئے تھے، وہ بھی عدم استحکام اور مسلسل تصادم کے باعث دوبارہ ہجرت پر مجبور ہو گئے۔

پاکستان کی افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کی پالیسی اور امریکہ کی جانب سے ان کے داخلے پر پابندی، دونوں اقدامات ان پناہ گزینوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد وہ ہیں جنہوں نے طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی اداروں اور امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔ طالبان کی واپسی کے بعد ان کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئیں، جس کی وجہ سے وہ اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اگر پاکستان انہیں زبردستی افغانستان واپس بھیجتا ہے، تو ان کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں سخت شرعی قوانین کے باعث خواتین کے کام کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے۔ اگر افغان پناہ گزینوں کو زبردستی افغانستان بھیج دیا گیا، تو خواتین شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گی۔ پاکستان میں، اگرچہ ان کی زندگی آسان نہیں، لیکن یہاں وہ کم از کم کسی حد تک آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکتی ہیں اور روزگار کے مواقع تلاش کر سکتی ہیں۔

تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اپنی بچیوں کو کسی حد تک تعلیم دلوا رہے ہیں، جو ان کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر انہیں افغانستان واپس بھیج دیا گیا، تو لڑکیوں کی تعلیم رک جائے گی، کیونکہ طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

مزید برآں، افغانستان میں معاشی حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین سخت محنتی ہیں اور ہر قسم کا کام کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ کئی پناہ گزینوں نے اپنی محنت سے کاروبار قائم کر رکھے ہیں اور وہ پاکستان کی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر انہیں زبردستی نکال دیا گیا، تو وہ شدید معاشی مشکلات میں گھر جائیں گے، کیونکہ افغانستان میں نہ ان کے پاس گھر ہیں اور نہ کوئی معاشی سہارا۔ دوسرے طرف پاکستان کو بھی معاشی نقصان پہنچے گا۔

جو افغان مہاجرین پاکستان میں کئی دہائیوں سے مقیم ہیں، انہیں اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق پاکستانی شہریت دی جانی چاہیے۔ تقریباً دو نسلیں پاکستان میں پیدا ہو چکی ہیں، جن میں سے بہت سے افراد نے کبھی افغانستان نہیں دیکھا۔ اگر انہیں افغانستان واپس بھیجا گیا، تو ان کے لیے وہاں نئی زندگی کا آغاز کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ اصولی طور پر، جو افغان مہاجرین پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، انہیں شہریت دے کر مستقل قیام کی اجازت دینی چاہیے۔

افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کا مسئلہ محض ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے۔ اس مسئلے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر افغان مہاجرین کو زبردستی افغانستان بھیج دیا گیا، تو نہ صرف ایک انسانی المیہ جنم لے گا، بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کا ایک مستقل اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے، تاکہ ان پناہ گزینوں کو محفوظ اور باعزت زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

Facebook Comments HS