ناول ”نِکّا“ (انیس احمد) کا تجزیاتی مطالعہ


ناول ”نکّا“ انیس احمد کی تخلیق ہے جو گزشتہ برس عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کا ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے۔ جدید دور کے مختصر ناولوں کے مقابلے میں پانچ سو گیارہ صفحات پر مشتمل یہ ”نِکّا“ اصل میں ایک بڑا ناول ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ پڑھت کے دوران یہ ناول ضخیم ہرگز محسوس نہیں لگتا۔ انیس احمد یوں کہانی سے کہانی نکالتے، کڑی سے کڑی ملاتے ہیں کہ ناول کو مکمل کیے بغیر چھوڑنا محال ہو جاتا ہے۔

جنوبی پنجاب کی تہذیب و ثقافت بالخصوص چولستان اور روہی کی زندگی کو اس ناول میں امر کر دیا گیا ہے۔ تپتا صحرا، بھوک، پیاس گرمی، ٹوپوں پر بنی جھگیاں اور کچے کوٹھے، ریت کے ٹیلوں پر دوڑتے بچے، ٹنڈ منڈ درخت، خشک جھاڑیاں، اس میں سرسراتے کالے، چھن چھن کرنے اونٹوں کی لمبی قطاریں، کچاوے میں بیٹھے خواتین، بچے اور بزرگ، مویشیوں کے اجڑ، روہیلے، کال بیلیے، لکڑہارے، کمہار، جوگی، خانہ بدوش، چنن پیر کا میلہ، بیلوں کی دوڑ، اونٹ کا رقص، خواجہ غلام فرید کی کافیاں۔ اس ناول میں روہی جیتا جاگتا دکھائی دیتا اور دھڑکتا سنائی دیتا ہے۔

ناول کا آغاز پہاڑوں سے اترتے ایک جوگی سے شروع ہوتا ہے جس کے اکتارے کی آواز سن کر خانہ بدوشوں کے بہت سے بچے اس کے آس پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں میں ایک چھوٹی سی بچی اور اس کے بھائی کو دیکھ کر جوگی کو اپنا بچپن اور بہن کر یمن یاد آ جاتی ہے۔ سلامو لکڑہارے کا گھرانا، امیر مائی اور تین بچوں ( کر یمن، فیضو اور نکا) پر مشتمل۔ جو اپنی غربت، بے بسی اور لاچاری ہر شے کو ”اللہ سائیں کی مرضی“ سمجھ کر راضی برضا ہے۔

ناول ”نکا“ ایک طنز ہے جو ہمارے معاشرے کی فرسودہ روایات، بالخصوص جاگیر دارانہ اور خانقاہی نظام کو ہدف بناتا ہے۔ ناول کی خاص بات یہ ہے تھیم کو قاری تک پہنچانے کے لیے ناول نگار نے ایک چھوٹے بچے نکے کو منتخب کیا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے دھیان ”اللہ میاں کے کارخانے“ کے جبران کی طرف بھی جاتا ہے۔ ”نِکّا“ ایک متجسّس روح ہے، جس کے ذہن میں ہر وقت سوال اُبھرتے رہتے ہیں، جب وہ یہ سوال پوچھتا ہے تو اپنے بڑوں سے گالیاں اور چھتر کھاتا ہے لیکن سوال کرنے سے بعض نہیں آتا۔ نکّا دادی کا لاڈلا ہے اس سے خرچی لیتا ہے اور سودے میں ٹکی بھی لگاتا ہے، سا را دن پھیتا دوڑائے پھرتا ہے۔ نکا جوگی بننا چاہتا ہے جو پہاڑوں میں اُڑ سکے وہ پہاڑوں میں اُڑ کر کیلاش پہاڑ پر جانا چاہتا ہے کیونکہ اس کی دادی بھی وہاں جا چکی ہے۔

ناول ”نکا“ میں طبقات میں منقسم معاشرے کو عمدگی سے پینٹ کیا گیا ہے۔ امیر اور غریب، طاقتور اور لاچار، اکثریت اور اقلیت کے عدم تو ازن اور بگاڑ کے ارد گرد بڑی خوبصورتی سے کہانی کو بُنا گیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”مسلمانوں میں بستی میں رہنا ہو تو بہتر ہے کہ آدمی مسلمان بن کر رہے اور ہندوؤں کی بستی میں ہندو۔ آسانی رہتی ہے۔“ (ص 160 )

اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے نکّے کی دادی سیتا سے بھاگ بھری بن جاتی ہے۔ رلیا رام کی بیٹی سیتا جو اپنے پِتا کے ساتھ کیلاش پربت جا چکی ہے، شادی کے بعد تقسیم کے فسادات میں سرحد پار پہنچ کر گامو کی بھاگ بھری بن جاتی ہے۔ اس نے اپنے کمرے میں سب سے چھپا کر اوپر کارنس پر کچھ مورتیاں بھی رکھی ہوئی ہیں، وہ بستی کے ویران، سنسان اور آسیب زدہ مندر میں پوجا کرتی ہے، نماز بھی پڑھتی ہے اور حج کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے اور سرحدیں بن جانے کے بعد اپنے گھر والوں کو بہت یاد کرتی ہے۔ بھاگ بھری کے مکالمے بہت جاندار ہیں :

”گامو سے کیلاش یاترا چلنے کی بات کرو تو کہتا ہے کاغذ چاہیے، ملے گا نہیں۔ تجھ سے حج کی بات کرو تو کہتا ہے کہ کا غذ چاہیے۔ ارے اس دھرتی پر کوئی ایسی جگہ بتاؤ جہاں کاغذ کے بنا ہی جایا سکتا ہے۔ عجیب کلجگ ہے بھائی۔ کل کو اوپر سے گزرنے والے پنچھیوں کو بھی کاغذ لانے کو بولیں گے، میں تو نہ بنواؤں کوئی کاغذ واغذ۔ میں تو ایسے ہی جاؤں گی“ (ص 355 )

وہ اپنی ضد پر قائم رہتی ہے اور بغیر کاغذ کے راکھ کی صورت پانی کی لہروں کے دوش پر اپنے آبائی وطن کو جاتی ہے۔ اس کی اس آخری اکھشا کو پورا کرنے کے لیے اس کے گامو کو کئی برس لگتے ہیں، جب وہ اس کی لاش کو قبر سے نکال کر جلا کر اسے مکتی دلاتا ہے اور خود بھی پُرسکون ہو جاتا ہے۔

ناول میں جاگیردارانہ نظام اور جعلی پیروں کے ناسور کو عمدگی سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ پیر عظام الدین جمال زادہ جو گدی نشین ہے اور علاقے کا با اثر وڈیرہ بھی اس نظام کا نمائندہ ہے جو اپنے مریدوں کی ہر شے حتی کہ خواتین کو بھی اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ سامو لکڑہارا اپنی بیوی امیر مائی کے ساتھ اولاد کے لیے دعا کرانے پیر صاحب کے پاس جاتا ہے، پیر صاحب امیر مائی کے ساتھ ساری رات وظیفہ کرتا ہے اور نتیجے میں ”نِکّا“ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح وڈیرہ گام صاحب اپنے کمیوں کی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ وہ نکے کے ماما سجاول کی شادی اپنے ایک ہاری کی بیٹی سے اس لیے کر دیتے ہیں کہ وہ سجاول کے ساتھ ہر وقت اسی کی حویلی میں رہے۔ کہنے کو تو وہ سجاول کی بیوی تھی لیکن وہ کبھی اسے میسر نہ آ سکی۔ وہ سجاول کی بہن امیر مائی کے ساتھ بھی یہی کر تا ہے۔ پیر صاحب کے بعد گام صاحب کی زیادتی کی وجہ سے امیر مائی گھٹی گھٹی رہنے لگتی ہے، وہ اس زہر کو اپنے جسم سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے جسم پر لگی گندگی کو اتارنے کے لیے با ر بار دریا پر جا کر نہاتی ہے، بالآخر اسی دریا میں ڈوب کر اس اپمان کا بدلہ خود سے لیتی ہے۔

اس کے علاوہ وڈیرہ شاہی کے ظلم، جبر، نا انصافیاں، غیر انسانی سزائیں اس ناول کی کہانی کا حصہ ہیں۔ کس طرح یہ پورا نظام اپنے مفادات کے پلر پر کھڑا ہے۔ طاقتور اپنے مفاد کے لیے پنچایت سے من مرضی کے فیصلے کراتے ہیں، جائیداد پر قبضہ کی غرض سے سے اپنی بہنوں بیٹیوں کی شادی قرآن سے کرتے ہیں۔ اور کمزور طبقہ اس سارے ظلم کو اللہ سائیں کی مرضی سمجھتے ہوئے چپ چاپ سہتا رہتا ہے۔ ونی ہونے والی رانو ایک مکالمہ ملاحظہ ہو:

” یہ اللہ کی مرضی۔ بھگوان کی اِچھا۔ ہم غریبوں، کمزوروں کے لیے ہی کیوں ہوتی ہے دادی، پیرو (ڈاکو) کے لیے کیوں نہیں۔“ (ص 322 )

نکّا ظلم کو ختم کرنا چاہتا ہے وہ جوگی بن کر رانو کو پیرو ڈاکو اور بالو کو اس کے ظالم ماما سے بچانا چاہتا ہے۔ پیر صاحب ایک میلے میں جب نکّے کو دیکھتے ہیں تو اس میں اپنی شبیہ دیکھ کر اسے اپنا وظیفہ یاد آتا ہے، بعد ازاں وہ نکّے کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتا ہے۔ نکّا سکول کالج جاتا ہے، یونیورسٹی میں آرکیالوجی کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے اور پڑھ لکھ کر ایک ذہین، قابل اور خوبرو نوجوان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کی کلاس فیلو روبینہ اسے اپنے بیوروکریٹ والد سے ملوانے کے لیے اپنے گھر بلاتی ہے جو اسے جمال زادہ سمجھتے ہیں۔ وہاں نکّا اپنی اصلیت بتا کر ، بے عزت ہو کر باہر نکلتا ہے تو عجیب ہیجانی کیفیت میں ہوتا ہے وہ ایک سبز روش پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیتا ہے اسے سامنے اپنی ماں دکھائی دیتی ہے دریا سے نکل کر جھگے کو جاتی، اب اس کے جسم پر قرمزی جوڑے کی بجائے سفید لباس تھا وہ پاس آ کر بولی:

”آ نکے! ماں کی گود میں سمٹ جا۔ یہ دنیا ظالموں کی ہے۔ نگل جائے گی تجھے۔“ (ص 471 )

اس کے بعد نکے کا وجود ہلکا پھلکا ہو گا روئی کا مانند۔ کوئی ملال کوئی رنج کوئی پچھتا وا نہیں۔ وہ اٹھ کر اپنے ہاسٹل کے راستے پر چل پڑا تو ایک درگاہ کے باہر ایک جوگی نظر آتا ہے وہ دنیا تیاگ کر اسی جوگی کے ہاں ٹک جا تا ہے اور ٹلہ جوگیاں جانے کی ضد کرتا ہے۔ جوگی بننے کے بعد نکّا ایک دن اپنی بستی کا رُخ کرتا ہے۔ یوں آغاز میں دکھائی دینے والے جوگی کی کہانی کا دائرہ بظاہر مکمل ہوتا ہے۔ یہ ایک بے انت ناول ہے، ایک بھرپور ناول ہے۔ اُردو ناول کو جو بلندی اور اُٹھان تقسیم سے قبل قرۃ العین حیدر نے عطا کی تھی، بعد میں اس کو برقرار رکھنے میں عبد اللہ حسین، انتظار حسین، شوکت صدیقی جیسے تخلیق کاروں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ لیکن پچھلی کچھ دہائیوں سے ایک مخصوص فضا کے زیر اثر ناول محض متصوفانہ واردات کے بیان تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ اس فضا میں انیس احمد کے ”نکّا“ کا ورود بہت خوش آئند ہے۔ جس میں انیس احمد نے تھیم پر توجہ دیتے ہوئے ناول فن کو قربان نہیں کیا اور نا ہی ناول کو محض فنّی تجربہ بنا کر تھیم اور کہانی سے محروم کیا ہے۔

Facebook Comments HS