پاکستان کی تعلیمی اصلاحات: عالمی معیار کی طرف ایک مشکل مگر ضروری سفر


تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی پہلی سیڑھی ہے جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے اُنہوں نے تعلیم کو ہی اولین ترجیح دی ہے۔ جب بھی کسی معاشرے میں کوئی برائی جنم لیتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ جہالت ہی ہوتی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جہالت بذات خود ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ دُنیا کا ہر مذہب تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے بلکہ اسلام نے تو تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض کر رکھا ہے اور پہلی وحی میں برائیوں کا ذکر کرنے کی بجائے علم کی طرف ہی توجہ دلائی کیونکہ جب علم آئے گا تو باقی برائیوں کا آہستہ آہستہ خود ہی سدباب ہو جائے گا۔ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کو ہی بُنیاد بنا کر ترقی کی منازل کو طے کیا ہے۔ تعلیم ہر انسان چاہے مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب کا بُنیادی حق اور ضرورت ہے۔ مگر پاکستان کا تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے بنیادی مسائل کا شکار رہا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو نہ صرف ملک کی تعلیمی حالت کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ اس کا اثر ہمارے معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی استحکام پر بھی پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح پر ہماری جامعات کا معیار کہیں نہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے، اور اس کی بڑی وجہ وہ مسائل ہیں جو ہماری تعلیمی پالیسیوں، انتظامی نا اہلی، اساتذہ کی تربیت، وسائل کی کمی اور سیاسی مداخلت کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ اگر ہم دنیا کی دیگر بہترین جامعات کی کامیاب مثالوں کی طرف دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیمی اصلاحات کے ذریعے ہم بھی اپنے تعلیمی اداروں کو عالمی سطح پر تسلیم کروا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں مختلف شعبوں میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کا بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جو کہ ہماری تعلیم اور معاشرتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے

جیسے عالمی اداروں میں QS World University Rankings اور Times Higher Education Rankings

پاکستانی جامعات کی درجہ بندی ابھی بھی نیچے ہے۔ جب ہم عالمی معیار کی جامعات کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی جامعات نہ تو تحقیقی کام میں اُن کے مساوی نتائج پیدا کر رہیں ہیں اور نہ ہی وہ عالمی معیار کی تدریسی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔ پاکستان میں تعلیمی ادارے زیادہ تر روایتی سلیبس پر چل رہے ہیں، جو طلباء کو نہ صرف جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرتا بلکہ اس میں اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کی تربیت بھی شامل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے تعلیمی اداروں میں مسلسل سرمایہ کاری کر کے انہیں عالمی سطح پر مسابقتی بنایا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے

سب سے اہم شعبہ تحقیق کا ہے اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی کمی نے پاکستانی تعلیمی اداروں کو عالمی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تحقیق کے حوالے سے پاکستان میں حالات خاصے مایوس کن ہیں۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تحقیق کے بغیر کوئی بھی تعلیمی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں تحقیق کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس کی بدولت وہاں کے تعلیمی ادارے عالمی سطح پر سر فہرست ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی جیسی جامعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ تحقیق کے لیے وسائل کی فراہمی اور اس پر توجہ مرکوز کرنے سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ان اداروں کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔

پاکستان میں تحقیق کے شعبے میں جو کمی ہے، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے ادارے نہ تو تحقیق کے لیے درکار وسائل فراہم کر پاتے ہیں اور نہ ہی وہاں تحقیق کا وہ ماحول موجود ہے جو عالمی سطح پر کامیاب تحقیقی منصوبوں کا حصہ بن سکے۔ اس کے علاوہ، تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے اساتذہ کی تربیت اور اس شعبے میں خصوصی فنڈز کی ضرورت ہے، جو پاکستان میں ابھی تک ایک خواب ہی ہیں۔ اس لیے ہمیں تحقیق کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کرنی ہوں گی تاکہ ہماری جامعات بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی کام کر سکیں۔

وسائل کی کمی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے پاکستان کے تعلیمی ادارے وسائل کی کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر مسابقتی نہیں بن پا رہے۔ جہاں دیگر ممالک میں جامعات کو تحقیق کے لیے مضبوط فنڈز دیے جاتے ہیں، وہاں پاکستان میں زیادہ تر تحقیق صرف محدود وسائل کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ عالمی معیار کی تحقیق اور تدریسی مواد فراہم کیا جا سکے۔ اور تحقیق کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکومت کو تعلیمی اداروں میں تحقیق کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرنا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی خاطر خواہ اضافہ بھی ناگزیر ہے کیونکہ معاشی مسائل اساتذہ کی کارکردگی میں خاطر خواہ کمی کا سبب بھی ہیں۔ عالمی جامعات میں تحقیق کا معیار اس بات پر منحصر ہے کہ ان کے پاس کتنے وسائل ہیں اور وہ کتنی ترقیاتی تحقیق کر رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اس سمت میں سوچنا ہو گا۔

اگلا بڑا مسئلہ نصاب میں جدیدیت کی کمی کا ہے پاکستان کا نصاب اس وقت عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ ہمیں سائنسی، تکنیکی، اور معاشرتی مضامین کے علاوہ طلباء کو اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ، ہمیں نصاب میں جدید کاروباری اور ٹیکنالوجی کے مضامین کو شامل کرنا ہو گا تاکہ طلباء عالمی سطح پر اپنے آپ کو مسابقتی سمجھ سکیں۔ اس لیے نصاب میں عالمی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں کرنی ہوں گی کیونکہ اس کے بغیر ترقی کی منازل طے کرنا قدرے ناممکن ہو گا۔ اور اس میں صرف سائنسی مضامین ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ معاشرتی، اخلاقی اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوعات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طلباء جامع علم حاصل کر سکیں اور انہیں عالمی سطح پر کام کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اس کے مساوی اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ان کی تربیت میں نہ صرف تدریسی مہارتیں شامل کی جانی چاہئیں بلکہ جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور تدریسی تکنیکوں پر بھی ان کی فنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اس لیے نصاب کو جدید دنیا کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہو گا تاکہ طلباء عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں کا ایک اہم مسئلہ سیاسی مداخلت ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیمی فیصلے میرٹ کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے اداروں کے انتظامی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے۔ یہ مداخلت نہ صرف اداروں کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہونے میں رکاوٹ بناتی ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت بڑھ جاتی ہے تو اس کے اثرات تعلیم کے معیار پر پڑتے ہیں اور ادارے ترقی کی راہ میں رک جاتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال موجودہ سندھ حکومت کا جامعات میں بیوروکریٹ کو وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات کرنے کا فیصلہ ہے۔ اور اس فیصلے کے خلاف ملک بھر کے جامعات کی اساتذہ تنظیموں کا احتجاج رکارڈ کا حصہ ہے جس میں ان تنظیموں نے حکومت پر اس فیصلے کے ذریعے جامعات میں سیاسی مُداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں کو سیاسی اثرات سے آزاد کرنا ضروری ہے تاکہ یہ ادارے صرف تعلیمی معیار کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں اور اپنے طلباء کو عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ اور اس کے لیے یہ لازم ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کو خودمختاری دے اور ان پر سیاسی دباؤ کا خاتمہ کرے۔ تعلیمی اداروں کو سیاسی اثرات سے آزاد کرانے سے ان کے اندر تحقیق اور تدریس کے لیے مزید بہتر ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی نظام کا ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری جامعات اور صنعتوں کے درمیان تعلق بہت کمزور ہے۔ عالمی سطح پر کامیاب تعلیمی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اس علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنا ہے۔ جب تعلیمی ادارے صنعتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، تو ان کے طلباء کو نہ صرف عملی تجربہ ملتا ہے بلکہ صنعتوں کو بھی ہنر مند اور تربیت یافتہ لوگ ملتے ہیں۔

مثال کے طور پر، متحرک اور مضبوط انڈسٹری۔ اکیڈیمیا تعلق والے ممالک جیسے جرمنی نے اپنے تعلیمی نظام کو صنعتوں کے ساتھ مربوط کر کے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے تعلیمی ادارے عالمی سطح پر مسابقتی ہیں اور ان کے طلباء کو روزگار کے لیے بہترین مواقع ملتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر ہم تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کریں تو یہ طلباء کو عملی دنیا کی ضروریات سے ہم آہنگ کرے گا اور ملک میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو پورا کرے گا۔ لہذا تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں کے درمیان ایک موثر اور متبادل اشتراک عمل قائم ہو سکے۔

پاکستان کی تعلیمی اصلاحات کا سفر ایک طویل اور مشکل راستہ ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں۔ ہمیں عالمی سطح پر اپنی جامعات کو تسلیم کرانے کے لیے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہو گا اور اس کے لیے ہمیں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، انڈسٹری کے ساتھ اشتراک اور تحقیق میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات کرنا ہوں گے۔ تعلیم کی طاقت کو پہچانتے ہوئے، ہم نہ صرف اپنے تعلیمی اداروں کو عالمی سطح پر تسلیم کرا سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک کی معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیم کا ایک بنیادی کردار معاشرتی اصلاحات میں ہوتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی تعلیمی حالت معاشرتی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں میں بیداری اور شعور پیدا کرتا ہے۔ معاشرتی مسائل جیسے غربت، بے روزگاری، عدم مساوات اور سیاسی کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔

دنیا بھر میں تعلیم نے جو تبدیلیاں لائی ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ فن لینڈ کی مثال لیجیے، جہاں تعلیمی نظام نے پورے معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام نہ صرف دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، بلکہ وہاں کی حکومت نے تعلیم کو ایک اہم قومی ترجیح بنا لیا ہے۔ فن لینڈ میں تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ طلباء کو حقیقی زندگی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ وہاں کے تعلیمی ادارے نہ صرف علمی ترقی کی طرف توجہ دیتے ہیں، بلکہ طالب علموں کو اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں، جس کا اثر پورے معاشرتی نظام پر پڑتا ہے۔ اگر پاکستان میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کی جائیں تو یہی نظام ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں بھی مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ جب ہمارے تعلیمی ادارے عالمی معیار کے مطابق تعلیم دیں گے، تو ہمارے طلباء معاشرتی مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھیں گے اور ان کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

Facebook Comments HS