تہوار، تجارت اور کنزیومرز: تاریخی حکمتِ عملی سے موجودہ دور تک


رمضان، عید، کرسمس، دیوالی، بیساکھی اور دیگر تہواروں پر کنزیومرز خریداری کے لیے زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور یہ مواقع برانڈز اور دُکانداروں کے لیے اپنی مصنوعات فروخت کرنے اور گاہکوں کا اعتماد جیتنے کا بہترین وقت ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر کاروباری حضرات کنزیومرز کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مصنوعی قیمتوں میں اضافہ، جعلی ڈسکاؤنٹ اور مارکیٹنگ کے فریب کے ذریعے وقتی طور پر تو فروخت بڑھا لی جاتی ہے، مگر طویل المدتی نقصان برانڈ کو ہی ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں، برانڈز ان مواقع کو کنزیومرز کی دلجوئی اور برانڈ لائلٹی بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ برانڈز کسی چیز کی اصل قیمت سے دگنی قیمت لکھ کر اس پر ’50 % ڈسکاؤنٹ‘ کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک چیز کی اصل قیمت 1000 روپے ہے، مگر اسے 2000 روپے ظاہر کر کے 50 % ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے، تاکہ کنزیومر یہ سمجھے کہ اسے بہت بڑی بچت مل رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں، وہ وہی چیز معمولی سی رعایت پر خرید رہا ہوتا ہے۔ اس رویے کے نتیجے میں کنزیومرز کا اعتماد کم ہوتا ہے اور جب وہ بعد میں ان قیمتوں کا موازنہ کرتے ہیں یا حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں، تو وہ اس برانڈ پر دوبارہ بھروسا نہیں کرتے۔

یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تہواروں کے دوران اصل معنوں میں کنزیومرز کے لیے بڑی رعایتیں دی جاتی ہیں، تاکہ انہیں خریداری میں آسانی ہو۔ اس عمل کو Festive Sales Marketing کہا جاتا ہے، جو برانڈ اور گاہک کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکی بلیک فرائیڈے سیلز یا یورپی کرسمس ڈسکاؤنٹ حقیقی رعایتیں دیتے ہیں، جن میں بڑے برانڈز کنزیومرز کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی قیمتیں کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنزیومرز ان برانڈز سے جُڑے رہتے ہیں اور ہر سال ان کی آفرز کا انتظار کرتے ہیں۔

تاریخ میں بھی اِن تہواروں کے حوالے سے مختلف حکومتوں نے مختلف حکمتِ عملی اپنائیں۔ برعظیم پاک و ہند میں مغل حکومتوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات کیے۔ خاص طور پر مغل بادشاہ اکبر اعظم نے ایک ایسا ”رعایتی نظام“ قائم کیا جس کی مثال آج کے دور میں کسی حکومتی سطح پر نہیں ملتی۔ اس ”سلطانی رعایت“ نظام کا مقصد عوامی فلاح و بہبود تھا، جس کے تحت مختلف شعبوں میں عام شہریوں کو سہولتیں دی جاتی تھیں، خاص طور پر مذہبی اور ثقافتی تہواروں کے موقع پر۔

اکبر نے مذہبی تہواروں، خاص طور پر عیدین، نوروز، دیوالی اور دیگر مواقع پر زرعی ٹیکس اور دیگر محصولات میں رعایت دی۔ تاجروں کو حکم تھا کہ تہواروں کے دوران اشیاء کی قیمتیں نہ بڑھائیں، تاکہ ہر طبقہ ضروریات زندگی خرید سکے۔ سرکاری افسران (محتسب) بازاروں کی نگرانی کرتے تاکہ ناجائز منافع خوری نہ ہو۔ یتیموں، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے وظائف اور راشن کی تقسیم کی جاتی۔

مسافروں اور نادار افراد کے لیے سرائے (مسافر خانے ) اور لنگر خانے قائم کیے گئے۔ مغل حکومت کے دور میں تقریباً 10,000 سرائے قائم کیے گئے جن میں سے موجودہ پاکستان میں تقریباً 1200 سرائے بنائے گئے۔ اکبر بادشاہ نے موجودہ پاکستان میں تقریباً 300۔ 400 سرائے بنائے۔ مغل دور میں سرائے صرف ہوٹل یا آرام گاہیں نہیں تھیں بلکہ یہ تجارتی، سماجی اور حکومتی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی بدولت تجارت اور معیشت کو فروغ ملا، مسافروں کو آرام و تحفظ ملا اور حکومت کا نظام بھی موثر انداز میں چلتا رہا۔

آج بھی کئی مغل سرائے کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں، جو اس دور کی بہترین حکمت عملی اور عوامی فلاح و بہبود کی مثال ہیں۔ پاکستان میں موجود مغل دور کی مشہور سرائیں میں سرائے عالمگیر (گجرات) ، سرائے روہتاس (جہلم) ، سرائے بہرام (گجرات) ، سرائے سدھو (خانیوال) ، سرائے ڈھولر (چکوال) ، سرائے پنڈ دادن خان (جہلم) ، سرائے کالا شاہ کاکو (شیخوپورہ) ، سرائے شاہجہانی (ٹھٹھہ، سندھ) ، سرائے راوی (لاہور) ، سرائے سرسہ (سیالکوٹ) اور سرائے پشاور (پشاور) شامل ہیں۔

یہ سرائیں مسافروں، تاجروں اور قافلوں کے لیے قیام گاہوں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں اور انہیں پانی، کھانے، جانوروں کے لیے اصطبل اور بعض جگہوں پر مساجد، مندر اور دیگر مذاہب کے لیے عبادت کی سہولیات بھی موجود تھیں۔ اکثر میں دو کھانے بنانے والے ہوتے تھے، ایک ہندو اور ایک مسلم جو کہ فری کھانا بنا کر کھلاتے تھے، جانوروں کے لیے چارہ بھی مفت ہوتا اور رہائش بھی بغیر کسی قیمت کے دی جاتی تھی۔ یہ ایک ایسی جگہ ہوتی جس سے مقامی تجارت بھی بہتر ہو جاتی اور تاجروں اور اُن کی سواریوں جیسے گھوڑے اور اونٹوں کی تھکاوٹ وغیرہ کا بھی انتظام ہو جاتا۔ لاہور فجر کے وقت کھلتا اور مغرب کے وقت تمام دروازے بند ہو جاتے لاہور کے باہر سرائے قائم تھی جیسا کہ راوی کے پار جہاں آج کل مقبرہ جہانگیر ہے وہاں کئی کمرے تھے جس میں تاجر ٹھہر جاتے اور رات کو جس پہر بھی پہنچتے اُن کے لئے سرائے میسر ہوتی اور جب لاہور کے دروازے کھل جاتے وہ لاہور میں خریداری کرتے۔

آج کے کاروباری اداروں کو چاہیے کہ مصنوعی ڈسکاؤنٹس اور دھوکہ دہی کے بجائے ایمانداری کی پالیسی اپنائیں۔ جو کاروبار کنزیومرز کا اعتماد جیت لیتے ہیں، وہی طویل مدت میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مصنوعی ڈسکاؤنٹس، جھوٹے پروموشنز اور کنزیومرز کو دھوکہ دینے کے بجائے اصل رعایتوں کے ذریعے اپنے برانڈ کو مضبوط بنایا جائے۔ کیونکہ کامیاب برانڈ وہی ہوتے ہیں جو خواب نہیں، بلکہ حقیقت بیچتے ہیں!

Facebook Comments HS