اگر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے


آج سے بیس پچیس سال پہلے ہر وہ بچہ جو اپنی عمر کے بچوں سے مختلف نظر آتا تھا، ابنارمل کہا اور سمجھا جاتا تھا، اس کے رویے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نہ تھا، ہاں یہ اندازہ ضرور تھا کہ ہر ابنارمل بچہ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا، کوئی بول نہیں سکتا، کوئی غصے کا تیز ہے، کوئی پڑھ لکھ نہیں سکتا اور کسی کو کوئی اور مسئلہ ہے جو باقی بچوں کو نہیں ہے۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی ایسے بچوں کے لئے چند ایک اسکول تھے، جہاں تک ہر کسی کی رسائی نہ تھی، اور کچھ والدین اپنے بچوں کو وہاں بھیجنا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ذہنی معذور بچوں کے درمیان ان کے بچوں کی حالت بہتری کے بجائے بدتری کی طرف جائے گی۔

نہ اساتذہ ایسے بچوں کو پڑھانے یا ان پر خصوصی توجہ دینے کی کوشش کرتے تھے اور نہ ہی والدین ان کی مختلف ذہنی حالت کے بارے میں زیادہ جان پاتے تھے۔

پچھلے چند سالوں میں جب تکنیک اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو جکڑ لیا تب بہت سی ایسی چیزوں سے روشناس ہونے کا موقع ملا جو پہلے وہم و گمان میں نہ تھیں۔

اندازہ ہوا کہ محلے میں رہنے والا بچہ اے۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی، جب کہ خاندان کی دعوتوں میں ملنے والی لڑکی ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہے، اسکول میں ساتھ پڑھنے والا ایک دوست آٹسٹک تھا جبکہ دوسرے شہر رہنے والی کزن کا بیٹا ڈسلیکزک ہے، جب ان مختلف ناموں کا پتہ چلا تو احساس ہوا کہ ہم ان سب بچوں کو ابنارمل کہتے ہیں لیکن سائنس اور تحقیق نے ان سب کی حالت کے لئے ایک مختلف نام تجویز کیا ہے، ایسے تمام لوگ ”نیورو ڈائیورسٹی“ کے زمرے میں آتے ہیں، یہ ابنارمل نہیں ہیں بلکہ ان کے ذہن ہم سے مختلف ہیں، اور یہ سب اپنی اپنی جگہ نارمل ہیں۔

نیورو ڈائیورسٹی کا مطلب ہے کہ ذہن کے وہ سارے تار جنہیں ابتدائی سالوں میں اپنی اپنی جگہ پر جڑنا تھا، وہ غلط سوئچ سے جا کر جڑ گئے، یوں دماغ میں موجود سرکٹ مختلف طریقے سے کام کرنے لگا، اور روز مرہ کی وہ ساری چیزیں اور کام جو ہم ایک انداز میں کرتے ہیں، نیورو ڈائیورس بچے مختلف انداز میں کرنے لگے۔

اس بات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ تاکہ ہم ان بچوں کے لئے زندگی آسان بنا سکیں اور انہیں بھی اس معاشرے کا کارآمد فرد بننے میں مدد دے سکیں، جبکہ ہمارا طرزِ عمل ہمیشہ اس سے مختلف ہی رہا ہے۔ ہم ایسے بچوں کو ناکارہ سمجھ کر انہیں ہر عملی میدان، ہر دعوت اور ہر اچھی چیز سے ”ایکسکلوڈ“ کر دیتے ہیں، جبکہ ساری دنیا انہیں ”انکلوڈ“ کرنے پر توانائیاں صرف کر رہی ہے، تعلیم کا میدان ہو یا عملی زندگی کا، ہر جگہ ایسے بچوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

2 اپریل کا دن ساری دنیا میں آٹزم کے بارے میں شعور اور آگاہی پھیلانے کے لئے مختص ہے۔ ایک ہی سال میں پیدا ہونے والے دو بچوں کو آٹزم سے متاثر دیکھنے کے بعد اور پھر بین الاقوامی اسکولوں میں انہیں باقی بچوں کے ساتھ پڑھانے کی وجہ سے انہیں بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (اے ایس ڈی) دماغی سرکٹ کی ایسی ترتیب ہے جس میں بچے لوگوں سے میل جول میں مشکل محسوس کرتے ہیں یعنی باآسانی گھل مل نہیں پاتے، بات چیت میں دشواری ہوتی ہے اور بار بار ایک ہی عمل دہراتے ہیں۔ اس کیفیت کے ساتھ ”سپیکٹرم“ کی اصطلاح استعمال کرنے کا مقصد ان علامات میں وسیع تغیر کی عکاسی کرتی ہے، یعنی ان علامات کے مختلف لیولز ہیں۔ کچھ کو زبانی اور غیر زبانی امور میں نمایاں مشکلات ہو سکتی ہیں، جبکہ دوسروں کے پاس ریاضی یا فن جیسے مخصوص شعبوں میں اعلی درجے کی مہارتیں ہو سکتی ہیں

اس کی تشخیص کے لئے معالجین بچے کی سماجی مہارتوں، مواصلاتی صلاحیتوں اور کھیل کے طرز عمل کا اندازہ لگانے کے لیے معیاری اسکریننگ ٹولز اور سوالنامے استعمال کر سکتے ہیں۔ تشخیص میں بچے کے تعاملات اور طرز عمل کے براہ راست مشاہدات بھی اہم ہیں۔ ابتدائی تشخیص ضروری ہے، کیونکہ یہ بچے کی نشوونما اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ آٹزم کو مکمل طریقے سے ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے ساتھ بھی اچھی زندگی گزارنے کے لئے بچوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق بہت سے جینیاتی اور ماحولیاتی عناصر آٹزم کی وجہ بنتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دن بہت قیمتی ہیں، جس میں اس کی ذہنی نشو و نما مکمل ہوتی ہے، ان ہزار دنوں میں نو مہینے ماں کے بطن کے اندر اور پیدائش کے بعد کے دو سال شامل ہیں۔ اس عرصے میں نہ صرف ماں کی خوراک اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ بچے پر بھی خصوصی توجہ دینا چاہیے، اس کو ایسے مواقع دینے چاہیے جس سے اس کی بات چیت کی صلاحیت یا چیزوں کو سیکھنے کی طرف اس کا طرز عمل سمجھنے میں مدد مل سکے، اس کو قدرتی خوراک کھلائی جائے تاکہ ماحول میں موجود کوئی زہریلا مادہ اس کی ذہنی ترتیب کو متاثر نہ کرسکے، ماں باپ کسی بھی علامت کو محسوس کرنے کی صورت میں بلا تاخیر بچے کو کسی ماہر معالج کے پاس لے جائیں۔

اگر آپ کسی ایسے بچے یا اس کے والدین کو جانتے ہیں تو سوالات اور مشورے دے کر کسی کو تکلیف میں اضافہ نہ کریں

اس کا علاج انفرادی ضروریات کے مطابق علاج کیا جا سکتا ہے اس علاج میں مختلف تھراپی شامل ہوتی ہیں، سب سے ضروری تو ان چیزوں کو پہچاننا ہے جو بچے کے اضطراب کو بڑھاتی ہیں، پھر ایک محفوظ ماحول میں اس کی تھراپی کی جا سکتی ہے، جہاں وہ لوگوں سے گھلنا ملنا سیکھ سکے، اور باآسانی اپنی بات کرسکے، یہ ان بچوں کی حفاظت کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔

اگر ایک استاد کی حیثیت سے بات کروں تو آٹزم کے شکار طلبا کو تعلیم دینے کے لیے ایک موزوں نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی منفرد سیکھنے کی ضروریات اور طاقتوں کو پورا کرے۔ کلاس روم میں ایک منظم اور محفوظ ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، کیونکہ آٹزم کے شکار بہت سے طلباء معمول کے مطابق ترقی کرتے ہیں۔ بصری معاونت، جیسے شیڈول، چارٹ، اور گرافیکل یا تصویری وسائل، تفہیم اور مواصلات کو بڑھا سکتے ہیں۔ واضح، جامع زبان کا استعمال اور کاموں کو چھوٹے، قابل انتظام اقدامات میں توڑنے سے طلباء کو تصورات کو زیادہ موثر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسباق میں دلچسپیوں اور طاقتوں کو شامل کرنے سے طلباء کو مشغول کیا جا سکتا ہے اور انہیں سیکھنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، ہدایت یافتہ تعاملات اور باہمی تعاون کی سرگرمیوں کے ذریعے سماجی مہارتوں کو فروغ دینا ان کی ترقی کے لیے اہم ہے۔ طلباء کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنا اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھلا رابطہ برقرار رکھنا ان کے تعلیمی سفر میں مزید مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بچوں کی صلاحیت اور انفرادیت کو پہچان کر اس ہی رخ میں ان کی معاونت کی جا سکتی ہے، یہ بچے کوئی بھی ہنر سیکھ کر خود کو معاشرے کا فعال فرد بنا سکتے ہیں اور کسی پر بوجھ بنے بغیر بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS